گاڑیوں کے ڈیش بورڈ پر کیمرے کی تنصیب لازم ہونی چاہیے

image1

سرکاری ادارے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک کی مختلف شاہراہوں پر سالانہ 9 ہزار حادثات ہوتے ہیں جس میں مرنے والوں کی شرح ساڑھے 4 ہزار سالانہ ہے۔ گو کہ یہ تعداد ہمارے رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہے لیکن یہ بھی جان لیجیے کہ ان میں وہ حادثات شامل نہیں جن کی شکایت متعلقہ اداروں کو موصول ہی نہیں ہوئیں۔ اس اعداد و شمار کے مطابق بھی دیکھا جائے تو تقریباً 25 گاڑیاں روزانہ حادثات کا شکار ہوتی ہیں جس میں کسی بھی شخص کو جانی اور مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان حادثات کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ سے لے کر پیدل چلنے والوں کی غفلت تک سب ہی کچھ شامل ہے۔ اچھے ڈرائیور کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے تمام حفاظتی تدابیر پر عمل کرے لیکن اس کے باوجود حادثات کسی دوسرے کی غفلت سے ہوجاتے ہیں جس کا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر بات کی جائے تو ملک میں کوئی ایسا نظام یا ادارہ موجود نہیں جس سے حادثے کے ذمہ داروں کو پکڑنے اور سزا دینے کی امید رکھی جائے۔ یوں بعض اوقات قصور کسی اور کا اور مجرم کوئی اور ٹہرتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کا ایک طریقہ کیمروں کا استعمال ہے۔

گاڑیوں کےڈیش بورڈ پر لگانے کے لیے مخصوص کیمرہ ایک طویل عرصے سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔انہیں عرف عام میں ڈیش کیمز کہا جاتا ہے۔ہم امریکا، یورپ اور روس کی بات نہیں کر رہے بلکہ آپ کے اپنے ملک پاکستان میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا یہ شاہکار باآسانی دستیاب ہے۔یہ کیمرےگاڑی کے اگلے شیشے پر لگائے جاتے ہیں جو گاڑی کے تمام سفر کو محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کچھ کار ساز ادارےکچھ اضافی کیمروں کی بھی سہولت فراہم کرتے ہیں جس سے ڈرائیور کو مزید سہولت میسر آتی ہے۔

کسی بھی حادثے کی صورت میں ان کیمروں سے ہونے والی ریکارڈنگ کو بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے جس سے مجرم کے درست تعین کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ کچھ ڈیش کیمز انٹرنیٹ استعال کرنے بھی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے آپ گاڑی میں موجود نہ رہتے ہوئے بھی اپنے لیپ ٹاپ یا موبائل سے گاڑی سے آگے کے مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ کیمرے گاڑی چوری ہوجانے کی صورت میں بھی بہت معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

پاکستان میں یہ ڈیش کیمز کافی عرصے سے دستیاب ہیں لیکن انہیں عوا م میں مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے ڈرائیورں کی لاعلمی یا حفاظتی معیارات پر عدم توجہ ہے۔ میرے ذاتی خیال میں محض تھوڑی سی سرمایہ کاری آپ کو بہت سے پیچیدہ مسائل سے بچا سکتی ہے۔ ڈیش کیمز بہت زیادہ مہنگے بھی نہیں اور اگر آپ چینی ساختہ کیمرے لیتے ہیں تو مجموعی اخراجات 7 ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہوں گے۔-

جدید نیوی گیشن کی حامل گاڑیوں میں ڈیش کیم سے منسلک ہونے کی بھی سہولت موجود ہے جو ویڈیو ریکارڈ کرنے کے علاوہ گاڑی کے دیگر کاموں جیسے ایکسلریشن اور بریکس پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ حالیہ چند دنوں میں گاڑی کے پچھلے حصے میں لگائے جانے والے کیمرے کی مقبولیت میں اضافہ نظر آرہا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اگر ہمارے ذمہ دار ڈرائیور حضرات کیمرے لگانا شروع کریں تو مستقبل قریب میں مزید بہتر اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیمرے بھی مارکیٹ میں پیش کیے جانے لگیں گے۔ یہ معمولی سے چیز آپ اور آپ کی گاڑی کی حفاظت کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔

image2

M. Fahad Ghouri

I am an Electrical Engineer by profession but automotive field has been my passion from birth. I have been working on almost every aspect of vehicles along with many DIY projects.

Top