چینی ادارے چانگان کی بہترین گاڑیوں؛ جو پاکستان میں جلد مقبول ہوسکتی ہیں!

cover

چانگان (Changan) کا نام سن کر پہلا خیال ڈبل کیبن پک اپس (گلگت اور کالاش) کا آتا ہے جنہیں قراقرم موٹرز پاکستان میں فروخت کرتا رہا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ پرانے زمانے کے مال بردار پک اپس بنانے والا ادارہ چانگان صرف سستی اور غیر معیاری گاڑیاں ہی تیار کرتا ہے۔ لیکن لوگ یہ نہیں جانتے کہ چانگان ایک چینی سرکاری ادارہ ہے جو اپنے ملک میں 12 وسیع و عریض کارخانے رکھتا ہے۔ ان کارخانوں میں 32 چھوٹے کارخانے گاڑیاں تیار کرنے اور انجن بنانے کے لیے مختص ہیں۔ چانگان سالانہ تقریباً 29 لاکھ گاڑیاں تیار و فروخت کرتا ہے اور اسے چین کے چار بڑے کار ساز اداروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

Changan Double Cabin Pickups in Pakistan

چین میں چانگان بہت سے عالمی شہرت یافتہ کار ساز اداروں بشمول فورڈ، مزدا، سوزوکی اور PSA (پیجیوٹ – سٹریون) کے ساتھ کام کرتا ہے۔ چانگان کے مجموعی اثاثوں کی کل مالیت 128 بلین رینمنبی (20.6 بلین امریکی ڈالر) ہے۔ دنیا بھر میں 80 ہزار سے زائد ملازمین اس ادارے سے کام کر رہے ہیں۔ چین کے علاوہ دیگر خطوں میں بھی چانگان کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے مراکز قائم ہیں جن کے نام یہ ہیں:

1) ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آٹوموٹیو انجینئرنگ (چونگ چنگ)
2) آٹو موبائل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (شنگھائی)
3) آٹو موبائل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (بیجنگ)
4) آٹو موبائل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ہاربن)
5) آٹو موبائل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (جیانگشی)
6) چانگان آٹو یورپین ڈیزائن سینٹر (اطالیہ)
7) چانگان آٹو جاپان ڈیزائن سینٹر (جاپان)
8) چانگان UK ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (برطانیہ)
9) چانگان USA ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (امریکا)

پانچ علاقائی اور چار بین الاقوامی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹرز کی مدد سے چانگان نے 5 ممالک (چین، اطالیہ،جاپان برطانیہ اور امریکا) میں 9 مقامات (چونگ چنگ، چنگھائی، بیجنگ، ہاربن، جیانگشی، تورینو، یوکوہاما، ناٹنگھم اور ڈیٹرائٹ) کی مدد سے ایک عالمی اسٹرکچربنا لیا ہے۔ ان مراکز میں مختلف کام انجامدیئے جاتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1) چین:مختلف طرزکی گاڑیوں کے لیے انجینئرنگ
2) تورینو، اطالیہ: گاڑیوں کے بیرونی حصے کی تیاری
3) یوکوہاما، جاپان: گاڑیوں کے اندرونی حصے کی تیار
4) ناٹنگھم، برطانیہ: گاڑیوں کے جدید انجن کی تیاری
5) ڈیٹرائیٹ، امریکا: گاڑیوں کے چیسز کی تیاری

Bluecore 1.png

گاڑیوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر قابو پانے کے لیے چانگان نے اپنی جدید ٹیکنالوجی بنائی ہے جسے BlueCore کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چانگان گاڑیوں میں بہتر رفتار، شفافیت اور آرامدے سفر کو ممکن بناتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ‘ایندھن کی بچت اور ماحول دوست’ خصوصیات کے ساتھ انجن اور دیگر مصنوعات بھی فراہم کرتی ہے۔اس کے علاوہ یہ گاڑیاں کے لیے مینوئل اور ڈیول کلچ ٹرانسمیشن کے ساتھ استعمال ہونے والی مختلف ٹیکنالوجیز پر مشتمل انجن بھی فراہم کرتی ہے جیسا کہ TEi، i-GDI اور D-VVT۔

یہ بھی پڑھیں: FAW B30 – کرولا آلٹِس اور سِٹی ایسپائر کو ٹکر دے سکتی ہے!

