نان-فائلرز پر پابندی کی وجہ سے گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد کمی


گاڑیوں کی بکنگ میں 30 فیصد کمی آئی، ایکسپریس ٹریبیون بتاتا ہے۔

بکنگز میں یہ کمی نان-فائلرز کو گاڑیاں خریدنے سے روکنے کی وجہ سے آئی۔ آٹوموبائل شعبے کے ذرائع کے مطابق یہ بڑی کمی گاڑیوں کی فروخت کو بہت متاثر کرے گی، جو رواں سال کے اختتام تک 1,68,000 سے 2,40,000 یونٹس تک جا رہی ہے۔

نان-فائلرز پر پابندی لگانے کا معاملہ رواں سال کافی بحث کا موضوع بنا۔ پچھلی حکومت کی جانب سے لگائی گئی اس پابندی کا اطلاق یکم جولائی 2018ء سے ہوا، تاکہ ٹیکس بیس کو بڑھایا جائے یعنی ملک میں فائلرز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ لیکن اس کے برعکس یہ آٹو سیکٹر کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوئی جس کی ہر ماہ فروخت کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے اعداد و شمار کے مطابق گاڑیوں کی فروخت سال بہ سال میں 18 فیصد کم ہوئی ہے۔

مزید برآں، ذرائع نے کہا کہ “پابندی، اگر برقرار رہتی ہے، تو 2,500 اسمبلر ملازمتوں کی کمی کا باعث بنے گی جبکہ براہ راست یا بالواسطہ وینڈر پلانٹس کے لیے کام کرنے والے 12,500 افراد بے روزگاری کا سامنا کریں گے۔”

البتہ مجوزہ مالیاتی بجٹ2018-2019ء میں، نئی حکومت نےنان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر پابندی کو واپس لے لیا ہے اور 1800cc انجن سے زیادہ گنجائش رکھنے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ٹیکس 10 فیصد سے 20 فیصد تک بڑھانے کی تجویز کردی ہے۔

دیکھتے ہیں کہ آئندہ چند ماہ میں پابندی کا خاتمہ آٹو شعبے پر کیسے اثرات ڈالتا ہے۔ آٹو سیکٹر کی تازہ ترین خبروں کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے۔


Top