چینی ٹرک مینوفیکچرر ز پاکستان کی معاشی ترقی کا حصہ بننے کے خواہاں۔

2

پی۔اے۔پی۔ایس(پاکستان آٹو پارٹس شو)نے نا صرف باہمی شراکت کے دائرے میں آگے بڑھنے کے لئے مقامی کمپنیوں کو رضامندی ظاہر کرنے کے لئے منظم کیا ہے بلکہ پی۔اے۔پی۔ایس 2017نے ملکی آٹو موبائل انڈسٹری کی تیزی سے بہتر ہوتی صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔اسی حوالے سے، ٹرکوں کی ایک بڑی تعداد چین پاکستان اقتصادی راہداری کے راستے چیزوں کی منتقلی کے لئے استعمال ہو گی اورچینی مینوفیکچررز پاکستانی مارکیٹ میں آنے اور جاپان پر حاوی آٹو موبائل سیکٹر کے بڑے شیئرزحاصل کرنے کا عظم رکھتے ہیں۔

سی پیک کی اہمیت اور اس کی ہیوی وہیکلزکی ضرورت کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیکھیں توچائنیز ٹرک مینوفیکچررزکا یہ اقدام کہ نمائش میں ان کی تعداد کا غلبہ ہونا اتنا حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔

”ایکسپریس ٹرِبیون سے بات کرتے ہوئے ڈیذِن آٹوموبائل لمیٹڈ کے ٹینڈر مینجر اور کمرشل سیلزجاویداقبال کا کہنا تھا کہ ہم اگلے مہینوں میں بہتر سیلز کی امید رکھتے ہیں“

ڈیذِن آٹوموبائلز کیا ہے؟اور اس کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟

سوال میں جس کمپنی کا ذکر ہے وہ پی۔اے۔پی۔ایس کی مستقل نمائش کنندہ ہے اور پاکستان کو 700سے زاید ٹرک فروخت کر چکی ہے۔ان ٹرکوں کی موجودگی ملک کے روائتی سیکٹرز جیسا کہ آئل، ٹرانسپورٹ، اور بڑے انفراسٹرکچر پراجیکٹس میں دیکھی جا سکتی ہے۔جیسا کہ سی پیک کی بڑھتی معاشی ایکٹیویٹی کی بدولت ہیوی وہیکلز کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اس بات کی تصدیق اس امر سے ہی ہو جاتی ہے کہ بہت سے چھوٹے کنسٹرکٹر زیہ آسان اور کم قیمت ٹرک خریدنے اور کام کا بوجھ کم کرنے میں خاصے پرسکون نظر آتے ہیں۔

پی۔اے۔پی۔ایس 2017ہیوی وہیکل کی نمائش کا مختصراً تجزیہ۔

اس سال آٹو پارٹس شو میں شرکت کے لئے کل ملا کے چار ٹرک بنانے والی کمپنیوں نے شرکت کی۔مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے تین کا تعلق چائنہ سے اور ایک کا یورپ سے تھا۔ہمیشہ کی طرح ہر چائنیزمینوفیکچرر کی قیمت دوسرے کے مقابلے موزوں تھی۔جہاں ایک چائنیز ٹرک7.8ملین میں خریدا جا سکتا تھا وہیں جاپانی مینوفیکچرر وہی چیز 12.6ملین میں فروخت کر رہے تھے۔

مگر جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے،اس تقریب کی سب سے بڑی بات یورپین اور جائنیزمینوفیکچررز کی شمولیت نہیں بلکہ قابلِ ذکر بات سٹیک ہولڈرز کا جی جان سے اسے پسند کرنا اور ملکی ترقی میں مل کر آگے بڑھنا ہے۔

Top