روپے کی گھٹتی قدر، گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان


تیار ہو جائیں کہ ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کا اشارہ انڈس موٹر کمپنی کے CEO علی اصغر جمالی نے دیا ہے۔

سوموار 16 جولائی 2018ء کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح تبادلہ 127.75 روپے تک جا پہنچی۔ جب بھی گاڑیاں بنانے والے مقامی ادارے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں تو ان کی جانب سے پہلی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر بیان کی جاتی ہے، جو گاڑیوں کی اضافہ شدہ قیمتوں کا سبب بنتی ہے۔ اس رحجان کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کاروں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے CEO انڈس موٹر کمپنی علی اصغر جمالی نے قیمتوں میں اضافے کا اشارہ دیا جب انہوں نے کہا کہ اگر روپے کی قدر میں کمی اسی طرح ہوتی رہی تو اس سے ملک میں تمام چیزیں متاثر ہوں گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوری 2018ء سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں 17 روپے کی کمی آ چکی ہے۔

رواں سال گاڑیاں بنانے والے تقریباً تمام مقامی ادارے پہلے ہی اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں 3 سے 4 مرتبہ اضافہ کر چکے ہیں، اس لیے اگر وہ ایک مرتبہ پھر قیمتوں میں تبدیلی کریں تو حیران کن نہیں ہوگا۔

مزید برآں، یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ جون 2018ء میں گاڑیوں کی فروخت میں سال میں دوسری بار کمی ملاحظہ کی گئی اور اب روپے کی گھٹتی ہوئی قدر کے ساتھ اس میں مزید کمی ممکن ہوگی۔ روپے کی قدر میں کمی کے علاوہ حکومت کی جانب سے نان-فائلرز کو گاڑیاں خریدنے سے روکنا بھی جون 2018ء میں گاڑیوں کی فروخت میں کمی کی ایک وجہ ہے۔

ان سائٹ سکیورٹیز ہيڈ آف ریسرچ جناب ذیشان افضل نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی مقامی سطح پر بننے والی گاڑیوں کے مقابلے میں درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمت پر زیادہ اثر ڈالے گی۔ بکنگ آرڈرز دیکھیں تو لگتا ہے کہ اب قیمتیں نہیں بڑھیں گی، البتہ ایسا وقت آئے گا جب صارفین کو قیمت میں بہت زیادہ اضافے کی وجہ سے نئی گاڑیاں خریدنے میں مشکل ہوگی۔

اس بارے میں اپنی رائے نیچے تبصروں میں دیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top