حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو کارڈ ڈیلرز ہڑتال کریں گے


لاہور کے کار ڈيلروں کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں کی جانب سے اُن کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ مال روڈ پر غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کریں گے۔ ان کے مطالبات گاڑیوں کی امپورٹ کے حوالے سے پالیسیاں اور ٹیکس کے مختلف معاملات کے حوالے سے ہیں۔ لاہور کار ڈیلرز فیڈریشن کے مطابق موجودہ حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، تب سے ان کے مسائل میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ کار ڈیلروں کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے مناسب اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مقامی آٹو انڈسٹری کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ گاڑیوں کی گھٹتی ہوئی طلب نے نئی آٹو کمپنیوں کی بھی حوصلہ شکنی کی ہوگی۔ 

لاہور کار ڈیلرز فیڈریشن کا کہنا ہے کہ آٹوموبائل سیکٹر تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ کار ڈیلروں کے لیے مواقع کم ہونے کی وجہ سے تقریباً 35 فیصد کار شو رومز بند ہو چکے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے ایک مظاہرہ ہوا تھا کہ جس میں کار ڈیلروں نے اپنے مسائل کے حل کا مطالبہ کیا تھا۔ تب وزیر صنعت نے یقین دلایا تھا کہ ان کے مطالبات پورے کیے جائیں گے؛ لیکن ان کے مسائل حل کرنے کی سمت کوئی قدم نہیں بڑھایا گیا۔ اِس وقت جو مسائل ہیں ان کا تعلق پنجاب ریونیو اتھارٹی اور ایکسائز اینڈ  ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ سے ہے۔ 

کار ڈیلرز نے  وزارت صنعت کی بھی مذمت کی کہ جس نے یقین دلایا تھا کہ وہ FBR کے سامنے ٹیکسیشن کے معاملات پر بات کرے گی لیکن وہ ایسا کرنے میں بھی ناکام رہی۔ کار ڈیلرز نے کہا کہ حکومت نے بڑی ڈیوٹی لگا کر گاڑیوں کی امپورٹ تقریباً بند کردی ہے۔ پھر مقامی سطح پر بننے والی گاڑیوں کو بھی بڑھتے ہوئے ٹیکس کا سامنا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گھٹتی ہوئی قدر نے حالات مزید خراب کردیے کہ جس نے پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا۔ 

لاہور میں کار ڈیلروں کی ممکنہ ہڑتال کے حوالے سے اپنے رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کار ڈیلروں کی ہڑتال جائز ہے؟ 


Google App Store App Store

Top