اگست میں کاروں کی فروخت میں 41 فیصد کمی آئی: PAMA کے اعداد و شمار


اگست 2019ء کے لیے پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں کہ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروں اور موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بالترتیب 41 اور 10 فیصد کمی آئی ہے۔ 

اِس سال اگست کے مہینے میں کاروں کی فروخت کے اعداد و شمار کا تقابل پچھلے سال کے اسی مہینے سے کیا گیا ہے۔ مقامی آٹو سیکٹر پچھلے کئی مہینوں کی طرح اس بار بھی سیلز کے معاملے میں جدوجہد کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کاروں کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے طلب میں آنے والی واضح کمی کی بدولت مقامی پیداوار بھی بہت گھٹ گئی ہے۔ واضح رہے کہ کاروں کی فروخت کا تمام ڈیٹا PAMA کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔ 

مسافر کاروں کی فروخت منہ کے بل زمین پر: 

اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ 1300cc یا اس سے زیادہ کے انجن رکھنے والی کاروں کی فروخت میں اگست 2018ء کے مقابلے میں اِس بار 62.66 فیصد کمی آئی ہے۔ اگر کاروں کی اِس کیٹیگری سے 1000cc کی طرف آئیں تو فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں اگست 2019ء میں 49.50 فیصد کی کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر مسافر کاروں کی فروخت پچھلے سال کے 15,389 یونٹس کے مقابلے میں اِس مرتبہ 9,126 یونٹس ریکارڈ کی گئی یعنی کُل 40.69 فیصد کی کمی۔ چلیں، مقامی آٹو مینوفیکچررز کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں۔ 

پاک سوزوکی کی فروخت گھٹتی ہوئی آدھی رہ گئیں: 

پاک سوزوکی اِنٹری-لیول سیگمنٹ میں کاریں بناتا ہے کہ جو کافی عرصے سے ملک میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کاریں ہیں۔ البتہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گھٹتی ہوئی قدر کی وجہ سے کاروں کی بڑھتی قیمتوں سے اس کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں اِس اگست میں 56.15 فیصد کمی آئی ہے۔ ہاتھوں ہاتھ بکنے والی کار ویگن آر حالیہ چند مہینوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی اور اب تو اس میں 73.67 فیصد کی بہت بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ کمپنی پچھلے سال کے اسی مہینے میں 2,450 یونٹس کے مقابلے میں اس مرتبہ صرف 645 یونٹس فروخت کر پائی۔ بلاشبہ نئی 660cc آلٹو کی آمد نے ویگن آر کی فروخت پر اپنا اثر ڈالا ہے کہ جس کی قیمت اب 15 لاکھ کی حد بھی پار کر چکی ہے۔ سوزوکی آلٹو کی قیمت کا آغاز 11 لاکھ روپے سے کچھ زیادہ پر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب کلٹس کسی حد تک زوال کے اِس رحجان کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اس کی فروخت میں 6.59 فیصد کی کمی آئی ہے جو مقامی طور پر بننے والی کاروں میں سب سے کم ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سوزوکی آلٹو کی فروخت ان اعداد و شمار میں شامل نہیں کیونکہ یہ کار اگست 2018ء میں پروڈکشن میں نہیں آئی تھی۔ 

ٹویوٹا انڈس کو بڑے نقصان کا سامنا: 

