استعمال شدہ اور نئی گاڑیوں کی درآمد میں حائل رکاوٹ کا خاتمہ


وزارت تجارت نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر استعمال شدہ اور نئی گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں ترمیم کردی ہے۔ نیا SRO دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کی امپورٹ پالیسی ہی بحال کی گئی ہے اور گزشتہ SRO کو جزوی طور پر معطل کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے صنعتی ماہر جمبو انٹرنیشنل کلیئرنگ ایجنسی کے ارغان طاہر سے رابطہ کیا، جن کا کہنا ہے کہ پرانی استعمال شدہ کاریں درآمد کرنے کی پالیسی بحال ہو چکی ہے۔

امپورٹ پالیسی میں ترمیم کا نتیجہ اور SRO 1067 کا جزوی خاتمہ:

  • گاڑیوں کی درآمد دوبارہ شروع ہوگئی
  • استعمال شدہ کاریں اب پرانی امپورٹ پالیسی کے تحت ملک میں درآمد کی جا سکیں گی۔ لوگوں کو بیرون ملک سے گاڑیوں کی ڈیوٹی کی ادائیگی کا انتظام کرنے کی ضرورت نہیں – یہ وہ شرط ہے جس نے گاڑیوں کی درآمد کو مشکل بنا دیا تھا۔ سادہ الفاظ میں ملک میں گاڑیوں کی درآمد میں موجود رکاوٹ ہٹا دی گئی ہے۔
  • 1800cc سے کم گنجائش رکھنے والی نئی گاڑیاں بھی پرانی امپورٹ پالیسی کے تحت ملک میں آئیں گی؛ البتہ یہ ذگرکرنا ضروری ہے کہ SRO 261 کے اجراء کے باوجود 1800cc یا اس سے زیادہ اور 4×4 گاڑیاں اب بھی SRO 1067 کے تحت درآمد ہوں گی – یعنی ان کی ڈیوٹی اور ٹیکس دونوں باہر سے آنے چاہئیں؛ چاہے پاکستانی شہری انتظام کریں یا مقامی، بینک ان کیشمنٹ سرٹیفکیٹ کے ذریعے مقامی کرنسی سے بیرون ملک ترسیلِ زر ظاہر کرنا ہوگی۔
  • کاروں پر پریمیئم میں کمی ہوگی، جو امپورٹ پالیسی میں تبدیلی کے بعد بہت زیادہ بڑھ گیا تھا اور جس کی وجہ سے ہزاروں گاڑیاں بندرگاہ پر پھنسی ہوئی ہیں۔
  • کراچی بندرگاہ پر پھنسی ہوئی ہزاروں گاڑیاں اب پرانی امپورٹ پالیسی کے تحت کلیئر کروائی جا سکیں گی۔

حکومت نے پچھلے سال SRO 1067(1)/2017 جاری کیا تھا، اور حکام کے مطابق یہ گفٹ، بیگیج اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس جیسی استعمال شدہ کاروں کی درآمدی اسکیموں کو مضبوط کرنے اور ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے لیے جاری کیا گیا تھا۔ لیکن SRO کے اجراء کے بعد کئی استعمال شدہ گاڑیوں کے کئی مقامی درآمد کنندگان نے اسے حکومت کی جانب سے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی بندش سمجھا۔ حکومت نے اس کی تردیدکی اور زور دیا کہ یہ پروپیگنڈا ہے۔ البتہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کی کہ امپورٹ پالیسی کی اچانک تبدیلی سے ملک میں گاڑیوں کی درآمد مشکل ہوگئی اور ان کی سپلائی بھی متاثر ہوئی؛ لگ بھگ 10 ہزار گاڑیاں بندرگاہ پر پھنس گئی، جبکہ مقامی سطح پر بنائی جانے والی گاڑیوں پر پریمیئم بھی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

تفصیلی رپورٹ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Comments are not currently available for this post.

Top