استعمال شدہ گاڑی کی جانچ؛ دھوکے باز مکینک سے بچیں، کار شیور آزمائیں!

pakwheels car sure

بلاشبہ پاکستان میں گاڑیوں کا شعبہ اپنے بہترین دور سے گزر رہا ہے۔ صرف نئی گاڑیاں ہی نہیں بلکہ درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اس سے جہاں مقامی کار ساز اداروں کو قابل ذکر فوائد حاصل ہورہے ہیں وہیں گاڑیوں کی درآمد اور فروخت سے وابستہ افراد اور ادارے بھی فیضیاب ہورہے ہیں۔

اگر آپ کو کبھی استعمال شدہ گاڑی لینے کا تجربہ ہوا ہے تو یقیناً آپ اس دوران پیش آنے والی مشکلات سے ضرور باخبر ہوں گے۔ استعمال شدہ گاڑی چاہے مقامی تیار شدہ ہو یا ہے یا بیرون ملک سے درآمد کی گئی ہو، دونوں ہی کی خریداری کرتے ہوئے باریک بینی سے جائزہ لینا لازم ہے۔ فروخت کرنے والی کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی گاڑی کے ہر عیب پر پردہ ڈال کر اچھی قیمت وصول کرے۔ پھر خریدار کو بعد میں کوئی مشکل یا پریشانی پیش آتی ہے تو بے شک آیا کرے۔۔۔ اس سے بھلا اس کا کیا نقصان؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گاڑی خریدنے کے دوران دھوکے سے بچنے کا حل کیا ہے؟ کیا ہم اس شخص پر بھروسہ کریں کہ جو اپنی گاڑی کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہو یا پھر کسی ایسے شخص یا ادارے کی خدمات حاصل کریں جو غیرجانبدار رہتے ہوئے استعمال شدہ گاڑی کی جانچ کرے اور اس کی مناسب قیمت کا بھی مشورہ دے سکے؟ آئیے اس ضمن میں چند ممکنہ طریقہ کار پر بات کرتے ہیں:

مقامی مکینک سے مدد لینا
اکثر لوگ گاڑی خریدتے ہوئے ایسے مقامی مکینک کو ساتھ لے جانا مناسب سمجھتے ہیں کہ جس پر بھروسہ ہو۔ اگر مقامی مکینک مدد سے انکار کردے تو پھر ہم اپنے کسی قریبی دوست یا عزیز کے ذریعے دوسرے مکینک سے رابطہ کرتے ہیں۔ لیکن بیشتر مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ مکینک کو ساتھ رکھنے کے باوجود لوگ ایسی گاڑی خرید بیٹھتے ہیں جو بعد میں ان کے لیے رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آئیے اس کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

گاڑی فروخت کرنے والے اور مکینک کی ملی بھگت

بدقسمتی سے اکثر مکینک صاحبان پیسے اور تعلقات کے زعم میں آکر گاڑی کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ مکینک صاحبان گاڑیاں فروخت کرنے والے افراد یا اداروں کو پہلے ہی سے جانتے ہیں اور ان سے ہر گاڑی کے عوض اپنا کمیشن بھی طے کرچکے ہوتے ہیں۔ جن کاروباری افراد سے ان کا کمیشن طے نہیں ہو پاتا یہ ان کی گاڑیوں کو کبھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھی گاڑی پر بھی بلاوجہ اعتراض کر کے خریداری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ یا پھر مکینک صاحبان خریدار کو اس سے زیادہ اچھی گاڑی دلوانے کا لالچ دے کر اپنے کسی ایسے جان پہچان والے کے پاس لے جاتے ہیں جہاں سے انہیں کمیشن کی توقع ہوتی ہے۔

مقامی مکینک کا محدود سوچ

دور جدید کی گاڑیاں ایک بہت بڑی پیچیدہ مشینوں سے کم نہیں ہیں اس لیے انہیں سمجھنا کسی فرد واحد کے باس کی بات نہیں۔ اس کے لیے ایسے ادارے کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے کہ جن کی ٹیم میں مکینکی، تکنیکی اور دیگر تمام اہم امور کے ماہرین شامل ہوں۔ ٹیم کا ہر فرد اپنے متعین کردہ کام کی جانچ کرے مثلاً مکینک صرف مکینکی اعتبار سے گاڑی کو دیکھے، رنگ (پینٹ) کا ماہر اصلی اور جعلی رنگوں میں تفریق کرے اور الیکٹریشن گاڑی کے برقی حصوں کی جانچ کرے اور ان کی کارکردگی سے متعلق تفصیل فراہم کرے۔ لہٰذا فرد واحد پر بھروسہ کر کے اپنا قیمتی سرمایہ خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ استعمال شدہ گاڑی خریدتے ہوئے ہمیشہ گاڑیوں کے مختلف ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔

mechanic-urdu-quote

پاک ویلز کار شیور

پاکستان میں آن لائن گاڑیوں کی خرید و فروخت کا معتبر نام پاک ویلز اب کار شیور کی منفرد سروس بھی فراہم کر رہا ہے۔ اس سروس کا مقصد پاکستان بھر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی خریداری کے دوران پیش آنے والے مسائل کا آسان اور غیر جانبدار حل فراہم کرنا ہے۔ گاڑی خریدنے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کار شیور کی مدد سے ایک ہی چھت کے نیچے تجربکار مکینک، بہترین الیکٹریشن اور کار پینٹ جانچنے کے ماہرین کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ کار شیور ٹیم کی خدمات محض ایک فون کال یا پھر آن لائن فارم پُر کر کے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ویلز کار شیور کے ذریعے استعمال شدہ گاڑی جانچنے کا آسان طریقہ

pakwheels carsure

پاک ویلز کی جانب سے کار شیور سروس دارالحکومت اسلام آباد سمیت راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں فراہم کی جارہی ہے۔ مستقبل میں اسے ملک کے دیگر بڑے شہروں تک وسعت دینے کے لیے بھی تیزی سے کام کیا جارہا ہے۔

لیکن صرف CarSure ہی کیوں؟
٭ وقت کی بچت – صرف نصف گھنٹے میں گاڑی کی مکمل جانچ
٭ کم قیمت – صرف 2 ہزار روپے کے عوض کسی بھی گاڑی کی جانچ
٭ تجربکار ٹیم – مکینک، الیکٹریشن، پینٹ جیسے تمام امور کے لیے مختص افراد
٭ جامع و مفصل رپورٹ – 200 سے زائد چیک پوائنٹس پر مبنی مکمل رپورٹ

Sameer Akbar Malik

Sameer is an automotive enthusiast. He holds a degree in English Literature from University of the Punjab and contributes occasionally to PakWheels blog.

Top