اوگرا کے ساتھ تنازعہ؛ CNG اسٹیشنز کا غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان

CNG Closed

سی این جی اسٹیشن مالکان کی انجمن ‘آل-پاکستان CNG ایسوسی ایشن’ نے سندھ میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ اس اعلان کے بعد کراچی سمیت صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز بند کردیئے گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے سندھ میں سی این جی لیٹر کے حساب سے فروخت کرنے کی اجازت نہ دیئے جانے کے خلاف کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اوگرا نے سندھ میں کلو کے حساب سے سی این جی فروخت کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جبکہ سی این جی مالکان لیٹر پر فروخت کرنے پر بضد ہیں۔

اس سے قبل سی این جی ایسوسی ایشن کے وفد نے شبیر سلیمان جی کی سربراہی میں اوگرا کے ایک وف سے کراچی میں ملاقات کی اور انہیں اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر اوگرا کے ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف شاہ بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران سندھ میں سی این جی کی قیمت اور فروخت کرنے کے طریقہ کار پر بھی گفتگو کی گئی۔ تاہم ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ ملاقات زیادہ سودمند ثابت نہ ہوئی۔

اردو لغت: CNG اسٹیشنز پر اضافی رقم کی وصولی اور ہماری لاپرواہی

شبیر سلیمان جی نے ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اوگرا کے نمائندوں پر دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کے نمائندوں نے لیٹر کے حساب سے سی این جی فروخت کرنے پر ایسوسی ایشن کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی ہے۔ یاد رہے کہ رواں ہفتے سی این جی مالکان نے سندھ میں لیٹر کے حساب فروخت کا آغاز کیا تھا جبکہ اس سے پہلے یہ گیس کلو کے حساب سے فروخت کی جاتی رہی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبہ پنجاب میں گیس لیٹر ہی کے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے۔

سی این جی ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ سی این جی کی نئی قیمت کا تعین مکمل قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹر اتھارٹی کو سی این جی کی قیمت متعین کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

رواں سال کے آغاز میں سینٹ کی جانب سے اوگرا کو دو ماہ میں سی این جی مالکان کے ساتھ تنازعات حل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ تاہم چھ ماہ گزر جانے کے باوجود یہ معاملہ جوں کا توں ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ وقت کے ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ اور گھمبیر ہوتا چلا جارہا ہے۔

Top