چانگان کی تیار کردہ BlueCore ٹیکنالوجی پر مشتمل انجن میں آپٹمائز انٹرنل کمبسشن سسٹم موجود ہے۔ اس سے گاڑی کی مجموعی کارکردگی میں کمی لائے بغیر 20 فیصد ایندھن بچانے کے ساتھ کاربن کے اخراج میں 40 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بہت سے ہائبرڈ سسٹمز، پلگ –ان اور خلیات سے توانائی حاصل کرنے والے سسٹمز کے ساتھ بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

چانگان کو بہترین چینی گاڑیاں بنانے والا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ پاکستان میں چینی گاڑیاں (بشمول چانگان) فروخت کرنے والا واحد مجاز ادارہ قراقرم موٹرز آج تک بہترین اور جدید چینی گاڑیوں کو پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ باوجودیکہ ان کی ویب سائٹ پر دعوی کیا گیا ہے کہ ادارے نے نئی گاڑیاں متعارف کروائیں تاہم چانگان کی موجودہ گاڑیاں اور قراقرم کی پیش کردہ گاڑیاں دیکھ کر اندازہ لگانا جاسکتا ہے کہ ان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ آئیے چانگان کی چند گاڑیوں سے متعلق آپ کو بتاتے ہیں پھر آپ خود ہی فیصلہ کیجیے گا۔

چانگان بین بین مِنی

چانگان اپنے آبائی ملک چین میں جاپانی کارساز ادارے سوزوکی (Suzuki) کے ساتھ کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساتویں جنریشن سوزوکی آلٹو کی ٹیکنالوجی سے انہوں نے اپنی گاڑی بین بین مِنی تیار کی۔ چانگان بین بین مِنی میں 1000cc انجن لگایا گیا ہے جو 70 ہارس پاور فراہم کرتا ہے۔ DOHC ٹیکنالوجی کا حامل یہ انجن یورو IV معیارات پر بھی پورا اترتا ہے۔ یہ گاڑی مینوئل گیئر کے علاوہ IMT ٹرانسمیشن کے ساتھ بھی دستیاب ہے۔ بین بین مِنی کا شمار چین میں دستیاب سستی ترین گاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ اس کی قیمت 36,900 یوآن (5.7 لاکھ روپے) سے شروع ہو کر 49,900 یوآن (7.8 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔

چانگان بین بین

اگر آپ کو چانگان بین بین مِنی کا انداز پسند نہیں یا پھر تھوڑے زیادہ بجٹ میں بہتر اور خوبصورت ہیچ بیک خریدنا چاہتے ہیں تو بین بین آپ کے لیے بہترین ہے۔ یہ ٹویوٹا وِٹز اور سوزوکی سوِفٹ ہی جیسے انداز میں چین کی خوبصورت ترین ہیچ بیکس میں سے ایک قرار دی جاتی ہے۔ اس کی قیمت 47,900 یوآن (7.6 لاکھ روپے) سے شروع ہو کر 56,900 یوآن (9.1 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔ اس کا اندرونی حصہ کافی شوخ ہے۔ بین بین کے تمام ماڈلز میں ڈیش بورڈ کے درمیان ایک بڑی ٹچ اسکرین شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیلی GC9: چین میں سال 2016 کی بہترین گاڑی قرار

چانگان بین بین میں 1400cc انجن شامل ہے جو 5-اسپیڈ مینوئل یا 5- اسپیڈ آٹومیٹک گیئر کے ساتھ 101 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔ بین بین 17 کلویٹر فی لیٹر مسافت فراہم کرسکتی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ چین میں چانگان بین بین کی فروخت سوزوکی آلٹو (Suzuki Alto) سے دوگنا زیادہ ہے۔سال 2015 میں مجموعی طور پر 25,049 سوزوکی آلٹو فروخت ہوئیں جبکہ بین بین کی فروخت 47,277 رہی۔ رواں سال کے ابتدائی 2 ماہ کے دوران جہاں 2,593 آلٹو فروخت ہوئیں وہیں 12,603 بین بین فروخت کی جاچکی ہیں۔

چانگان السوِن V3

چین میں دستیاب سستی سیڈان گاڑیوں میں چانگان V3 سرفہرست ہے۔ نستباً چھوٹے سائز کی سیڈان گاڑیاں خاصی پسند کی جاتی ہیں کیوں کہ انہیں چلانے اور پارک کرنا بڑی گاڑیاں کے برعکس زیادہ آسان ہے۔ چانگان V3 میں 4-سلنڈر 1300cc پیٹرول انجن لگایا گیا ہے جو BlueCore ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ انجن 5-اسپیڈ مینوئل گیئر باکس کے ساتھ 94 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔ اس کی قیمت 46,900 یوآن (7 لاکھ روپے) سے شروع ہو کر 46,900 یوآن (7.8 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔

