مالی سال 2019ء کے ابتدائی 10 مہینوں میں گاڑیوں کی فروخت میں 3 فیصد کمی


تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2019ء کے ابتدائی 10 مہینوں میں مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 3 فیصد کم ہوئی ہے۔ مالی سال 2018ء کے اسی عرصے میں 1,82,911 یونٹس کے مقابلے میں اِس مرتبہ 1,77,435 یونٹس فروخت ہوئے۔ فروخت میں آنے والی اس کمی کا تعلق اقتصادی عمل میں سستی، گاڑیوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کے ساتھ بڑھتی ہوئی شرحِ سود ہے۔ اپریل 2019ء میں ہی گاڑیوں کی فروخت مارچ 2019ء کے 19,897 یونٹس کے مقابلے میں 14.1 فیصد کمی کے ساتھ 17,076 یونٹس تک پہنچ گئی۔ اسی طرح سال بہ سال میں 20.7 فیصد آئی کیونکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 21,540 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔

انجن گنجائش کے لحاظ سے دیکھیں تو 800cc سے کم کی گاڑیوں کی فروخت میں 23.7 فیصد کمی دیکھی گئی کیونکہ پاک سوزوکی نے اپریل 2019ء کے آغاز پر مشہورِ زمانہ مہران کا خاتمہ کردیا۔ اس کیٹیگری میں گاڑیوں کی فروخت میں بڑا حصہ ڈالتی تھی، جس کی عدم موجودگی نے اپنے اثرات مرتب کیے۔ البتہ آٹومینوفیکچرر نے 8 ویں جنریشن کی 660cc سوزوکی آلٹو متبادل کے طور پر پیش کی ہے جو اس وقت صرف کارپوریٹ صارفین کے لیے 5 لاکھ روپے کی پیشگی بکنگ پر دستیاب ہے۔ حیران کن طور پر پاکستان میں اس جاپانی ادارے نے گاڑی کی حتمی قیمت اب تک ظاہر نہیں کی۔ اس زمرے میں اپریل 2019ء تک گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے 57,944 کے مقابلے میں کل 44,156 یونٹس فروخت ہوئے ۔

سال بہ سال کی بنیاد پر 1000cc کی کیٹیگری نے فروخت میں واضح اضافہ دیکھا جس کی وجہ سوزوکی ویگن آر کی موجودگی ہے جو رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں میں بہت مقبول گاڑی ہے۔ سوزوکی کلٹس کو بھی 1000cc کے شعبے میں 11.8 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا جس نے مالی سال 2018ء کے ابتدائی 10 ماہ میں 41,533 کے مقابلے میں اِس بار 46,452 یونٹس فروخت کیے۔

1300cc اور اس سے اوپر کی گاڑیوں کے شعبے نے بھی سال بہ سال کی بنیاد پر 4 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا جہاں مالی سال 2018ء کے ابتدائی 10 ماہ کے 83,434 یونٹس کے مقابلے میں اس مرتبہ 86,827 یونٹس فروخت ہوئے۔ مندرجہ بالا اعداد و شمار نے ظاہر کای کہ مجموعی طور گاڑیوں کی فروخت میں کمی مہران کے خاتمے کی وجہ سے ہوئی ورنہ 1000cc سے اوپر کی گاڑیوں کے تمام شعبوں میں فروخت میں اضافہ دیکھنے کو ملا سوائے ہونڈا سوِک کے کہ جس کی فروخت میں سال بہ سال میں 38 فیصد کمی آئی۔

دوسری جانب لائٹ کمرشل گاڑیوں بشمول جیپوں اور وینز میں فروخت میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی، سال بہ سال میں 40.4 فیصد کمی۔گزشتہ سال کے اسی عرصے میں اس شعبےمیں فروخت ہونے والے 10,761 یونٹس کے مقابلے میں اس مرتبہ محض 6,409 یونٹس فروخت ہوئے۔ ہونڈا اور ٹویوٹا کی گاڑیوں کی فروخت میں بہت زیادہ کمی آئی کہ جن میں ہونڈا BR-V کے محض 4,205 یونٹس فروخت کرنے میں کامیاب ہوا جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں یہ تعداد 7,497 یونٹس تھی یعنی 43.9 فیصد کمی جبکہ ٹویوٹا فورچیونر کی فروخت 32.5 فیصد کمی کے ساتھ مالی سال 2018ء کے اسی عرصے میں فروخت کیے جانے والے 3.264 سے گھٹتے ہوئے 2,204 ہوگئی۔

ہیوی گاڑیوں میں ٹرکوں کی فروخت میں سال بہ سال کے اعتبار سے 33.5 فیصد کمی آئی جو مالی سال 2018ء کے اسی عرصے میں فروخت ہونے والے 7,703 کے مقابلے میں اس بار 5,120 رہ گئی۔ ٹریکٹر کی فروخت میں بھی 28.3 فیصد کمی آئی جبکہ گزشتہ سال مقابلے میں 2019ء میں بسیں 25 فیصد زیادہ فروخت ہوئیں۔

پاکستان میں جاپان کے تینوں بڑے ادارے سوزوکی، ہونڈا اور ٹویوٹا فروخت میں ہونے والی کمی سے متاثر ہوئے؛ البتہ ہونڈا اٹلس کو سال بہ سال میں 38 فیصد کا بہت بڑا دھچکا پہنچا۔ پاک سوزوکی کی فروخت میں 27 فیصد کمی آئی جس میں مہران 41 فیصد کمی کے ساتھ سب سے نمایاں تھی جس کی پیداوار ویسے اب ختم بھی کردی گئی ہے۔ سب سے کم متاثر ہونے والا ادارہ انڈس ٹویوٹا تھا کہ جس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اپریل 2019ء میں اس کی فروخت میں 7 فیصد کمی ہوئی۔ بلاشبہ یہ سب سے زبردست بنیاد رکھنے والا ادارہ ہے۔ ٹویوٹا فورچیونر کی فروخت میں سب سے زیادہ کمی آئی جبکہ کرولا بدستور اس برانڈ کی ریڑھ کی ہڈی رہی کہ جس کی فروخت میں 6 فیصد اضافے کا رحجان دیکھنے کو ملا۔

روپے کی گھٹتی ہوئی قدر کی وجہ سے آٹو انڈسٹری پر بدستور بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں جن کا نتیجہ مستقبل میں کہیں زیادہ بدتر نکل سکتا ہے۔ تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں مہینوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو قوتِ خرید میں آنے والی کمی کی بنیادی وجہ ہے۔ دوسری جانب عوام نے گاڑیاں خریدنے کے لیے بینک لیزنگ جیسے جو طریقے اپنائے ہوئے تھے، وہ بھی اب کوئی معقول حل نہیں رہے، 20 فیصد کی زبردست شرحِ سود کی وجہ سے۔ اس لیے ملک میں موجودہ اقتصادی صورت حال میں آٹو فائنانسنگ کے رحجان کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ مالی سال 2019ء کا آخری مہینہ جون بہت قریب ہے اور آٹو انڈسٹری کا مستقبل اب بھی واضح نہیں ہے۔

اپنے تبصرے نیچے پیش کیجیے اور آٹوموبائل انڈسٹری کی مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top