اوڈومیٹر سے چھیڑ چھاڑ معلوم کرنے کے 6 طریقے

odometer

استعمال شدہ گاڑی یا موٹر سائیکل خریدتے ہوئے یہ جاننا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اب تک یہ سواری کتنا سفر کرچکی ہے۔ اس کے لیے جو برقی و مکینکی آلہ آپ کی رہنمائی کرتا ہے اسے اوڈومیٹر کہتے ہیں۔بعض اوقات ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ گاڑی خریدتے وقت اوڈومیٹر میں نظر آنے والی مسافت، جسے مائلیج کہا جاتا ہے، حقیقت سے مختلف ہوتی ہے۔ لیکن اس میں اوڈومیٹر کا کوئی قصور نہیں بلکہ کچھ خراب نیت والے افراد اپنی گاڑی کو جلد اور زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کے لیے اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ چونکہ استعمال شدہ گاڑی یا موٹر سائیکل خریدنے والے لوگ اس سے متعلق زیادہ نہیں جانتے اس لیے وہ آسانی سے دھوکے میں آجاتے ہیں اور اس کا بہت بھاری خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ گاڑی خریدتے ہوئے اوڈومیٹر سے زیادہ گاڑی کا مجموعی جانچ بھی کرتے ہیں۔ ہم یہاں ان چیزوں سے متعلق بتا رہے ہیں جن کا جائزہ لینے سے آپ اوڈومیٹرکے درست ہونے یا اس میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے امکان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اسٹیرنگ ویل کا جا ئزہ لیں

Pic2

سب سے پہلے آپ اسٹیرنگ ویل کا معائنہ کریں اور دیکھیں کہ آیا اس کی اصل چمک ماند پڑ گئی ہے یا اس پر کسی قسم کے دھبے تو نہیں ہیں۔ زیادہ مائلیج والی گاڑیوں میں اسٹیرنگ ویل زیادہ استعمال کے باعث گھس جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ استعمال شدہ گاڑی فروخت کرتے ہوئے اسٹیرنگ ویل پر کپڑا چڑھا دیتے ہیں جس سے دھبے چھپ جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں بہتر ہوگا کہ آپ اس کپڑے کو ہٹا کر اسٹیرنگ ویل کا جائزہ لیں۔

گیئر کے بالائی حصے کا معائنہ کریں

DSCN2155.jpg~original

اگر اسٹیرنگ ویل کا معائنہ کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو آپ گیئر کے بالائی حصے (جہاں مختلف نمبر لکھے ہوتے ہیں )کا معائنہ کرسکتے ہیں۔ اسٹیرنگ ویل کی طرح یہاں بھی آپ کو چمک اور گھسے ہوئے نشانات پر غور کرنا ہے۔ اگر گیئر کا اوپر والا اور نیچے والا حصے کی چمک مختلف ہے تو آپ باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ گاڑی بہت زیادہ سفر کرچکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی مائلیج زیادہ ہے۔

بریک اور پیڈلز دیکھیں

maxresdefault

اگر بریکس اور پیڈلز کی حالت یکساں نہیں اور وہ آگے اور پیچھے ہیں تو یہ بھی گاڑی کی زیادہ مسافت کا مظہر ہے۔ پیڈلز کاکے اوپر چمڑے کا غلاف ہو یا نہ ہو، اس پر پیر سے دباؤ کے نشانات ضرور آتے ہیں۔ گاڑی کے پیڈلز کو زیادہ استعمال کیا گیا ہوگا تو اس کا مطلب ہے کہ سفر بھی زیادہ ہوا ہے۔ اگر اوڈومیٹر کم مائلیج بتا رہا ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

