دیوان کی جانب سے BMW کی فراہمی میں تاخیر – غلطی کس کی؟


تاریخ آئی اور گزر بھی گئی، لیکن آپ کی نئی گاڑی کے آنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، آخر وہ ہے کہاں؟ اپنی پسندیدہ گاڑی بک کروانا اور پھر اس کے آنے تک کا انتظار کرنا رولر کوسٹر کے سفر جیسا لگتا  ہے یعنی خوشی بھی اور بے چینی بھی، لیکن جب تاریخ بھی گزر جائے تو لوگوں کے لیے بہت مایوس کن ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کی فراہمی میں تاخیر کا مسئلہ بہت بڑھ گیا ہے، ڈیلرز جواب میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں ‘بس چند ہفتے اور’، حالانکہ ڈیلرشپ معاہدے میں یہ درج ہوتا ہے کہ گاڑی ادائیگی کے بعد 6 ماہ کے اندر آ جائے گی۔

حال ہی میں PakWheels.com نے MDS فوڈز پرائیوٹ لمیٹڈ کے جناب عثمان اشرف کے دیوان گروپ کے حوالے سے تجربے پر ایک خبر پائی۔ جناب عثمان نے دیوان گروپ کے ذریعے ایک 5 سیریز BMW بک کروائی تھی، اور مئی 2017ء میں 1,37,29,786 روپے مع ڈیوٹی کی مکمل ادائیگی کے باوجود انہیں اب تک اپنی گاڑی نہیں ملی۔

عثمان صاحب کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق دیوان کے عہدیداروں نے جو وجہ انہیں بتائی ہے، وہ یہ ہے کہ BMW جرمنی میں ایک سافٹویئر ہیک مسئلہ تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے کوئی بھی پیمنٹ آرڈر جاری نہیں کیا۔ ایک اور وجہ جو وہ دیتے ہیں کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ ہو گیا ہے، جو بعد میں یعنی اکتوبر 2017ء میں بڑھی حالانکہ گاڑی کو جولائی اگست 2017ء میں آ جانا چاہیے تھا۔

جب دیوان کے ایک عہدیدار عمر افضال صاحب نے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ مارچ 2017ء میں کیے گئے معاہدے کے مطابق عثمان صاحب کو پہلے 40 فیصد ادائیگی کرنا تھی اور پھر باقی 60 فیصد ڈلیوری کے بعد ادا کرنا تھے۔ جون 2017ء میں عثمان صاحب نے پہلی ادائیگی کی، جس کے بعد بکنگ کے معاہدے آگے بڑھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پیشگی طور پر 50 فیصد تک ادائیگی کرنے سے پہلے بکنگ کو آگے نہیں بڑھایا جاتا اور ایک مرتبہ ادائیگی ہو جانے کے بعد گاڑی کو جرمنی سے پاکستان پہنچنے میں تقریباً 6 مہینے لگتے ہیں۔

باوجود اس کے کہ گاڑی دسمبر 2017ء میں آ گئی لیکن اس کے بعد تنازع ہوا اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی پر۔ عثمان صاحب کے مطابق اگر گاڑی وقت پر مل جاتی تو انہیں اضافی ڈیوٹی ادا نہ کرنا پڑتی۔

اب تک فریقین کسی  تصفیے تک نہیں پہنچے۔ لیکن تاخیر سے گاڑیوں کی فراہمی کا مسئلہ ایسا ہے جو حل طلب ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے یہ وڈیو دیکھیں:


Top