چانگان السوِن V5

اس سے پہلے کہ آپ تصاویر دیکھ کر اس گاڑی کو 2010 مزدا 3 کا چربہ قرار دیں، یہ جان لیں چین میں چانگان اور مزدا (Mazda) شراکت دار ہیں۔ چانگان V5 بھی چھوٹی سیڈان گاڑیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا انداز السوِن سیڈان ہی سے اخذ کیا گیا ہے جسے 2013 کے وسط میں بند کردیا گیا ہے۔اگلی جانب ملتی جلتی گِرل کی وجہ سے V5 کو مزدا 3 کی ہم شکل خیال کیا جاتا ہے۔ سال 2015 میں V5 کی فروخت 71 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس میں BlueCore ٹیکنالوجی کا حامل 1500cc انجن لگایا گیا ہے۔ یہ انجن 5-اسپیڈ مینوئل یا 4-اسپیڈ آٹو میٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ منسلک ہو کر 114 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔ اس کی قیمت 61,900 یوآن (9.1 لاکھ روپے) سے شروع ہو کر 75,900 یوآن (12.15 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔

چانگان السوِن V7

چانگان کی اس سیڈان کو تورنیو، اطالیہ میں قائم چانگان آٹو یورپین ڈیزائن سینٹر میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔V7 بلاشبہ چین میں دستیاب دلکش ترین سیڈان گاڑیوں میں سے ایک ہے۔ اس میں BlueCore ٹیکنالوجی کا حامل 1600cc انجن لگایا گیا ہے جو 124 ہارس پاور فراہ کرسکتا ہے۔ انجن کے ساتھ 5-اسپیڈ مینوئل یا 5-اسپیڈ آٹومیٹک ٹرانسمیشن منسلک کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چانگان V7 کو 170 ہارس پاور فراہم کرنے والے 1500cc ٹربو انجن کے ساتھ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی قیمت 60,900 یوآن (9.7 لاکھ روپے) سے شروع ہو کر 86,900 یوآن (13.92 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔

چانگان ایدو / ایدو XT

ایدو سیڈان کو بھی اطالیہ کے چانگان مرکز میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس چھوٹی سیڈان گاڑی کو پہلی بار فرینکفرٹ موٹر شو 2012 میں دکھایا گیا تھا۔ چانگان ایدو کو BlueCore ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کردہ 1500cc ٹربو انجن یا 1600cc نیچرلی ایسپریٹڈ انجن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ چانگان اسے ایدو XT ے نام سے ہیچ بیک طرز پر بھی فروخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ برقی موٹر کی حامل ایدو EV بھی پیش کی جاچکی ہے۔ اس کی قیمت 74,900 یوآن (11.9 لاکھ روپے) سے شروع ہو کر 119,900 یوآن (19.13 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔ سال 2013 میں مجموعی طور پر 90,723 فروخت کے ساتھ ایدو نے چین کی سب سے مشہور برانڈ ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ بعد ازاں سال 2014 میں 154,885 فروخت کے ساتھ ایدو نے گزشتہ سال بنایا گیا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔

چانگان ریتون

یہ چانگان کی اوسط حجم والی گاڑی ہے۔ اسے ٹویوٹا کیمری (Toyota Camry) کی چھٹی جنریشن سے اخذ کیا گیا ہے۔ اپریل 2013 میں پیش کیے جانے کے صرف 6 ماہ کے اندر یہ گاڑی 4 ہزار سے زائد تعداد میں فروخت ہوئی۔ چانگان ریتون سالانہ 8 ہزار کی تعداد میں فروخت کی جاتی رہی ہے جو اس طرز کی گاڑیوں کے لیے خاصی بڑی تعداد سمجھی جاتی ہے۔ اس میں 1800cc ٹربو انجن لگایا گی ہے جو 6-اسپیڈ ٹپ ٹرانک ٹرانسمیشن کے ساتھ 175 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ چانگان ریتون 2000cc انجن کے ساتھ بھی دستیاب ہے۔ یہ انجن 5-اسپیڈ مینوئل یا 5-اسپیڈ آٹو میٹک گیئر باکس کے ساتھ 152 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔ اس کی قیمت 109,800 یوآن (17.58روپے) سے شروع ہوتی ہے اور 200,800 یوآن (32.16 روپے) تک جاتی ہے۔

