چین میں “دماغ” سے گاڑی چلانے کا تجربہ کامیاب

China

ایک ایسے وقت میں کہ جب ہم اپنی آٹو پالیسی تک نہیں بنا سکے اور قدیم گاڑیوں پر نئے رنگ کر کے اپنا دل بہلا رہے ہیں، ہمارے پڑوسی اور دیرینہ دوست ملک چین میں ایسی جدید ٹیکنالوجی پر کام مکمل ہوگیا ہے جس کے ذریعے انسان صرف اپنے دماغ سے ہی گاڑی چلا سکے گا۔ جی ہاں، آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا ‘انسانی دماغ’ سے۔ اور اس ضمن میں چین میں کیا گیا تجربہ بھی کامیاب ہوگیا ہے۔ اس تجربہ میں گاڑی کو صرف دماغ کے ذریعے آگے بڑھانے، پیچھے کرنے، روکنے اور دروازوں کو کھولنے اور بند کرنے کا عملی تجربہ کیا گیا ہے۔

انسانی دماغ کے ذریعے چلنے والی گاڑی کی تیاری میں دو سال کا طویل عرصہ لگا۔ اس دوران کئی ایک آزمائشوں سے گزارا گیا اور بالآخر ایک ایسا نظام تیار ہوگیا جو ڈرائیور کے دماغ کو پڑھ کر ہدایات سافٹویئر کو ارسال کرتا ہے اور پھر سافٹویئر اسے گاڑی تک پہنچاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک بار پھر! چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بدترین ٹریفک جام

محقق زانگ زو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انسان دماغ کو پڑھنے والے آلہ میں 16 سنسرز لگائے گئے ہیں۔ اس آلے کو ڈرائیور اپنے سر پر پہنتا ہے جو ڈرائیور کے دماغ سے (EEG (electroencephalogram سگنلز کو وصول کرتا ہے۔ انسانی دماغ سے نکلنے والے بے شمار سگنلز میں سے متعلقہ سگنلز کو علیحدہ کرنے اور انہیں گاڑی کنٹرول کرنے کے قابل بنانے کے لیے خصوصی کمپیوٹر پروگرام بنایا گیا ہے۔ EEG موصول ہونے والے سگنلز کو کمپیوٹر میں منتقل کرتا ہے اور کمپیوٹر ان سگنلز کو مختلف زمرہ جات میں تقسیم کر کے گاڑی کو ہدایات جاری کرتا ہے۔

اس کوشش کا مقصد مستقبل کی گاڑیوں اور دیگر روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ محققین نے بغیر ڈرائیور چلنے والی گاڑیوں پر کام کرنے کے بجائے انسانی دماغ سے گاڑی چلانے کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے کو ترجیح دی جو آواز یا جسمانی اعضاء کے ذریعے کنٹرول کرنے سے زیادہ بہتر اور موثر خیال کی جارہی ہے۔

دنیا بھر میں ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں اور ٹیکنالوجی پر کام کیا جارہا ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ چند سالوں میں دستیاب خود کار گاڑیوں میں دماغ سے ہدایات دینے کی خاصیت بھی شامل کرلی جائے۔ اس سے مسافر بغیر کسی جسمانی حرکت کے آرامدے سفر کرتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں۔ بہرحال، اس کے لیے ہمیں کچھ وقت انتظار کرنا ہوگا اور مستقبل ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے کتنی معاون ثابت ہوتی ہیں۔

چین میں دماغ کے ذریعے چلائی جانے والی گاڑی کے کامیاب تجربے کی ویڈیو یہاں ملاحظہ کریں۔

Top