کریم اور سندھ حکومت نے رائیڈ ہیلنگ سروس پر ایک تاریخی معاہدہ وضع کیا

careemtaxi

مشہور رائیڈ ہیلنگ سروس کریم سندھ حکومت کے ساتھ ایک حوصلہ افزا معاہدہ کے لیے آگے آیا ہے تا کہ کمپنی صوبے بھر میں اپنے آپریشن جاری رکھ سکے۔ بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ کی سنوائی میں حکومت کے کونسل نے عدالت کو بتایا کہ کریم اب صوبے میں اپنے آپریشن جاری رکھنے کے لیے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے تحت پرمٹ حاصل کرے گی۔

اطلاعات کے مطابق، حالیہ آنے والے نئے سروس فراہم کرنے والے کی خاص ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سندھ حکومت اور وزارت ٹرانسپورٹ نے ایک قانونی مسودہ تیار کیا ہے جو اس طرز کی نئی کمپنیوں کو ٹیکس نیٹ ورک میں شامل کرے گا۔ حیران کن طور پر بظاہر کریم کو ان نئے انتظامات پر کسی بھی قسم کا اعتراض نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر جنید اقبال نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں ہمارے آپریشن کے آغاز سے ہی کریم نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایسے تمام سروس پروائڈر کو مکمل طور پر ریگولیٹ کیا جانا چاہیے۔

کریم اور حکومت کے مابین اختلاف اس وقت ابھرا جب حکومت نے کریم سے کہا کہ وہ روٹ پرمٹ حاصل کرے اور ایک ٹرانسپورٹ سروس کی طرح آپریٹ کرے۔ تاہم، اس نئے معاہدہ کے تحت کریم اب ایک ڈیجیٹل مارکیٹ ہی رہے گی۔ مزید یہ کہ دونوں فریقین نئے فریم ورک بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں جو کہ ڈیجیٹل مارکیٹ کی گورننگ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

یہ صورتحال کیسے بنی:

30 جنوری 2017 کو کریم کی سروس عارضی طور پر بند کر دی گئیں، جب ایک نوٹیفکیشن پنجاب کی ٹریفک ریگولیٹری اتھارٹی کو جاری کیا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ رائیڈ ہیلنگ سروس (کریم اور اوبر) پاکستان میں غیر قانونی طور پر کام کررہی ہیں اور انہیں ٹیکس نیٹ ورک میں لانا چاہیے۔

خط میں کہا گیا کہ دونوں کمپنیاں بغیر روٹ پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ، اور کسی بھی ریگولیٹری اتھارٹی سے گاڑیوں کو رجسٹرڈ کیے بغیر کام کر رہی ہیں۔ لہزا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک سخت کاروائی کا انتظام کیا جارہا ہے۔

اس سارے ہنگامہ پر ردعمل دیتے ہوئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر عمر سیف کا کہنا تھا کہ یہ تمام خطوظ اندرونی دستاویزات تھیں جنہیں ابھی نظر ثانی کے عمل سے گزرنا تھا مگر ان تمام دستاویزات کے وقت سے پہلے ہی لیک ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال بنی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کو ملک میں لانے سے پہلے ہی ٹیکس کی شرائط کا تزکرہ کیا گیا تھا اور انہوں نے ہماری شرائط و ضوابط سے اتفاق کیا تھا۔ سیف نے مزید کہا کہ ہم ان سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنیادی ٹیکس سٹرکچر پر کام کر رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان سروسز کو بند نہیں کیا گیا بلکہ یہ ابھی ٹرانزیشن کے عمل سے گزر رہی ہیں جس سے قومی خزانے کو فائدہ ہوگا۔

Top