نئی گاڑیوں پر ‘اون منی’ چارج کرنے والے ڈیلرز کو بلیک لسٹ کردیا جائے گا


وفاقی حکومت نے گاڑیوں کی خریداری پر ‘اون منی’ یا کار پریمیئم کے غیر قانونی کاروبار کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ ترتیب دے دیا ہے۔ منصوبے کے مطابق نئی گاڑی کی جلد ڈلیوری کے لیے ‘اون منی’ طلب کرنے والے کار ڈیلرز کو بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعت و پیداوار اور سرمایہ کاری عبد الرزاق داؤد کی زیر صدارت پیر کو ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ آٹوموبائلز سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کے عہدیدار بھی اجلاس میں موجود تھے۔

گاڑیاں بنانے والے مقامی اداروں سے تحریری “ضمانت” طلب کی گئی تھی کہ وہ غیر قانونی رقوم چارج کرنے والے ڈیلرز کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ‘اون منی’ عموماً نئے کار خریداروں سے طلب کیا جاتا ہے جو اصل اور رسید پر موجود قیمت سے زائد ہوتا ہے۔ صارفین کو جلد ڈلیوری کے لیے حد سے زیادہ قیمت پر نئی گاڑیاں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ چند آٹو ڈیلرز کے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے پر نظر رکھنے کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک متوقع ہے۔

قبل ازیں 2 اپریل 2019ء کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے اس عمل کی روک تھام کے لیےایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ وزیر قانون اور وزیر خزانہ پر مشتمل کمیٹی کو مختلف اقدامات کے ذریعے نئے گاڑیوں کی خرید کو ریگولیٹ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی کہ جن میں ڈیلرز اور منوفیکچررز پر جرمانے بھی شامل ہیں۔

کار میکرز انکاری

گو کہ بڑے پیمانے پر سمجھا جاتا ہے کہ گاڑیاں بنانے والے نئی گاڑیوں پر خریداروں سے ‘اون منی’ لینے والے ڈیلرز کی پشت پناہی کرتے ہیں، انہوں نے بارہا اور اب بھی اس عمل میں کسی بھی قسم کی شرکت سے انکار کیا ہے۔ کار ڈیلرز کا کہنا ہوتا ہے کہ چند نئی گاڑیوں کی طلب اور رسد میں موجود گیپ کی وجہ سے وہ پریمیئم منی لینے پر مجبور ہیں۔

20 مارچ 2019ء کو وفاقی کابینہ نے ‘اون منی’ کو روکنے کی ہدایت دی اور اسے گاڑیاں خریدنے والوں کا استحصال قرار دیا۔

دریں اثناء، غیر قانونی ‘اون منی’ کا مسئلہ سرکاری اداروں کے درمیان اختیارات پر اختلاف کی وجہ سے بدستور موجود ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کا کہنا تھا کہ کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کو مقامی کار اسمبلیز کے خلاف سخت قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ سینٹرلائزیشن جیسے مسائل اس کے تحت آتے ہیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت نے آٹو مارکیٹ میں مقابلے کی فضاء پیدا کرنے کے لیے آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی 2016-21ء متعارف کروائی تھی۔ یہ پالیسی پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں داخل ہونے والے نئے کار مینوفیکچررز کو ٹیکس پر رعایتیں دیتی ہے۔

موجودہ پالیسیوں کے تحت نئی گاڑیوں کے خریدار سے کل لاگت کا 50 فیصد سے زیادہ طلب نہیں کیا جا سکتا۔ مقامی آٹو اسمبلر ایڈوانس کی ادائیگی کے بعد دو مہینوں میں نئی گاڑی کی فراہمی کے پابند ہیں۔ اگر ڈلیوری میں تاخیر ہو تو کار میکرز کو 2 فیصد جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔


Google App Store App Store

Top