انجن کی آزمائش کریں

CT1

یہ آزمائش صرف اسی وقت ممکن ہے جب موجودہ مالک گاڑی کو چلانے اور اسے مکینک کے پاس لے جانے کی اجازت دے۔ انجن کی آزمائش دراصل اس کا کمپریشن ٹیسٹ (compression test) جس سے براہ راست مائلیج کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا مگر انجن کے استعمال اور اس میں کسی قسم کے مسئلہ کی نشاندہی میں ضرور معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ انجن کی حالت زیادہ ہی غیر ہو تو اس کی وجہ صرف یہی ہوسکتی ہے کہ گاڑی زیادہ سفر کرچکی ہے۔

ڈیش بورڈ کے قریب پیچ دیکھیں

270820111027

اوڈومیٹر میں رد و بدل کے لیے ڈیش بورڈ کھولا جاتا ہے لیکن ایک بار کھل جانے پر اسے دوبارہ پہلے کی طرح کا جوڑنا بہت مشکل کام ہے۔ اکثر مکینک اسی وجہ سے کوئی خم چھوڑ دیتے ہیں جسے آپ باآسانی پکڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر اگر ڈیش بورڈ سے کوئی پیج غائب ہو، غلط لگا ہوا ہو یا کسی پیج کے سرے پر پیج کسنے کے نشان ہوں تو آپ اسے بطور ‘ثبوت’ پیش کرسکتے ہیں۔

اسپیڈومیٹر کی سوئی پر غور کریں

DSC00032

اسپیڈومیٹر کی سوئی اگر ساکت نہیں رتی اور اس میں مسلسل لرزِش ہے تو اس کی بہت سے وجوہات میں سے ایک اوڈومیٹر میں چھیڑ چھاڑ بھی ہے۔ آپ کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ رفتار بتانے والے میٹر کا کانٹا کیوں نہیں ایک جگہ نہیں رک رہا اس لیے گاڑی کے موجودہ مالک سے اس بابت ضرور دریافت کریں۔

اس کے علاوہ دروازوں، نشستوں، دستی بریکس سے بھی گاڑی کی مجموعی مسافت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن میں اندرونی حصوں اور انجن کی جانچ کو بیرونی حالت کی آزمائش پر توجیح دیتا ہوں جس کی وجہ جاپان سے درآمد ہونے والی گاڑیاں ہیں۔ تقریباً 95 فیصد جاپانی گاڑیوں میں اوڈومیٹر میں دکھائی جانے والی مائلیج حقیقی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ اگر گاڑی کو بڑی شاہراہوں اور ہائی ویز پر استعمال کیا گیا ہو تو ان کی ظاہری حالت بہت اچھی رہتی ہے اس لیے زیادہ مائلیج والی گاڑیاں بھی کم استعمال ہوئی لگتی ہیں۔ اسی طرح اگر ایک گاڑی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور اونچے نیچے راستوں پر زیادہ سفر کرتی ہے تو اس کی بیرونی حالت کم مائلیج کے باوجود زیادہ خراب ہوجاتی ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں گاڑی اور موٹر سائیکل کے میٹرز سے چھیڑ چھاڑ بہت بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں جس سے گاڑی کی کُل مسافٹ کا ریکارڈ مرتب کیا جاسکے اور پھر اس ریکارڈ سے خرید و فروخت کے وقت فائدہ اٹھایا جاسکے۔یہی وجہ ہے کہ آج گاڑی کی مجموعی مسافت معلوم کرنا مشکل اور دھوکہ دینا آسان ہوچکا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ بہت سے قارئین سوچیں کہ اوڈومیٹر کے مائلیج میں تبدیلی کے لیے جدید طریقہ کار استعمال کیا جاسکتا ہے اور درج بالا –چیزوں کو نئے سے تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے تو پھر انہیں دیکھنے فائدہ کیا؟ تو اس کا جواب ہے کہ یہ تمام کام بہت پیچیدہ اور مہنگے ہوتے ہیں اس لیے زیادہ تر فروخت کار ان پر عمل نہیں کرتے۔

Shaf Younus

I'm an Auto Enthusiast, a Student of Computer Science and above all, Citizen of Pakistan.

  • Ahtesham

    Great Information!

Top