ٹویوٹا اور ہونڈا کی ہائبرڈ گاڑیوں میں کیا چیز مختلف ہے؟ آئیے جانتے ہیں!

p-vs-v-feature

ہائبرڈ گاڑیوں کو پاکستان میں بہت پسند کیا جارہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ان گاڑیوں میں متبادل توانائی کو استعمال کرنے کی اہلیت ہے۔ اگر آپ دوران سفر کسی سگنل پر رکیں اور آس پاس نظر دوڑائیں تو آپ کو ٹویوٹا پرایوس اور ہونڈا وِیزل کے علاوہ اور بھی بہت سی ہائبرڈ گاڑیاں نظر آئیں گی۔ میں نے اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹویوٹا کراؤن ایتھلیٹ بھی دیکھی ہے۔ غالباً سال 2007 میں جب میرا دوست استعمال شدہ ہونڈا سِوک تلاش کر رہا تھا تب مجھے ساتویں جنریشن والی ہائبرڈ سِوک دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ میرے دوست نے اس وقت “بیکار گاڑی ہے یار، کوئی جان ہی نہیں!” کہہ کر اسے مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں میں نے دیگر لوگوں سے بھی سنا کہ مذکورہ گاڑی میں کوئی غیر معمولی چیز نہیں تھی اور اس کا ہائبرڈ سسٹم بھی ناقص تھا۔ اور پھر جب پاکستان میں ٹویوٹا پرایوس نے قدم رکھا تو لوگوں نے پرانی جنریشن ہونے کے باوجود اسے پسند کیا۔

ہونڈا کی گاڑیوں میں شامل ہائبرڈ سسٹم کو انٹیگریٹڈ موٹر اسسٹ یا مختصراً IMA کہا جاتا ہے۔ یہ نظام پیرالَل ہائبرڈ (parallel hybrid) کے نام سے بھی مشہور ہے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ IMA کیسے کام کرتا ہے اور یہ ٹویوٹا کے ہائبرڈ سنرجی ڈرائیو یعنی HSD سے کیوں کر مختلف ہے۔

04-05_Honda_Civic_Hybrid

جاپانی کار ساز ادارے ہونڈا کی جانب سے ہونڈا انسائیٹ کے ساتھ 1999ء میں پہلی بار ہائبرڈ سسٹم پیش کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے دیگر ماڈلز مثلاً 2001-02 میں 1300 سی سی ہونڈا سِوک میں بھی شامل کیا گیا۔ یہ بحث اپنی جگہ اس نظام سے وابستہ بہت سی توقعات پوری نہیں ہوسکیں لیکن IMA اپنی طرز کا ایک مثالی نظام ہے۔ ایک ایسا نظام جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ خالقین نے تمام اصولوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے کچھ مختلف انداز سے کام کیا ہے۔ اس میں طاقتور کومبسشن انجن اور ایک برقی موٹر لگانے کے بجائے انہوں نے انجن اور گئر باکس کے درمیان برقی موٹر نصب کردی جو براہ راست کمبسشن انجن سے منسلک ہے۔

ہائبرڈ سِوک کی پہلی جنریشن سال 2001 سے 2005 تک چلی گئی۔ اس میں ایک برقی موٹر لگانے کے بجائے ایک بڑی started موٹر لگا دی گئی جسے عام طور پر ہائبرڈ سسٹم کی برقی موٹر بھی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آپ گاڑی کو محض ایک برقی موٹر پر نہیں چلا سکتے تھے کیوں کہ وہ کمبسشن انجن کا حصہ تھی۔

ہونڈا نے اس مسئلہ کو تسلیم کرتے ہوئے IMA کے تجدیدی نظام کا حجم 5 فیصد کم کرنے کے ساتھ اس کی کارکردگی میں 20 فیصد اضافہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ i-VTEC کے اندرونی کمبسشن انجن میں استعمال ہونے والے تین مراحل بہت مہارت سے ترتیب دیئے گئے ہیں۔ دوران سفر انجن کے والو (valve) متحرک رکھنے کے لیے بھی ایک خصوصی نظام ترتیب دیا ہے۔ پرانے انجنز میں والو کا نظام On اور Off کی طرح کام کرتا تھا۔ اگر آپ کی گاڑی رکی ہوئی ہو یا کسی جگہ کھڑی ہو تو یہ نظام انجن کو بند کردیتا اور جب آپ بریک چھوڑیں تو انجن On ہوجاتا تھا۔ چونکہ برقی موٹر انجن اور گیئر باکس کے درمیان ہے تو گاڑی کی رفتار میں اضافے کے ساتھ برقی موٹر بھی فوری ٹارک فراہم کرتی تھی۔

لیکن اصل مزہ تو تب آتا ہے جب آپ گاڑی کو دوڑائیں نہیں بلکہ اڑائیں کیوں کہ اس نظام میں تیز رفتاری کے دوران انجن کمبسشن بند ہوجاتا ہے اور برقی موٹر چلی رہتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں انجن کے والے ہلنا بند کردیتے ہیں جس سے سلینڈر کی seal بند ہوجاتی ہے۔ یوں پِسٹن کے اوپر نیچے حرکت سے پیدا ہوانے والی رگڑ وغیرہ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ایندھن کا استعمال بھی بند ہوجاتا ہے اور یوں انجن بغیر غُل غپاڑے کے رواں دواں رہتا ہے۔ یہ عمل گاڑی کی رفتار کم کرنے کے دوران بھی ہوتا ہے۔ مزید اس مرحلے میں برقی موٹر کی مدد سے بیٹری بھی چارج ہوجاتی ہے یعنی سادے لفظوں میں موٹر برقی جنریٹر کا بھی کام کرتی ہے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ہونڈا IMA کے مختصر حجم کی وجہ سے انجن زیادہ ایندھن استعمال کرتا ہے لیکن برقی موٹر سے رفتار میں مدد ملتی ہے۔ اگر یہ بات ٹھیک بھی ہے تو میرے خیال سے برقی موٹر سے حاصل ہونے والی قوت کو دیکھتے ہوئے یہ نظام کافی معقول لگتا ہے۔

