کراچی میں “نئے” مگر “نامکمل” پُل پر دراڑیں پڑگئیں!

malir-bridge-featured

کراچی کے شہری تو ملیر 15 کے پُل سے بخوبی واقف ہیں لیکن اگر آپ کسی دوسرے شہر میں رہتے ہیں تو آپ کو اس پُل کی اہمیت بتاتے ہیں۔ شہرِقائد کے گنجان ترین علاقوں میں سے ایک ملیر بھی ہے اور یہاں عرصہ دو سال سے ایک پُل تعمیر کیا جارہا ہے جس کا مقصد شہری علاقے کو صنعتی علاقے تک بذریعہ سڑک آسان اور تیز تر رسائی فراہم کرنا ہے۔ ملیر 15 فلائی اوور کے نام سے مشہور اس پُل کے ایک جانب بڑی شہری آبادی ہے تو دوسری جانب ٹویوٹا کرولا، FAW V2، سوزوکی مہران، یاماہا کے علاوہ ٹائرز (Tyres)، دوائیں، کپڑے بنانے والے کارخانے موجودہیں۔ مگر اس میں نہ جانے ایسی کیا بات ہے کہ طویل عرصہ گزرجانے اور دس کروڑ کی خطیر رقم لگ جانے کے بعد یہ مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

The flyover took so long to construct that people put graffiti on the walls and was a parking spot for a while.

اس پُل کی تعمیر کا سلسلہ کئی بار بے جا توقف کا شکار رہا ہے۔ ہمارے معتبر ذرائع کے مطابق اس کی تکمیل کے لیے چند اداروں نے ذرائع ابلاغ پر باقاعدہ مہم چلائی جس کے دباؤ میں آکر وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ نے متعلقہ اداروں کو تیزی سے کام کرنے مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس پُل کا 25 فیصد حصہ اب بھی نامکمل ہے جس کی تکمیل کے لیے کچھ روز قبل ہی وزیر اعلی کے ہاتھوں سے آغاز کروایا گیا ہے۔ باقی ماندہ حصے اب تک تعمیر نہ ہونے کی وجوہات میں غیر قانونی تجاوزات اور مالی وسائل کی کمی بتائی گئی۔ وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اس ملیر 15 فلائی اوور جو رواں سال جون تک مکمل کرلیا جائے گا۔

ملیر 15 کا پُل 257 میٹر طویل ہے۔ اس کی تعمیر پر 9 کروڑ 13 لاکھ سے زائد رقم خرچ ہوچکی ہے۔لیکن حیرت انگیز اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ پُل کی تعمیر میں استعمال ہونے والے ناقص سامان کی وجہ سے اس “نئے” پُل پر دراڑیں بھی پڑنا شروع ہوگئیں ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ پُل کی تعیر میں استعمال ہونے والی بیم (beam) کھسک رہی ہیں اور ان کے کنارے بھاری گاڑیوں کی آمد رفت کی وجہ سے جھڑنا شروع ہوچکی ہیں۔ پُل تعمیر کرنے کا ٹھیکہ نجی ادارے کائنات کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا تھا۔ پُل پر نظر آنے والی دراڑوں سے متعلق ان کا موقف ہے کہ یہ دراصل ‘جوڑ’ کے نشان ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ایک انجینئر نے بتایا کہ ان دراڑوں کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کیوں کہ اگر ان کی گہرائی زیادہ ہوئی تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

Shah Faisal To Korangi FLyover

اس کے علاوہ شاہ فیصل ٹاؤن اور کورنگی کے صنعتی علاقے کو ملانے والا پاکستان کا طویل ترین پُل بھی مافیا کے قبضے میں نظر آتا ہے جو کی تعمیر کے لیے منگوائی گئی ریت اٹھا کر لے جارہے ہیں۔ مافیا کے کارندے پُل کی بنیادوں میں موجود مٹی نکالنے سے بھی احتراز نہیں برت رہے ہیں جس سے پُل کے کمزور ہوجانے کا خدشہ ہے۔ معروف انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پُل کے آس پاس پانی بہنے کی وجہ سے بھی اسے شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Baber K. Khan

An auto enthusiast trying to bring car media mainstream.

Top