لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کا افسوسناک رجحان


سال 2015۔16 کے دوران ملک بھر میں کُل 9100 ٹریفک حادثات ہوئے جن میں 4448 افراد جان گنوا بیٹھے۔ ان حادثات میں مرنے والوں کی اکثریت 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والی حقیقت ہے۔

سب سے زیادہ ٹریفک حادثات خیبرپختونخوا میں ہوئے جن کی تعداد 4287 بتائی جاتی ہے۔ ان میں 1299 افراد ہلاک ہوئے جس سے ان حادثات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ٹریفک حادثات کو روکنے کے لیے صوبے میں یورپی ٹریفک کے نظام متعارف کروانے کا منفرد قدم اٹھایا ہے جو بلاشبہ قابل تعریف ہے۔

دیگر صوبوں کی بات کریں تو پنجاب میں ہونے والے ٹریفک حادثات میں 2053، سندھ میں 749، بلوچستان میں 207 جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں 140 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO)نے 2014ء میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان میں 2.69 فیصد اموات کی وجہ ٹریفک حادثات ہیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے اور اسی لحاظ سے اموات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ متعدد واقعات کا اندراج ہی نہیں کروایا جاتا۔

ٹریفک حادثات میں زندگی گنوانے والوں میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ٹریفک قوانین کی پیروی کو اہمیت نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر اگر موٹر سائیکل پر سوار ہیں تو ہیلمٹ پہننا گوارا نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں موٹر ٹریننگ اسکول سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کی تریبت حاصل کرنے کا رجحان بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور زیادہ تر لوگ اپنے خاندان کے فرد یا دوست ہی سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا سیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے انہیں بہت سی ایسی بنیادی چیزوں کا علم نہیں ہو پاتا جو ٹریفک قوانین کے اعتبار سے انتہائی ضروری ہیں۔ مزید یہ کہ بہت سے لوگ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کی بھی تکلیف نہیں اٹھاتے جو کہ ان کے تربیت یافتہ ہونے کی سند ہے۔ لوگوں کی طرف سے غیرذمہ دارانہ رویے کےعلاوہ مقامی کار ساز ادارے بھی گاڑی میں حفاظتی سہولیات فراہم کرتے اور یوں ٹریفک حادثات میں بہت سے لوگ انہی وجوہات کی بنا پر زندگی گنوا بیٹھتے ہیں۔

ہر سال کی طرح 2017 میں بھی پاک ویلز نے ایک سروے کیا کہ تاکہ یہ لائسنس حاصل کرنے کے بارے میں لوگوں کی سنجیدگی اور گاڑی خریدنے میں ان کی ترجیحات سے متعلق معلوم کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں ملک بھر سے 24050 افراد نے اپنی رائے جمع کروائی جن میں سے 54 فیصد پنجاب، 27 فیصد سندھ، 12 فیصد اسلام آباد، 6 فیصد خیبرپختونخوا، 1 فیصد بلوچستان اور 0.10 فیصد کا تعلق گلگت بلٹستان سے تھا۔

اس سروے کے مطابق مجموعی طور پر 62 فیصد موٹر سائیکل صارفین نے بتایا کہ ان کے پاس جائز لائسنس موجود ہے جبکہ 29 فیصد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے کبھی لائسنس حاصل ہی نہیں کیا۔ دیگر 6 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کا لائسنس زائد المیعاد ہو چکا ہے اور 3 فیصد نے بتایا کہ وہ اپنا لائسنس کھو چکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل چلانے والوں کی 64 فیصد تعداد 21 سال سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس سروے سے ظاہر ہونے والا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ لوگ حفاظت کو اہمیت دینے لگے ہیں۔ اس حوالے سے جب سروے میں پوچھا کہ آپ جب موٹر سائیکل خریدنے گئے تو کس اہم پہلوؤں کو نظر میں رکھا؟ تو جواب دہندگان نے تیسری ترجیح کے طور پر حفاظت کا ذکر کیا۔

اب ذرا گاڑیوں کی بات کرلیں۔ سروے کے دوران 80 فیصد کار صارفین نے کہا کہ وہ ڈرائیونگ لائسنس رکھتے ہیں اور 13 فیصد نے لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کا اعتراف کیا۔ علاوہ ازیں 5 فیصد افراد نے کا لائسنس ایکسپائر ہوجانے اور 7 فیصد نے اسے کھو جانے کا بھی بتایا۔ 21 سال سے زائد عمر کے 55 فیصد جواب دہندگان وہ تھے جن کے پاس ڈرائیور لائسنس نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کار صارفین نے دعوے سے کہا کہ وہ خریداری کے دوران گاڑیوں کی حفاظتی خصوصیات کے ساتھ ساتھ کارکردگی کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاک ویلز کے گزشتہ سروے میں کار صارفین نےگاڑی خریدنے کے دوران حفاظتی پہلو کو نویں نمبر پر جگہ دی تھی جبکہ 2017 کے سروے میں انہوں نے اسے اپنی دوسری اہم ترین ترجیح قرار دیا جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔

حالیہ رجحان سے پتہ چلتا ہے کہ اب لوگ اپنی حفاظت کے بارے میں سوچنے لگے ہیں جو ایک مثبت علامت ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ 2013 سے 2030 تک ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہونے والی اموات پوری دنیا میں اموات کا پانچوان اہم سبب بن جائے گا۔

آپ کے خیال میں حکومت کو کیا کرنا چاہئے؟ یا اس سلسلے میں کار ساز ادارے اپنا حصہ کیسے ڈال سکتے ہیں؟ کیا اس سلسلے میں ذمہ دار شہری کے طور پر ہماری بھی کوئی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے آپ اپنی رائے ضرور دیں۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top