گاڑیوں کی ماہانہ پیداوار میں مزید کمی


اعداد و شمار پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے یہ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی پیداوار میں مسلسل اور واضح کمی ہوئی ہے۔ کاروں اور جیپوں کی اسمبلنگ میں مالی سال ‏2018-19ء‎ کے گزشتہ دس ماہ میں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر 2.93 فیصد کمی آئی ہے جیسا کہ پاکستان کے محکمہ شماریات نے بتایا ہے۔ 

سال ‏2017-18ء‎ کے دوران بننے والی کاروں اور جیپوں کے مقابلے میں ‏2018-19ء‎ میں پیداوار 1,96,677 یونٹس سے گھٹ کر 1,90,913 یونٹس تک آ گئی ہے، جو 2.93 فیصد کی منفی شرح ظاہر کرتی ہے۔ یہی کچھ لائٹ کمرشل گاڑیوں (LCVs) کی مینوفیکچرنگ میں بھی نظر آیا کہ جس میں مذکورہ دورانیے میں 14.58 فیصد کمی آئی، جس میں LCVs کی پیداوار 25,117 سے گھٹ کر 21,454 ہوگئی جو بہت واضح کمی ہے۔ مزید یہ کہ موٹر سائیکلوں کی پیداوار کا بھی جائزہ لیا گیا اور موٹر سائیکل انڈسٹری کی مینوفیکچرنگ میں بھی زبردست کمی آئی ہے جو گزشتہ سال 23,55,818 کے مقابلے میں ‏2018-19ء‎ میں گھٹتے ہوئے 20,76,059 تک ہوگئی ہے، یعنی 11.8 فیصد حیران کن کمی۔ ٹرکوں کی پیداوار بھی 29.96 فیصد کی بڑی کمی آئی ہے جو 7,736 کے مقابلے میں اس سال 5,418 ہو گئی۔ اس عرصے کے دوران صرف بسوں کی پیداوار میں مثبت اضافہ دیکھنے کو ملا جو 648 سے 735 یونٹس سالانہ تک پہنچی ہے، لگتا نہیں کہ یہ معاملہ بھی زیادہ دیر چلے گا۔ 

سالانہ بنیادوں پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کاروں اور جیپوں کی پیداوار میں اپریل 2018ء کے مقابلے میں محض اپریل 2019ء میں ہی 27.19 فیصد کمی آئی ہے۔ اپریل 2019ء کے دوران 20,670 جیپیں اور کاریں بنائی گئیں جبکہ PBS ڈیٹا کے مطابق اپریل 2018ء میں یہ تعداد 15,050 تھی۔ موٹر سائیکلوں کی اسمبلنگ میں بھی 16.24 فیصد کمی آئی جو 2,47,712 سے 2,07,479 یونٹس تک پہنچ گئی ہے جبکہ LCVs کی مینوفیکچرنگ میں 23.65 فیصد کمی آئی ہے جس کے پچھلے سال کے 2,512 کے مقابلے میں اس بار 1,918 یونٹس بنے ہیں۔ 

اس بحران میں مزید کرلیں کیونکہ ٹریکٹر انڈسٹری بھی خوش قسمت نہیں رہی جس نے اپریل 2017-18ء میں 7,950 یونٹس بنائے تھے لیکن اپریل ‏2018-19ء‎ میں یہ تعداد گھٹتے ہوئے 5,673 تک آ گئی۔ یہ سب کچھ بنیادی طور پر ناکام ہوتی معیشت کی وجہ سے ہوا کہ جس میں زیادہ تر افراد اپنی ضرورت کا ساز و سامان بالخصوص ٹریکٹرز خریدنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ 

ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عمومی طور پر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کو رواں مالی سال کے ابتدائی دس مہینوں میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 3.51 فیصد کے زوال کا سامنا ہوا۔ 

LSMI کوانٹم انڈیکس نمبر جولائی تا اپریل (‏2017-18ء)‎ کے مقابلے میں جولائی تا اپریل (‏2018-19ء‎) کے دوران 150.84 پوائنٹس سے گرتا ہوا 145.54 پوائنٹس تک پہنچ گیا یعنی اس میں 3.51 فیصد کی کمی آئی۔


Google App Store App Store
Awais Yousaf

I'm a crazy car guy. I want an aeroplane hangar full of cars. Is that too much to ask for?

Top