Honda Vezel2012toyotaprius0062014 Honda Fit Hybrid

آئیے اب ٹویوٹا کا ہائبرڈ سنرجی ڈرائیو سسٹم اور اس کے کام کرنے کا طریقہ دیکھتے ہیں۔ ہونڈا کے مقابلے میں ٹویوٹا کا نظام بہت سادہ ہے۔ اس میں ایک موٹر ہے اور ایک اندرونی کمبسشن انجن ہے۔دوران سفر مختلف رفتار میں یہ ایک ساتھ اور کبھی علیحدہ علیحدہ بھی کام کرتے ہیں۔ اس نظام کو سیریز ہائبرڈ سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔ بس یہی کچھ ہے سنرجی ڈرائیو سسٹم میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ٹویوٹا کی طرف سے پیش کیا گیا جدید ہائبرڈ نظام کافی پیچیدہ ہے۔

ہائبرڈ نظام ابتدا میں کافی آسانی سے سمجھا جاسکتا تھا تاہم وقت کے ساتھ اسے بہتر بنانے کے لیے کئی ایک پیچیدہ پہلو شامل کیے گئے۔ ٹویوٹا کا موجودی ہائبرڈ سسٹم تیسری جنریشن کا ہے اور یہ سیریز و پیرالَل دونوں ہائبرڈ سسٹمز کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ٹویوٹا کا دعویٰ ہے کہ ٹویوٹا پرایوس میں ہائبرڈ سسٹم کی تیسری جنریشن شامل کرنے سے اب یہ 4 لیٹر میں 100 کلومیٹر تک چلائی جاسکتی ہے۔ اور اگر گاڑی میں ایندھن بھرا ہوا ہو تو رفتار ایک 1000 سے 1150 کلومیٹر تک جا سکتی ہے۔

ٹویوٹا پرایوس میں شامل ہائبرڈ سنرجی ڈرائیو سسٹم دو موٹرز پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ایک انجن کو اسٹارٹ کرنے اور انجن چلنے کے دوران بیٹریز کو براہ راست چارج کرتی ہے۔ یہ موٹر جنریٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے برقی نظام کی ضرورت کے مطابق اسے انجن سے بجلی فراہم کرتی ہے۔دوسری برقی موٹر گاڑی چلانے کے ساتھ بیٹریز کو چارج کرنے کا بھی کام کرتی ہے۔ اسے کنجکشن میں ایکسل میں لگایا جاتا ہے۔

greencar_f32

جب آپ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے تو اس کا پاور کنٹرل یونٹ انجن کو بند رکھتا ہے اور آپ اسے بیٹریز والی برقی موٹر کی مدد سے چلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ٹویوٹا پرایوس روڈ پر سفر کے دوران کوئی آواز پیدا نہیں کرتی۔ یہ صرف برقی موٹر یعنی electric motor پر چلتی ہے۔ سست رفتاری کے دوران گاڑی براہ راست انجن کی قوت سے چلتی ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کی بچت اور ہموار سفر میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ لیکن جب آپ گاڑی کی رفتار میں اضافہ کرتے ہیں تو انجن اور برقی موٹر اپنی مکمل طاقت سے کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بالکل IMA کی طرح گاڑی کی رفتار کم ہونے یا ساکت حالت میں کھڑے رہنے کے دوران یہ بیٹریز کو برقی موٹرز سے دوبارہ چارج کرتی ہے۔ پرایوس پاور کنٹرول یونٹ پیٹرول انجن کو بھی بیٹری چارج کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ گاڑی کا ICU متحرک توانائی فراہم کرتی ہے جس سے یہ عمل ہوتا ہے۔

تو یہ تھے ہونڈا اور ٹویوٹا کے ہائبرڈ سسٹم کے بنیادی اختلافات۔البتہ یہ دونوں نظام کمبسشن انجن کی مدد کے لیے ہی بنائے گئے ہی چاہے وہ مکمل پاور موڈ میں ہو یا پھر سستی رفتار سے چلائی جا رہی ہو۔ ہونڈا کی کوشش ہے کہ اس نظام کو مختصر سے مختصر بنایا جاسکے اور اس کے لیے انہوں نے ایک موٹر بطور جنریٹر اور ایک برقی موٹر گاڑی چلانے کے لیے لگا ئی ہے۔ ٹویوٹا کا نظام کمبسشن انجن کو مکمل طور پر بند کردیتا ہے جبکہ ہونڈا کا سسٹم کمسشن انجن چلتا رہتا ہے لیکن کام نہیں کرتا ۔ دوسرے لفظوں میں ہونڈا کے انجن کے اندرونی اجزا کام کرتے رہتے ہیں لیکن کوئی قوت پیدا نہیں ہوتی۔ چونکہ ٹویوٹا کا انجن بند ہوجاتا ہے اس لیے ضرورت کے وقت انجن کو دوبارہ چلانے میں معمولی سا وقت لگتا ہے جبکہ ہونڈا کے نظام میں انجن فوری ردعمل کرتا ہے۔

Top