پاکستان میں گاڑی درآمد کرنے کے کُل اخراجات

japan-cars-for-export

میں نے اپنے پچھلے مضمون میں قارئین کو بتایا تھا کہ جاپان سے پاکستان گاڑی درآمد کیسے کی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد میں نے گاڑی درآمد کرنے کے فوائد و نقصانات کے حوالے سے بھی آپ کو آگاہ کیا۔ ان مضامین کو پڑھنے والے بہت سے قارئین نے دریافت کیا کہ پاکستان گاڑی درآمد کرنے کے دوران کس مرحلے پر کتنے اخراجات آتے ہیں۔ تو آج میں آپ کی خدمت میں تمام مراحل کی تفصیلات بمع اخراجات فراہم کر رہا ہوں جو جاپانی مرکز سے اپنے گھر کی دہلیز تک گاڑی منگوانے کے دوران پیش آتے ہیں۔

اگر آپ گاڑی کسی آن لائن نیلامی مرکز سے خرید رہے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو گاڑی کی نقل و حمل (C&F) کے اخراجات سے متعلق معلومات کی ضرورت ہے۔ چونکہ ذرائع نقل و حمل کے اخراجات کا تعلق براہ راست گاڑی کی قیمت سے ہے، اس لیے جتنی زیادہ مہنگی گاڑی ہوگی یہ اخراجات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔

1

مثال کے طور پر آپ نے 2012 ماڈل کی 660 سی سی گاڑی ساڑھے 6 لاکھ جاپانی ین میں خریدی۔ تو درج بالا فہرست کے مطابق اس کے نقل و حمل پر 1 لاکھ 10 ہزار جاپانی ین خرچ ہوں گے۔ یہ ادائیگی کرنے کے بعد ہی آپ کی گاڑی کراچی کی بندرگاہ روانہ کی جائے گی۔ کراچی کی بندرگاہ پر گاڑی پہنچنے کے بعد آپ کے سامنے کسٹم ڈیوٹیز کا مرحلہ آئے گا۔ مالی سال 2015-16 کے مطابق درآمد شدہ گاڑیوں پر عائد ڈیوٹیز کی تفصیلات یہ ہیں:

2

ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر حکومتِ پاکستان خصوصی رعایت فراہم کرتی ہے۔ ان گاڑیوں کو پاکستان منگوانے پر لاگو ہونے والی ڈیوٹیز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

3

یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ درج بالا ڈیوٹیز کا اطلاق حکومت کی صوابدید پر ہے اور وہ جب چاہے ان میں رد و بدل کا اختیار رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدی ڈیوٹیز میں دیگر اخراجات مثلاً چالان، ایکسائز کی دستاویزات، بندرگاہ کا کرایہ یا دیگر ساز و سامان وغیرہ شامل نہیں ہیں۔ عام طور پر دیگر معمولی معاملات نمٹانے میں تقریباً 50 تا 60 ہزار روپے اخراجات آتے ہیں۔

سال 2012 کی 660 سی سی گاڑی کے لیے کسٹم ایجنٹس عموماً 12 تا 18 ہزار روپے معاوضہ لیتے ہیں۔ تمام تر معاملات مکمل ہوجانے کے بعد درآمد شدہ گاڑی پر ہونے والے اخراجات کی تفصیل کچھ یوں بنتی ہے (آسانی سے سمجھنے کے لیے ہم یہاں 1 جاپانی ین کو 1 پاکستانی روپے سے تعبیر کر رہے ہیں):
گاڑی کی قیمت: 6,50,000 روپے
نقل و حمل: 1,10,000 روپے
درآمدی ڈیوٹی برائے 2012 ماڈل 660 سی سی گاڑی: 3,41,403 روپے
دیگر اخراجات بشمول چالان، ایکسائز و دیگر کاغذات کی تیاری وغیرہ: 50,000 روپے
کسٹم ایجنٹ کا معاوضہ: 15,000 روپے
پاسپورٹ کی فیس: 10,000 روپے
کراچی سے کسی اور شہر گاڑی منگوانے کا خرچہ: 15,000 روپے
اخراجات کا مجموعہ: 11,91,403 روپے

بندرگاہ پر گاڑی پہنچ جانے کے بعد خریدار کے لیے لازمی ہے کہ وہ جلد از جلد تمام مراحل طے کر کے اپنی گاڑی بندرہ گاہ سے باہر لے جائے۔ بصورت دیگر بندرگاہ پر گاڑی کھڑی رہنے کے کچھ روز (تقریباً 15 دن) اس پر فی دن کرایہ لگا دیا جائے گا جسے گاڑی کے نئے مالک نے ادا کرنا ہوگا۔ درج بالا اخراجات میں بندرگاہ کے کرائے اور دیگر غیر قانونی معاملات (رشوت وغیرہ) کی مد میں خرچ ہونے والی رقم شامل نہیں کی گئی۔

گاڑی درآمد کرنے پر ہونے والے اخراجات دیکھ کر آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا استعمال شدہ جاپانی گاڑی آپ کے بجٹ میں آجائے گی یا پھر نئی مقامی گاڑی لینا زیادہ بہتر رہے گا۔ گوکہ بیرون ملک سے خود گاڑی منگوانے کا عمل کافی مہنگا ہے لیکن اس طریقے میں آپ کو گاڑی کی ہر ہر تفصیل اور اصلی حالت کا اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے۔ جو لوگ نقل و حمل کے اخراجات، کسٹم ایجنٹ کا معاوضہ بچانے کے چکر میں ایک ساتھ کئی گاڑیاں منگوانتے ہیں انہیں کافی بچت ہوجاتی ہے جس سے کاروباری افراد منافع بھی کماتے ہیں۔

اسی سلسلے کے اگلے مضمون میں قارئین کوسستی گاڑیاں درآمد کرنے سے متعلق آگاہ کروں گا تاکہ محدود بجٹ والے افراد بھی گاڑی خریدنے کا خواب پورا کرسکیں۔

Shaf Younus

I'm an Auto Enthusiast, a Student of Computer Science and above all, Citizen of Pakistan.

Top