قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ٹریفک اہلکاروں کے خلاف اقدامات اٹھانے کا عدالتی حکم


لاہور ہائی کورٹ نے ٹریفک کے اعلیٰ عہدیداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹس نہ پہننے والے اور اپنی موٹر سائیکلوں پر سائیڈ مِررز نہ لگانے والے سپاہیوں اور ٹریفک اہلکاروں کے خلاف بھی سخت اقدامات اٹھائے۔

مقامی میڈیا اداروں کی جانب سے کئی مرتبہ بتایا گیا ہے بلکہ عام طور پر بھی دیکھا گیا ہے کہ ٹریفک اہلکار کسی بھی مندرجہ بالا قانون کی خلاف ورزی پر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں، لیکن ٹریفک قوانین کی انہی خلاف ورزیوں میں ملوث اپنے اہلکاروں کو سزا نہیں دی جاتی۔

عدالت نے یہ حکم ایک وکیل کے مطالبے پر دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے تو ٹریفک اہلکار اور دیگر قانون نافذ کرنے والے شعبوں کے عہدیداروں کو ٹریفک کی خلاف ورزی پر ٹکٹ جاری کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور اگر جج ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ادا کر سکتا ہے تو دوسرے کیوں نہیں؟

جج نے نئے ای-ٹکٹنگ نظام کو بھی سراہا۔

گزشتہ کئی روز سے ٹریفک پولیس لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی بھرپور پیروی کرتے ہوئے کم عمر ڈرائیورز اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ نہ پہننے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔

پولیس نے ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹر سائیکل سواروں کو مال روڈ، لاہور میں داخلے تک سے روکا ہوا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو 200 سے 700 روپے تک کے جرمانے کیے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک ٹریفک وارڈن نے کہا کہ تمام ٹریفک وارڈنز اپنا کام پوری تُندہی سے کر رہے ہیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی فرد کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی۔

ہماری طرف سے اتنا ہی، اس بارے میں اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top