چانگان CS15 ایس یو وی

یہ چانگان کی 1500cc پیٹرول انجن کی حامل چھوٹی SUV ہے۔ چانگان CS15 میں انجن کے ساتھ 5-اسپیڈ مینوئل یا 5-اسپیڈ DCT (ڈیول کلچ ٹرانسمیشن) منسلک کیا جاتا ہے جو 107 ہارس پاور اور 145 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتا ہے۔ چانگان کی جانب سے اتنی سستی گاڑی میں DCT فراہم کرنا قابل ستائش ہے۔ اس کی قیمت 57,900 یوآن (9.37 لاکھ روپے) سے شروع ہو کر 73,900 یوآن (11.96 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔ چانگان CS15 کو باضابطہ طور پر اپریل 2016 میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

چانگان CS35 ایس یو وی

یہ چانگان کی پہلی SUV ہے جسے اطالیہ میں قائم چانگان سینٹر میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری کے لیے ایدو ہی کا پلیٹ فارم استعمال کیا گیا ہے۔ سال 2014 میں مجموعی طور پر 1,00,571 چانگان CS35 فروخت ہوئیں۔ یہ چین میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی SUVs میں نویں نمبر پر ہے۔ CS35 میں 5-اسپیڈ مینوئل یا 4-اسپیڈ آٹو میٹک گیئر باکس کو 1600cc انجن کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ یوں یہ انجن 125 ہارس پاور اور 160 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔ چانگان اسے نئے 1500cc ٹربو انجن کے ساتھ پیش کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے جو 174 ہارس پاور اور 192 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتاہے۔اس کی قیمت 78,900 یوآن (12.76لاکھ روپے) سے شروع ہوکر 98,900یوآن (16 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔

چانگان CS75 ایس یو وی

یہ چانگان کی پہلی اوسط-حجم والی SUV ہے۔ اسے 1800cc ٹربو یا 2000cc نیچرلی اسپریٹڈ انجن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہی انجن 6-اسپیڈ مینوئل یا 6-اسپیڈ آٹو میٹک ٹرانسمیشن سے منسلک کیے جاتے ہیں۔ 1800cc انجن 180 ہارس پاور جبکہ 2000cc انجن 158 ہارس پاور فراہ کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ چانگان CS75 کی قیمت 108,800 یوآن (17.6 لاکھ روپے) سے شروع ہوکر 143,800 یوآن (23.37 لاکھ روپے) تک جاتی ہے۔

ان گاڑیوں کو دیکھنے کے بعد کوئی بھی ذی شعور یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ قراقرم موٹرز ان گاڑیوں کو یہاں پیش کرنے میں کیوں دلچسپی نہیں لیتی۔ یاد رہے کہ قراقرم کو چین سے باہر دائیں طرف سے ڈرائیو کی جانے والی چینی گاڑیاں تیار کرنے والا واحد ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اب جبکہ نئی آٹو پالیسی منظور کی جاچکی ہے، قراقرم موٹرز ان گاڑیوں کو باآسانی یہاں متعارف کرواسکتا ہے۔ خاص طور پر بین بین مِنی اور چانگان V3 جیسی کم قیمت گاڑیاں یہاں کم وقت میں زیادہ مقبولیت حاصل کرسکتی ہیں۔ اگر ان گاڑیوں کو مناسب قیمت اور بعداز خرید خدمات فراہمہ کی جائیں تو کوئی وجہ نظر آتی ہے کہ یہ گاڑیاں صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ پاکستان میں اس وقت 10 لاکھ سے کم قیمت گاڑیوں کا قحط ہے جسے یہ چانگان گاڑیاں دور کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قراقرم موٹرز کے پیش کردہ قدیم ماڈلز؛ چینی گاڑیوں کی بدنامی کا سبب

اگر قراقرم موٹرز نئی گاڑیوں کو متعارف کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا تو چانگان کو الحاج FAW گروپ جیسے کسی ادارے کے ساتھ پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری و فروخت شروع کرنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ قراقرم اور دیگر نئے کارساز اداروں کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے FAW سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

Usman Ansari

An automotive enthusiast associated with the animation industry since 15 years having worked with leading organizations and production facilities across Pakistan.

Top