ٹویوٹا انڈس 1300cc اور اس سے زیادہ کے انجن رکھنے والی کاروں میں کام کرتا ہے اور زیادہ تر اس کا کرولا ماڈل چھایا رہتا ہے۔ لیکن موجودہ اقتصادی بحران میں ٹویوٹا کرولا کو بہت نقصان ہوا ہے۔ کمپنی پچھلے سال اگست کے 4,204 یونٹس کے مقابلے میں اس مرتبہ صرف 1,727 یونٹس فروخت کر پائی یعنی 58.92 فیصد کی کمی۔ کمپنی کی SUV فورچیونر نے پچھلے سال کے 204 یونٹس کے مقابلے میں اس بار صرف 88 یونٹس فروخت کیے جو کہ 56.86 فیصد کی کمی ہے۔ اس کی کاروں میں سب سے کم زوال کا سامنا ہائی لکس نے کیا کہ جس کی فروخت میں 41.31 فیصد کی کمی آئی۔ مجموعی طور پر ٹویوٹا انڈس نے پچھلے سال کے 5,018 یونٹس کے مقابلے میں اگست 2019ء میں 56.69 فیصد کی کمی کے ساتھ 2,173 یونٹس فروخت کیے۔ 

ہونڈا اٹلس گہرے پانیوں میں: 

پاکستان میں کام کرنے والے بڑے جاپانی اداروں میں سے ایک ہونڈا اٹلس سوِک اور سٹی کو اپنے اہم ماڈلز قرار دیتا ہے۔ کمپنی دونوں کاروں کے لیے الگ اعداد و شمار ظاہر نہیں کرتی۔ کمپنی نے اگست 2019ء کے دوران سوِک اور سٹی کے 1,106 یونٹس فروخت کیے جبکہ پچھلے سال کے اسی مہینے میں یہ تعداد 3,469 یونٹس تھی۔ اس دوران 68.11 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ ہونڈا BR-V بھی اپنی فروخت کو برقرار نہیں رکھ پائی اور اس میں 57.72 فیصد کی کمی آئی۔ کمپنی کی مجموعی فروخت اس عرصے کے دوران 66.82 فیصد کم ہوئی اور یہ ملک میں کام کرنے والے نمایاں آٹو مینوفیکچررز میں سب سے بڑی کمی ہے۔ 

ٹرک اور بسیں: 

اگست 2019ء میں بسوں اور ٹرکوں کی فروخت میں بھی پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 61.08 فیصد کمی آئی ہے۔ مقامی طور پر بننے والی بسوں کے صرف 42 یونٹس اس مہینے میں فروخت ہوئے۔ 

LCVs، وینز اور جیپیں: 

فروخت میں 57.47 فیصد کی کمی کے ساتھ مقامی انڈسٹری کو LCVs، وینز اور جیپوں کی کیٹیگری میں بھی نقصان کا سامنا رہا۔ اگست 2018ء میں 696 یونٹس کی فروخت کے مقابلے میں اس سال اگست میں صرف 296 یونٹس کی فروخت ہوئی۔ 

پک اپس: 

سوزوکی راوی، ٹویوٹا ہائی لکس، JAC اور نئے ادارے اِسوزو ڈی-میکس کی جانب سے مقامی طور پر پک اپس بنائی جاتی ہیں۔ تمام پک اپس کی فروخت اس عرصے میں حوصلہ افزاء نہیں تھی کیونکہ اس شعبے کو 51.54 فیصد کی کمی کا سامنا رہا۔ اِسوزو اپنے حریف ٹویوٹا ہائی لکس کے 358 یونٹس کے مقابلے میں اپنی ڈی-میکس کے 64 یونٹس فروخت کر پایا۔ 

ٹریکٹرز: 

ٹریکٹروں میں میسی فرگوسن پاکستان میں سب سے زیادہ ٹریکٹر فروخت کرنے والا ادارہ ہے۔ البتہ اس کی فروخت میں 58.79 فیصد کمی آئی جبکہ فیئٹ (Fiat) نے اس عرصے میں 24.07 فیصد کا واضح منافع کمایا۔ فیئٹ نے 1304 یونٹس کی فروخت کے ساتھ میسی فرگوسن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کہ جس کے 1228 یونٹس فروخت ہوئے۔ 

موٹر سائیکلیں اور تین پہیوں والی گاڑیاں: 

موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے پاکستان کئی سال سے بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ معاشی سست روی کے حالات اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ہوتے ہوئے موٹر سائیکلیں عوام کے لیے مناسب قیمت پر سفر کا واحد ذریعہ بچی ہیں۔ موٹر سائیکلوں کے معاملے میں اٹلس ہونڈا نے واضح فرق کے ساتھ مارکیٹ کے بڑے حصے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ کمپنی نے 0.11 فیصد کے معمولی اضافے کے ساتھ اس عرصے میں اپنی فروخت کو برقرار رکھا۔ اگست 2019ء میں ہونڈا نے پچھلے سال کے اسی مہینے کے 80,012 یونٹس کے مقابلے میں 80,104 یونٹس فروخت کیے۔ البتہ دوسرے موٹر سائیکل مینوفیکچررز کی فروخت میں واضح کمی آئی کہ جن میں سوزوکی، یاماہا، روڈ پرنس اور یونائیٹڈ شامل ہیں۔ روڈ پرنس کی فروخت میں 23.36 فیصد، سوزوکی میں 15.73 فیصد، یونائیٹڈ 9.77 فیصد اور یاماہا کی فروخت میں 6.35 فیصد کی کمی آئی۔ یونائیٹڈ، سازگار اور روڈ پرنس کی جانب سے بنائی جانے والی تین پہیوں کی گاڑیوں کو دیکھیں تو اس سیکٹر کی کُل فروخت میں پچھلے سال اگست میں 1,40,243 یونٹس کی فروخت کے مقابلے میں 9.91 فیصد کمی آئی اور اس مرتبہ 1,26,338 یونٹس فروخت کیے۔ اسی طرح تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت بھی اس عرصے میں زوال کا شکار رہی اور اس نے مجموعی سیلز کے اعداد و شمار پر اثر ڈالا۔ 

پاکستان کا آٹوموبائل سیکٹر اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے، اور گاڑیوں کی فروخت میں اس سال مسلسل کمی آئی ہے کہ جس کی وجہ سے آٹو مینوفیکچررز اپنے پیداواری حجم کو کم کرنے پر مجبور ہوئے۔ حالیہ کچھ عرصے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی تیزی سے اور ریکارڈ کمی گاڑیوں کی قیمت میں اضافے کا سبب بنی کہ جس نے گاڑیوں کی طلب میں نمایاں کمی کی۔ حکومت نے مقامی سطح پر بننے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) جیسی اضافی ٹیکس اور ڈیوٹیاں لگا کر حالات کو مزید بگاڑ دیا۔ ان تمام عوامل نے مل کر قیمتوں کو عوام کی پہنچ سے دُور کردیا۔ متعدد آٹو مینوفیکچررز نے مارکیٹ میں ڈیمانڈ کم ہونے کی وجہ سے اپنے پیداواری دنوں پر بھی نظرثانی کی۔ ہونڈا نے جولائی کے مہینے میں اپنا پروڈکشن پلانٹ تقریباً دس دن بند رکھا کیونکہ اس کی انونٹری میں 2000 سے زیادہ کاریں پڑی ہوئی تھیں۔ ٹویوٹا نے بھی ہفتے میں صرف پانچ دن پیداوار کرنے کا اعلان کیا۔ بلاشبہ یہ صورت حال مقامی آٹو سیکٹر کے لیے خطرناک ہے کہ جہاں نئے ادارے لمبے عرصے کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبوں کے ساتھ اپنا راستہ بنا رہے ہیں۔ ایسی صورت حال نئے اداروں کو ملک میں نئی گاڑیاں مناسب قیمت پر متعارف کرنے سے روکے گی۔ حکومت کو FED جیسے اضافی ٹیکس واپس لینے چاہئیں کہ جنہوں نے گاڑیوں کی فروخت کو بری طرح متاثر کیا۔ 

مقامی آٹو سیکٹر میں گاڑیوں کی کم ہوتی فروخت کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ ہمیں نیچے تبصروں میں بتائیں اور ایسی ہی مزید تحاریر کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیں۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top