مالی سال 2016 کی پہلی ششماہی: گاڑیوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ

1hfy16

گزشتہ سال کا اختتام گاڑیوں کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے بہت خوش کن رہا ہے۔ مالی سال 2016 کے پہلے ششماہی نتائج پر نظر ڈالیں تو شعبے میں جاری ترقی کا تسلسل نظر آئے گا جس کے آئندہ سال جاری رہنے کی بھی امید ہے۔ ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کی آخری ششماہی میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کی شرح 15 فیصد رہی تو مجموعی طور پر 2 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی فروخت کے امکانات ہیں۔

مالی سال 2016 کےابتدائی چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 89,824 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ یہ تعداد گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان آٹومیٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2015 میں صرف 58,727 گاڑیاں فروخت ہوئیں تھیں۔

monthly-figures

موجودہ مالی سال کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں قابل ذکر اضافے میں سب سے زیادہ حصہ پاک سوزوکی کا ہے۔ پنجاب سبز ٹیکسی اسکیم کے باعث پاک سوزوکی نے مالی سال 2016 کی ابتدائی ششماہی میں 70,482 گاڑیاں فروخت کیں جو سال بہ سال 97 فیصد اضافہ ہے۔ صرف دسمبر 2015 میں پاک سوزوکی نے مجموعی طور پر 12,384 سوزوکی بولان اور سوزوکی راوی فروخت کیں جبکہ فروخت ہونے والی سوزوکی مہران کی تعداد 2,870 رہی۔

یہ بھی پڑھیں: انتظار کی گھڑیاں ختم: ہونڈا HR-V پاکستان میں متعارف کروادی گئی

حکومت پنجاب کی جانب سے جاری سبز ٹیکسی اسکیم آئندہ ماہ یعنی فروری 2016 میں اختتام پذیر ہونے والی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاک سوزوکی گاڑیوں کی فروخت میں زبردست اضافے کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گی۔ یاد رہے کہ پاک سوزوکی نے سال 2016 میں کلٹس کی تیاری بند کر کے نئی سوزوکی سلیریو متعارف کروانے کی نوید سنا رکھی ہے۔

1

ٹویوٹا انڈس موٹرز نے مالی سال 2016 کے پہلے 6 ماہ میں 30,481 گاڑیاں فروخت کیں جبکہ پچھلے سال جولائی تا دسمبر 2014 کے عرصے میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت 22,883 رہی تھی۔ صرف دسمبر 2015 میں انڈس موٹرز نے 4,738 گاڑیاں فروخت کی جو سال بہ سال 16 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 4,297 کی تعداد میں ٹویوٹا کرولا اور 400 کی تعداد میں ٹویوٹا ہائی لکس فروخت ہوئیں۔

3

ہونڈاایٹلس پاکستان نے مالی سال 2016 کے ابتدائی چھ ماہ میں 10,610 گاڑیاں فروخت کیں جبکہ گذشتہ مالی سال کے مساوی عرصے میں یہ تعداد 8,578 رہی تھی۔ گزشتہ ماہ دسمبر 2015 میں 1,028 ہونڈا گاڑیاں فروخت ہوئیں جو سال بہ سال 49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی سال 2016 کی آخری سہ ماہی میں ہونڈا سِوک کی دسویں جنریشن کی متوقع آمد کے باعث آنے والے چند ماہ میں ہونڈا گاڑیوں کی فروخت میں مزید کمی دیکھی جائے گی۔

2

سال کے اختتام پر گاڑیوں کی خریداری میں عدم دلچسپی کے رجحان کی وجہ سے گو کہ دسمبر 2015 میں گاڑیوں کی ماہ بہ ماہ فروخت میں کچھ کمی واقعی ہوئی تاہم پاک سوزوکی نے دسمبر 2014 کے مقابلے میں اس بار 3 فیصد زیادہ گاڑیاں فروخت کیں۔ ٹویوٹا انڈس موٹرز کی فروخت میں اس رجحان کا عمل دخل نظر آیا اور گاڑیوں کی فروخت میں 14 فیصد کمی آئی۔ ہونڈا کے ساتھ بھی روایتی حریف ٹویوٹا جیسی ہی صورتحال رہی اور ان کے لیے سال کا آخری مہینہ گاڑیوں کی فروخت میں 33 فیصد کمی کے ساتھ مکمل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ویلز کار فائنانس سے من پسند گاڑی لینا اب بہت ہی آسان!

ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری اور نجی اداروں بشمول بینکوں کی جانب سے آسان اقساط اور کم شرح سود پر کار فائنانس کی سہولت مالی سال 2016 کی پہلی ششماہی میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں سے ہیں۔ گاڑیوں کے شعبے پر گہری نگاہ رکھنے والے ماہرین نے مالی سال 2016 کی دوسری ششماہی کے دوران فروخت میں مجموعی اضافے کا تسلسل جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے گاڑیوں کے پرزے درآمد کرنے پر ٹیکس میں اضافے کے بعد پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے تینوں کار ساز اداروں نے گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک سے ڈیڑھ فیصد اضافہ کیا تھا۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top