خود کار نظام کے باعث حادثہ؛ ڈرائیور کی ہلاکت پر ٹیسلا کا اظہار افسوس

Model S Autopilot

ٹیسلا کی گاڑیوں میں موجود خود کار نظام “ٹیسلا آٹو پائلٹ” اب تک آزمائشی طور پر پیش کیے جانے کے باوجود دنیا بھر سے پزیرائی حاصل کر رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر ٹیسلا آٹو پائلٹ کی بے شمار ویڈیوز موجود ہیں جن میں اس نظام کو عملی امتحان کے ذریعے دور حاضر کا بہترین خود کار نظام ثابت کیا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف چند لوگوں نے آٹو پائلٹ نظام میں خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے حادثات کی بڑی وجہ بھی قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اب تک ٹیسلا اپنے بنائے گئے آٹو پائلٹ نظام پر ہونے والے تمام الزامات کو ثبوتوں کے ساتھ رد کرتا آیا ہے تاہم حال ہی میں ہونے والے ایک ہلاکت خیز واقعے پر ٹیسلا نے آٹوپائلٹ نظام میں ایک خامی کو تسلیم کرتے ہوئے قیمتی جان کے زیاں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مذکورہ واقعہ اس وقت پیش آیا کہ جب ہائی وے پر ٹیسلا ماڈل S آٹو پائلٹ پر رواں دواں تھی کہ اچانک عمودی سمت سے آجانے والے 18-ویل ٹرالر سے اس کا تصادم ہوگیا۔ اس حادثے میں ڈرائیور اور ٹیسلا کا خود کار نظام دونوں ہی ٹرالر کی گاڑی کے سامنے آمد سے لاعلم رہے جس کی وجہ سے بریک لگانے کا موقع نہ مل سکا۔ یوں ٹیسلا ماڈل S بھاری بھرکم ٹرالر کے نیچے آکر تباہ ہوگئی اور گاڑی چلانے والا شخص بھی موقع پر ہلاک ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں ٹیسلا ماڈل S سب سے زیادہ فروخت ہونے والی برقی گاڑی بن گئی

اس حادثے سے قبل یہ گاڑی تقریباً 13 کروڑ میل تک آٹو پائلٹ پر سفر کرچکی تھی۔ ٹیسلا کا کہنا ہے کہ صرف امریکا میں ہر 9 کروڑ 40 لاکھ میل کے بعد ایک حادثہ رونما ہوتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اوسطاً ہر 6 کروڑ میل بعد ہونے والے حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوتا ہے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیسلا کا آٹو پائلٹ بہرحال ان گاڑیوں سے بہتر ہے کہ جن میں جدید نظام موجود نہیں۔ ٹیسلا نے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) کو اس حادثے سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے معاملہ کی تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مرسڈیز بھی برقی گاڑیوں کے میدان میں؛ ٹیسلا کا مقابلہ کرنے کے لیے پُرعزم

Model S Auto pilot

چونکہ ٹیسلا آٹو پائلٹ نظام اب تک آزمائشی طور پر پیش کیا جارہا ہے اس لیے امریکی ادارے نے ممکنہ خرابیوں کے پیش نظر اس کے استعمال سے متعلق خصوصی ہدایت جاری کر رکھی ہیں۔ ان ہدایات میں واضح طور پر لکھا ہے کہ خود کار نظام کی سہولت استعمال کرنے کے دوران ڈرائیور کے لیے ضروری ہے کہ وہ چاک و چوبند رہے اور اپنے ہاتھ ہمیشہ اسٹیئرنگ ویل پر رکھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بخوبی نمٹا جاسکے۔ اگر آٹو پائلٹ نظام استعمال کرتے ہوئے ڈرائیور اپنا ہاتھ اسٹیئرنگ ویل سے ہٹاتا ہے تو بھی ٹیسلا کا نظام ڈرائیور کو اس حوالے سے بارہا خبردار کرتا رہتا ہے۔

Tesla Autopilot Interface

ٹیسلا نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ اس حادثے میں اپنی جان گنوانے والا شخص ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور ہم ان کے اس نقصان پر انتہائی افسردہ ہیں۔ ٹیسلا نے اپنے صارف کے عزیز و اقارب سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شخص نہ صرف ٹیسلا بلکہ برقی گاڑیاں چلانے والے احباب کی برادری کا اہم حصہ تھا جس نے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں حصہ لیا بلکہ ٹیسلا کے مقصد پر بھی بھروسہ کیا۔

Adan Ali

Adan is a Tribe Leader at Drive Tribe, who writes to share his passion for cars, culture and gadgetry through words. So far his writings and contributions have been able to make their way to media outlets like PakWheels and Dawn. Reach out to him by tweeting @adanali12

Top