کیا آپ کی گاڑی ‘الارم سسٹم’ کے ساتھ محفوظ ہے؟

car_alarm_system

پاکستان میں اب نئی گاڑیاں انشورنس کے ساتھ ملتی ہیں اور کچھ میں تو ایموبلیزر بھی لگا ہوا ہوتا ہے جس کا مقصد گاڑیوں کے پہیوں کی حفاظت ہے۔ البتہ گاڑیاں رکھنے والے اکثر افراد حفاظت کے لیے الارم سسٹم پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں جو عام سے اسٹور پر بھی دستیاب ہوجاتا ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ الارم سسٹم کا نظام آپ کی گاڑی کو کیسے محفوظ بناتا ہے؟ آئیے اس پر کچھ نظر ڈالتے ہیں۔

گاڑیوں کی حفاظت کا روایتی نظام محض ایک برقی پرزہ ہے جو گاڑی کی غیر معمولی لرزش کو جانچتا ہے اور اگر کوئی گڑبڑ محسوس ہو تو گاڑی کا انجن بند کردیتا ہے اور آواز کے شور سے مطلع کرتا ہے۔ کچھ جدید آلات میں ان کو ہائی جیک کرنے سے بچاؤ کا نظام بھی لگایا جاتا ہے۔ الارم سسٹم اس وقت زیادہ کارآمد ہوتا ہے جب آپ کی گاڑی عام سڑک پر کھڑی ہو جہاں کچھ لوگ ہر وقت موجود رہتے ہوں اور وہ کسی شخص کو گاڑی میں چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھ سکیں یا الارم بجنے کی صورت میں اس کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ لیکن اگر آپ کی گاڑی گیراج میں یا کسی ویران جگہ کھڑی ہے جہاں شاذ و نادر ہی کسی کا گزر ہوتا ہے تو ممکن ہے یہ جدید آلات بھی گاڑی کی حفاظت نہ کرسکیں۔

دراصل یہ نظام بہت سادہ کام کرتے ہیں۔ اگر آپ کی گاڑی سے کوئی چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو یہ نظام الارم بجانے کے ساتھ اگنیشن سسٹم کو پہنچنے والی پاور کو بھی منقطع کردیتا ہے۔ اور اس کے بعد تمام کام یہ الارم سسٹم ہی چلاتا ہے۔ پھر جب یہ سسٹم بند ہوتا ہے تو اگنیشن سسٹم کو پہنچنے والی پاور بحال ہوجاتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ نظام اسٹیئرنگ کے نیچے لگایا جاتا ہے جس تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے نہ محنت۔ اگر گاڑی کسی ویران جگہ پر کھڑی ہے تو کوئی بھی بدنیت شخص اس پورے نظام کو چند سیکنڈز میں صرف تار کاٹنے کی قینچی سے بے کار کرسکتا ہے۔

کچھ دن پہلے میں ایک جدید ہینڈ فری الارم سسٹم کی جانچ کر رہا تھا تو یہ جان کر مجھے حیرت ہوئی کہ بغیر چابیوں اور قدرے بہتر سینسز کا حامل اس نظام میں بھی تاروں کا استعمال بالکل ویسا ہی استعمال کیا جا رہا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اصل مسئلہ الارم سسٹم کا نہیں بلکہ اس تکنیک کا ہے جس کو استعمال کر کے یہ گاڑیوں میں لگایا جاتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ گاڑی میں کسی دوسری و محفوظ جگہ لگانے اور تاروں کی نسبتاً بہتر سیٹنگ سے عام الارم سسٹم کو بھی مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ‘ماہرین’ کے پاس اس بارے میں سوچنے کے لیے وقت ہے؟

M. Fahad Ghouri

I am an Electrical Engineer by profession but automotive field has been my passion from birth. I have been working on almost every aspect of vehicles along with many DIY projects.

Top