ڈالر 134 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

Dollar increase

2018ء کے آغاز سے شرحِ تبادلہ اوپر نیچے ہو رہی تھی اور اب نئی بلندیوں پر پہنچ گئی ہے۔ اب پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 134 روپے تک پہنچ گیا ہے جو تاریخ کی بدترین سطح ہے۔

امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کمی پوری معیشت کی چولیں ہلا رہی ہے اور مقامی آٹوموٹو انڈسٹری ان شعبوں میں سے ایک ہے جو ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔

کیونکہ ہم ایک ایسی صنعت ہیں جس کا انحصار درآمدات پر ہے، ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت درآمدات کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے جو درآمدی شعبے کو دھچکا پہنچاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایندھن کی قیمت میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے جس سے خوراک، ٹرانسپورٹیشن سے لے کر آٹو سیکٹر اور کئی دیگر شعبے متاثر ہوتے ہیں۔

دوسرے شعبوں کی طرح روپے کی گرتی ہوئی قدر کے اثرات تب محسوس ہوتے ہیں جب مقامی آٹومیکرز گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔

ان کے مطابق ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت درآمدات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ درآمد کیے جانے والے پرزوں پر لاگت زیادہ ہو جاتی ہے، جس سے گاڑیوں کو بنانے پر لاگت بڑھ جاتی ہے اس لیے آٹومیکرز کے سامنے قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

جنوری 2018ء میں 110 روپے سے اکتوبر میں 134 روپے، یعنی شرح تبادلہ میں کل 21 فیصد اضافہ ہوا۔ اس پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے ایک چھوٹا سا تجزیہ کیا ہے کہ جنوری سے اب تک گاڑیوں کی قیمتیں کس طرح اوپر گئی ہیں، جس کے بعد دسمبر 2018ء تک گاڑیوں کی قیمتوں کے اندازے لگائے ہیں کیونکہ مقامی آٹومیکرز ایک مرتبہ پھر قیمتوں میں اضافہ لازمی کریں گے۔

Toyota-Cars2

Suzuki-Cars4

Faw-Cars3

Dollar

روپے کی قیمت میں کمی کے اثرات ناگزیر ہیں، اور یہ بہرصورت مقامی صنعت پر اثر انداز ہوں گے؛ اس وقت آٹو سیکٹر پہلے ہی نان-فائلرز پر عائد پابندی کی وجہ سے گاڑیوں کی فروخت میں آنے والی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ روپے کی گھٹتی قدر کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر گاڑیوں کی قیمت میں اضافے کے بعد مقامی آٹومیکرز کی فروخت کیسے متاثر ہوتی ہے۔


Top