پاکستان میں ڈیزل گاڑیوں کے زوال کی وجوہات

Toyota-Corolla-2.0D

ایک زمانے میں ڈیزل انجن کی حامل گاڑیوں کا بڑا چرچہ تھا۔ تقریباً ایک دہائی یا اس سے کچھ عرصے پہلے تک ہر شخص ڈیزل گاڑیوں کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اسکول میں میرا ایک ہم جماعت اپنے والد کے ساتھ اپنی ٹویوٹا کرولا 1988 میں ڈیزل انجن لگوانے کے لیے اسلام آباد سے پشاور گیا تھا۔ اس زمانے میں کرولا 2.0 سلون بھی لوگوں کی پسندیدہ ترین گاڑی شمار ہوتی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ڈیزل کی قیمت بہت ہی کم تھی۔ مجھے اب بھی وہ وقت یاد ہے کہ جب ڈیزل صرف 10روپے فی لیٹر مل جاتا تھا۔ میرا ایک دوست اپنی انڈس کرولا لے آتا اور ہم چھ دوست اس میں گھس جاتے تھے۔ صرف 100 روپے کے ڈیزل میں سارا دن ادھر ادھر گھومتے رہتے۔سال 2012-13 میں ٹویوٹا نے ڈیزل انجن کی حامل ٹویوٹا کرولا بند کرنے کا فیصلہ کرلیا اور یوں ان کے زوال کی داستان کا اہم باب شروع ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا کی جانب سے ڈیزل گاڑیوں کی تیاری بند کرنے کا عندیہ

ڈیزل گاڑیوں میں سفر کا اپنا ہی مزا تھا۔ آپ کو شاید اخبار میں چھپنے والا ٹویوٹا کرولا 2.0D کا اشتہار یاد ہو جس میں ایک فل ٹینک میں 800 کلومیٹر تک سفر طے کرنے کا دعوی کیا گیا تھا۔ بہرطور ڈیزل انجن والی گاڑیوں کی مقبولیت میں بتدریج کمی آتی رہی جس نے بہت سے لوگوں کو یہ سوال پوچھنے پر مجبور کردیا کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ میرے خیال سے اس کی متعدد وجوہات ہیں جنہوں نے ڈیزل گاڑیوں کے زوال میں کردار ادا کیا۔ ان میں کچھ چیزوں کا اثر بہت زیادہ ہوا تو کچھ نے بہت آہستگی سے اپنا رنگ دکھایا تاہم ان تمام ہی کے باعث پاکستان میں ڈیزل انجن والی گاڑیاں کم سے کم تر ہوتی گئیں۔

Toyota-Corolla-2.0D

ڈیزل پر دی گئی رعایت کا خاتمہ

ڈیزل کی انتہائی کم قیمت کے پیچھے دراصل حکومت کی جانب سے دی جانے والی خصوصی رعایت کار فرما تھی۔ حکومت نے جیسے ہی اس رعایت کے خاتمے کا اعلان کیا ویسے ہی ڈیزل کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوگیا۔ آج لوگ سمجھتے ہیں کہ رعایت ختم کیے جانے کے باوجود ڈیزل کافی سستا تھا حالانکہ اس وقت صورتحال یکسر مختلف تھی۔ ڈیزل انجن کی حامل کرولا کے لیے مشہور تھا کہ وہ ایک لیٹر میں 12 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک لیٹر ڈیزل میں 15 کلومیٹر تک بھی سفر کیا ہے۔ اس کے علاوہ نصف گھنٹے تک گاڑی میں A/C کے ساتھ سفر کرنا بھی زیادہ بڑی بات نہیں تھی۔

