کریم اور اوبر ڈرائیورز کا کم کرایوں کے خلاف سپریم کورٹ کے باہر احتجاج


کریم اور اوبر کے ڈرائیوروں نے کم کرایوں کے خلاف 22 نومبر بروز جمعرات لاہور میں سپریم کورٹ کی رجسٹری کے سامنے احتجاج کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے ڈرائیوروں نے کمپنی کے کم کرایوں کے خلاف احتجاج کیا ہو۔ جمعرات کو ہونے والا احتجاج بھی ‘فی کلومیٹر کرائے’ میں اضافے اور ڈرائیوروں کے خلاف ‘حد سے زیادہ چالان’ بند کرنے اسی مطالبے کے ساتھ ہوا تھا۔ مظاہرین نے حکومت کو بھی بے انصافی کا ذمہ دار قرار دیا۔

مظاہرے میں شریک ڈرائیورں میں سے ایک حسین بٹ نے کہا کہ کریم اور اوبر طویل عرصے سے نامناسب ادائیگیاں کر رہے ہیں اور اب وقت آ گای ہے کہ وہ اپنی سروس کے لیے فی کلومیٹر کرائے بڑھائیں۔ مزید یہ کہ ڈرائیوروں کو اپنی گاڑیاں لیز کروانے کی سہولت دینے کے لیے لون اسکیم بھی واپس لانی چاہیے۔

کریم اور اوبر کے ڈرائیوروں کے مبینہ طور پر زیادہ چالان کرنے کے حوالے سے سوال پر اوبر کے ترجمان نے کہا کہ “اوبر ایک قانون کی پیروی کرنے والا ادارہ ہے اور اس ضمن میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کے مطابق قدم اٹھائے کا۔ اس وقت اپنے ڈرائیوروں کے کمرشل روٹ پرمٹس کے اجراء کے حوالے سے اوبر کو حکوم کی جانب سے کچھ نہیں کہا گیا۔ ڈرائیوروں کے مطالبات پر انہوں نے کہا کہ “اوبر ڈرائیوروں کے ساتھ مذاکرات کرنے کا پابند ہے۔ البتہ ڈرائیوروں کی بڑی تعداد اوبر کی سروسز اور کرایوں کی پالیسی سے مطمئن ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ لاہور میں متعدد پارٹنر سپورٹ سینٹرز موجود ہیں جہاں ڈرائیوروں کو درپیش خدشات یا مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

ہزاروں ڈرائیورز رائیڈ-ہیلنگ کمپنیوں کے لیے کام کر رہے ہيں اور ان کی اکثریت نامناسب پالیسیوں پر شکوہ کناں ہے۔ ان کے مطابق ادارہ کروڑوں روپے کما کر دینے والے ڈرائیوروں کے بجائے صارفین کو سہولت دینے کا رحجان زیادہ رکھتا ہے۔ ڈرائیورز اب اپنے مطالبات پورے کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا رخ کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں ان کے مظاہرے پر حکومت کی جانب سے کیا ردعمل آتا ہے آیا ڈرائیوروں کے حق میں یا گزشتہ مظاہروں کی طرح کچھ نہیں ہوتا۔

مزید خبروں کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who writes automotive content at Pakwheels and a photographer.

Top