چینگدو آٹو شو 2016 میں پیش کی جانے والی 4 بہترین گاڑیاں

Honda Gienia

10 روزہ چینگدو آٹو شو 2016 چین میں زور و شور سے جاری ہے۔ 2 ستمبر سے شروع ہونے والا یہ موٹر شو آئندہ اتوار 11 ستمبر کو اختتام پزیر ہوگا۔ رواں سال چینگدو آٹو شو میں 110 چینی و غیر ملکی برانڈز حصہ لے رہی ہیں جن میں عالمی شہرت یافتہ کار ساز ادارے ٹویوٹا، جنرل موٹرز، ہیونڈائی، بی ایم ڈبلیو، ہونڈا کا نام بھی شامل ہیں۔ اب تک اس موٹر شو میں متعدد گاڑیاں متعارف کروائی گئی ہیں جن میں سے 4 بہترین گاڑیوں کا تعارف ہم اپنے قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں ۔

ہونڈا جینیا (Honda Gienia)

چینی ادارے ڈونگ فینگ موٹر کارپوریشن اور جاپانی کمپنی ہونڈا موٹرز کے اشتراک سے بنائی جانے والی نئی ہونڈا جینیا متعارف کروادی گئی ہے۔ اسے پاکستان میں دستیاب ہونڈا سِٹی (City) کی چینی ہم شکل ہونڈا گریز کے پلیٹ فارم پر مقامی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ہونڈا جینیا میں 4-سلینڈر 1500cc نیچرلی اپسریٹڈ پیٹرول انجن شامل ہےجو 131 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔5-اسپیڈ مینوئل یا CVT گیئر باکس کا انتخاب بھی موجود ہے۔ ہونڈا جینیا کی لمبائی 4517 ملی میٹر، چوڑائی 1705 ملی میٹر اور اونچائی 1477 ملی میٹر ہے جبکہ اس کا ویل بیس 2600 ملی میٹر ہے۔2016 کی آخری سہہ ماہی میں فروخت کے لیے پیش کی جانے والی ہونڈا جینیا کے مختلف ماڈلز کی قیمت 75,000 سے 1,10,000 یوآن (تقریباً 11,74,218 سے 17,22,136 پاکستانی روپے) ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مہران کی ہم شکل چینی گاڑی پاکستان آیا چاہتی ہے؟

ہیونڈائی ورنا (Hyundai Verna)

چینی کمپنی بیجنگ آٹوموٹیو گروپ اور گاڑیاں بنانے والے جنوبی کوریائی ادارے ہیونڈائی موٹر کمپنی کی جانب سے نئی ہیونڈائی ورنا پیش کی گئی ہے۔ ہیونڈائی ورنا کو 2 مختلف انجن 1400cc اور 1600cc انجن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ 1400cc انجن 100 ہارس پاور جبکہ 1600cc انجن 123 ہارس پاور فراہم کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گاڑی میں 6-اسپیڈ مینوئل گیئر باکس کے علاوہ قدیم زمانے کا 4-اسپیڈ آٹومیٹک ٹرانسمیشن بھی دستیاب ہے۔ ہیونڈائی ورنا کی لمبائی4380 ملی میٹر، چوڑائی 1728 ملی میٹر، اونچائی 1460 ملی میٹر ہے جبکہ اس کا ویل بیس 2600 ملی میٹر ہے۔نئی ہیونڈائی ورنا گزشتہ ماڈل سے 5 ملی میٹر لمبی اور 28 ملی میٹر چوڑی ہے جبکہ اس کا ویل بیس بھی 30 ملی میٹر زیادہ ہے۔ ہیونڈائی ورنا کو رواں سال چین میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے جبکہ آئندہ سال اسے بھارت سمیت دیگر ممالک میں بھی پیش کیا جائے گا۔نئی ہیونڈائی ورنا 2017 کے مختلف ماڈلز کی قیمت 60,000 یوآن سے 90,000 یوآن (تقریباً 9,38,980 سے 14,08,470 پاکستانی روپے) ہوسکتی ہے۔

شیورلے کوالیئر (Chevrolet Cavalier)

چینی ادارے سائیک موٹر کارپوریشن لمیٹڈ اور مشہور امریکی کمپنی جنرل موٹرز (GM) کمپنی کے اشتراک سے سے شیورلے کروز (آخری جنریشن) پلیٹ فارم پر تیار کی جانے والی شیورلے کوالیئر پیش کی گئی ہے۔ اگلے پہیوں کی قوت سے چلنے والی اس گاڑی میں 4-سلینڈر 1500cc پیٹرول انجن شامل ہے جو 113 ہارس پاور فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ 5-اسپیڈ مینوئل یا آٹومیٹک گیئر باکس کا انتخاب بھی موجود ہے۔شیورلے کوالیئر کی لمبائی 4544 ملی میٹر، چوڑائی 1779 ملی میٹر اور اونچائی 1467 ملی میٹر ہے جبکہ ویل بیس 2600 ملی میٹر ہے۔ رواں سال ماہ ستمبر میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس کے مختلف ماڈلز 79,900 یو آن سے 1,09,900 یوآن (تقریباً 12,51,018 سے 17,20,738 پاکستانی روپے) میں دستیاب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی صارفین کے لیے موزوں 7 کم قیمت اور مختصر چینی گاڑیاں

پیجیو 308سیڈان (Peugeot 308 Sedan)

چینی کمپنی ڈونگ فینگ موٹر کارپوریشن اور گاڑیاں بنانے والے فرانسیسی ادارے پیجیو نے چینگدو آٹو شو میں 308سیڈان کی رونمائی کی ہے۔ اس خوبصورت سیڈان کو دو مختلف انجن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ 1200cc ٹربو انجن 136 ہارس پاور جبکہ 1600cc انجن 117 ہارس پاور فراہم کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ 1200cc ماڈل میں 5-اسپیڈ مینوئل یا 6-اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس کا انتخاب موجود ہے جبکہ 1600cc ماڈل صرف 5-اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن کے ساتھ ہی پیش کیا جائے گا۔ پیجیو 308 سیڈان کی لمبائی 4590 میٹر، چوڑائی 1820 میٹر اور اونچائی 1488 میٹر ہے جبکہ اس کا ویل بیس 2675 میٹر ہے۔ اسے چینی مارکیٹ کے لیے ستمبر کے مہین میں پیش کیا جائے گا۔ اس کی قیمت 1,08,000 یوآن سے لے کر 1,60,000 یوآن (16,85,501سے 24,97,544 پاکستانی روپے) ہوگی۔

پڑوسی ملک چین کو پاکستان کا سب سے قریبی اور دیرینہ دوست تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی جیتی جاگتی مثال پاک چین اقتصادی راہداری کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ گو کہ فی الوقت صرف ایک ہی چینی ادارہ FAW مسافر گاڑیوں کے شعبے میں کام کر رہا ہے تاہم اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد دیگر چینی اداروں کی پاکستان آمد کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ چین ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے اور پاکستان کے پاس بہترین مواقع ہیں کہ چین سے سیکھتے ہوئے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے۔

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top