موجودہ آٹومیکرز کو فوائد نہ دیے جائیں، CCP کا حکومت سے مطالبہ


کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ نئے آنے والے کارمیکرز کو دیا جانے والا کوئی فائدہ موجودہ مقامی آٹومیکرز کو نہ پہنچنے دیں، ایک مقامی میڈیا ادارے نے بتایا۔

مقامی آٹومیکرز کی طرف سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ انہیں بھی ویسے ہی فوائد دیے جائیں؛ اگر یہ دیے گئے تو نئے آنے والے اداروں کے لیے ملک میں کام کرنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔

حکومت پاکستان نے آٹو پالیسی 2016-21ء متعارف کروائی تھی جس کا ہدف ملک میں غیر ملکی آٹومیکرز کی توجہ حاصل کرنا تھا اور یہ پالیسی ملک کے لیے بہترین ثابت ہوئی کیونکہ کِیا، ہیونڈائی اور رینو (رینالٹ) جیسے کئی نئے آٹومیکرز پاکستان آئے۔

اس پالیسی کے تحت حکومت نے گاڑیاں بنانے والے اداروں کو گرین فیلڈ اور براؤن فیلڈ سرمایہ کاری اسٹیٹس دیے تاکہ انہیں پاکستان میں اپنے کارخانے میں بنانے میں مدد اور ملک میں باآسانی کاروباری کرنے کی جگہ ملے۔

CCP نے 11 اپریل 2018ء کو ہونے والے اجلاس کے حوالے سے ایک نوٹ بھی پیش کیا تاکہ مقامی صارفین کی جانب سے آٹوموٹو شعبے سے متعلق مسائل پر گفتگو کی جائے۔

یہ نوٹ کہتا ہے کہ نئے آٹومیکرز معیاری مصنوعات اور مناسب قیمت کی حامل گاڑیاں پیش کرکے موجودہ اداروں کو معیاری مصنوعات بنانے پر مجبور کریں گے۔ اتھارٹی نے قیمتوں اور مصنوعات کے معیار کے حوالے سے بڑھتی ہوئی شکایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لگتا ہے کہ مارکیٹ میں کوئی مسابقت ہے ہی نہیں۔ اس لیے حکومت کو بغیر کسی تبدیلی کے پالیسی کی پیروی کرنی چاہیے۔

مصنوعات کی قیمت اور معیار کے علاوہ ڈلیوری کا دورانیہ اور قیمتوں میں اچانک اضافہ بھی صارفین کی پریشانیوں میں شامل ہیں۔ CCP نے زور دیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو مشترکہ طور پر وہیکل سیفٹی اور اسٹینڈرڈ اتھارٹی بنانی چاہئیں، تاکہ آٹومیکرز کی طرف سے فراہم کردہ گاڑیوں کو چیک کیا جائے اور صارفین ایک معیاری پروڈکٹ خرید سکیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے آتے رہیے۔


Top