پیٹرول گاڑیوں میں ایندھن بچانے کی صلاحیت

دوسری جانب پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کو بہتر سے بہتر بنانے اور کم سے کم پیٹرول پر زیادہ سے زیادہ سفر کرنے کی صلاحیت شامل کرنے کی کوششیں بھی جاری تھیں۔ میرے خیال سے پیٹرول انجن کی حامل ہونڈا سِوک اور پھر ہونڈا سِٹی نے بھی لوگوں کا زاویہ تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس زمانے میں 2000 سے پہلے کی ہونڈا سِوک کافی مشہور تھیں جس کی وجہ 15-16 کلومیٹر فی لیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں ڈیزائن کے اعتبار سے بھی ڈیزل انجن کی حامل گاڑیوں سے کافی بہتر بنائی جارہی تھیں۔ ڈیزل گاڑیاں بہت زیادہ شور کے ساتھ لرزش (vibrate) اور دھواں بھی چھوڑتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہتر متبادل دستیاب ہوتے ہی خریداروں کا رجحان تیزی سے تبدیل ہونے لگا۔

انتہائی غیر معیاری ڈیزل کی دستیابی

ہمارے یہاں دستیاب ڈیزل کا معیار انتہائی خراب ہے۔ حال ہی میں آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پاکستان اسٹیل آئل (پی ایس او) پر غیر معیاری ایندھن فراہم کرنے پر جرمانہ عائد کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو شاید یاد ہو کہ جب پاکستان میں D4D انجن کی حامل ٹویوٹا ہائی لکس ویگو درآمد کی گئی تو غیر معیاری ڈیزل کی وجہ سے اس کا انجن خراب ہوجانے کے کئی واقعات سنے گئے۔ بعد ازاں حکومت نے یورو II معیارات پر گاڑیوں کی تیاری لازمی قرار دی تو ٹویوٹا انڈس موٹرز کے پاس 2C ڈیزل انجن والی کرولا کی تیاری مستقل طور پر بند کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہا۔

Hilux-Vigo-Champ-2014-D4D-3.0L-Engine

پیٹرول انجن والی گاڑیوں کی برق رفتاری

مجھے آج بھی پرانے وقتوں کے مشہور ترین سوشل نیٹ ورک آرکٹ (Orkut) پر ہونے والی بحث یاد ہے کہ جس میں لوگ اپنی ہونڈا سِوک کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے متعلق بات کیا کرتے تھے۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ہونڈا سِوک نے پاکستان میں گاڑیوں کی مارکیٹ کو 3 زاویوں سے تبدیل کیا ہے۔ اول یہ لوگوں کو یقین آنے لگا کہ گاڑیاں تیز رفتار بھی ہوسکتی ہیں۔ سچ کہوں تو اس زمانے میں ڈیزل گاڑیاں بہت سست رفتار ہوا کرتی تھیں۔ دوئم یہ کہ پیٹرول انجن والی گاڑیوں میں ایندھن کی بچت ممکن ہے۔ اور سوئم یہ کہ آٹو میٹک گیئر والی گاڑی چلانے کا بھی منفرد لطف ہے۔ اس زمانے میں ٹویوٹا کرولا 1.6 سبک رفتار گاڑی سمجھی جاتی تھی تاہم سِوک کی آمد نے اس خیال کی نفی کردی۔

Honda Civic Prosmatic

پاکستان میں ڈیزل انجن کی حامل گاڑیوں کے زوال سے متعلق میری چند باتیں آپ نے پڑھیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ یا کوئی اور اس سے اتفاق نہ رکھتا ہو۔ اس موضوع پر اگر آپ اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیں تو نیچے موجود تبصرہ خانے کے ذریعے باآسانی کرسکتے ہیں۔ ہمیں ڈیزل گاڑیوں کے شوقین افراد کی طرف سے بھی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

  • Muhammad Farhan Siddiqui

    i think the only reason is that diesel rate grows up.. You will see the change in mindset if diesel once again got Rs.10/Ltr 😛

  • Muddassir

    hello buddy
    travel 92km daily except sunday, kindly suggest me a car. requirement is fuel efficient, Ac and a comfortable in range of 15lakhs

Top