ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کا طریقہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے!

Driving License Lahore

لاہور آنے سے قبل میں کراچی میں رہائش پذیر تھا اور اسی لیے میرے پاس کراچی سے جاری کردہ ڈرائیونگ لائسنس موجود ہے۔ چونکہ اس ڈرائیونگ لائسنس کی معیاد پوری ہونے والے ہے تو میں نے اس کی تجدید لاہور ہی میں کروانے کا فیصلہ کیا۔اس مقصد کے لیے جب میں لبرٹی کے علاقے میں قائم لائسنس آفسر پہنچا تو وہاں لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ اس وقت صرف دو ہی کاؤنٹر کھلے ہوئے تھے جن میں سے ایک بزرگ افراد کے لیے جبکہ دوسرا دیگر افراد کے لیے تھا۔

Lahore City Traffic Police

یہاں معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی کاؤنٹر موجود نہیں تھا۔ میں نے آس پاس نظر دوڑائی تو ایک ٹریفک پولیس اہلکار نظر آیا۔ اس کے نزدیک جا کر سلام دعا کی اور یہاں آنے کا مدعا تفصیل سے بیان کیا۔ جب اس پولیس آفیسر کو یہ علم ہوا کہ میرا موجود لائسنس کراچی سے جاری ہوا ہے تو اس نے بتایا کہ اس ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید لاہور میں نہیں کی جاسکتی۔ میرے استفسار پر انہوں نے مزید بتایا کہ ڈرائیونگ لائنس کی تجدید کے لیے شناختی کارڈ پر لاہور ہی کا پتہ لکھا ہونا لازمی ہے۔ بقول ٹریفک پولیس اہلکار یہ معاملہ دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں رہنے والوں کے لیے بھی ہے۔ اس بات نے مجھے شدید مایوس کیا اور اسی مایوسی کے عالم میں ، میں اپنی گاڑی کی جانب چل پڑا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ اس حوالے سے ایک بلاگ لکھا جائے تاکہ مجھ جیسے دیگر افراد کو بھی اس بابت پہلے سے علم ہوسکے۔ اس خیال کے آتے ہی میں واپس پلٹ کر اس پولیس آفیسر کے پہنچا اور اس سے چند مزید سوالات کیے۔

Driving License Lahore

پولیس آفیسر نے خندہ پیشانی سے میرے تمام سوالات سنے اور مجھے بتایا کہ Learner’s لائسنس حاصل کرنے کے لیے کل 360 روپے (60 روپے کا ٹکٹ، 100 روپے کا طبی فارم اور 200 پراسسنگ فی) خرچہ آتا ہے۔ اس لائسنس کی معیاد ایک سال ہوتی ہے اور باقاعدہ لائسنس حاصل کرنے کے لیے 42 بعد درخواست دی جاسکتی ہے۔ لائسنس بنانے کے لیے ڈیٹابیس میں تفصیلات کا اندراج، طبی معائنہ اور تصاویر لینے کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ طبی معائنے کے دوران درخواست گزار کی بینائی اور دماغی توازن جانچا جاتا ہے۔ تمام مراحل کامیابی سے طے کرنے کے بعد Learner’s لائسنس اور ٹریفک کے قوانین پر مشتمل ایک کتابچہ فراہم کیا جاتا ہے۔

Learner’s لائسنس حاصل کرنے کے لیے درج ذیل دستاویزات درکار ہوں گی
٭ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی نقل
٭ 60 روپے کے ٹکٹ (انہیں ڈاک خانہ یا پھرلائسنس آفس سےخریدا جاسکتا ہے)
٭ طبی سرٹیفکیٹ (کسی بھی سرکاری سند یافتہ ڈاکٹر سے لیا جاسکتا ہے)

جبکہ مستقل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے درج ذیل دستاویزات درکار ہیں:
٭ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی نقل
٭ 3 پاسپورٹ سائز تصاویر
٭ طبی سرٹیفکیٹ (کسی بھی سرکاری سند یافتہ ڈاکٹر سے لیا جاسکتا ہے)
٭ درخواست فارم (A)
٭ اصلی Learner’s لائسنس (کم از کم 42 دن پرانا)
٭ STR فارم (جسے ٹیسٹ کے بعد لائسنس آفس میں جمع کروانا لازمی ہے)

Karachi License Process

ٹریفک پولیس آفیسر کے مطابق گاڑی کے لیے مستقل لائسنس کی 900 روپے فیس ہے۔ البتہ دیگر اخراجات (طبی معائنہ و پراسسنگ فیس) وغیرہ شامل کیے جائیں تو کُل اخراجات 1250 روپے تک جاسکتے ہیں۔ مستقبل لائسنس کی معیاد 3 سال تک ہوتی ہے۔لائسنس حاصل کرنے سے قبل ڈرائیونگ ٹیسٹ کے علاوہ ایک تحریر امتحان بھی لیا جاتا ہے اور ان دونوں ہی میں کامیابی حاصل کرناشرط ہے۔ اگر کوئی امیدوار ڈرائیونگ یا تحریر امتحان میں ناکام ہوجائے تو اسے 42 روز بعد دوبارہ کوشش کرنے کی اجازت ہے۔ لائسنس کی تجدید کے حوالے سے آفیسر نے بتایا کہ اس پر 500 سے 700 روپے تک اخراجات آتے ہیں۔

لاہور میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے اب مجھے نادرا کے دفتر جانا ہوگا تاکہ قومی شناختی کارڈ میں لاہور کا پتہ لکھوایا جاسکے۔ گو کہ میں ایک ذمہ داری شہری کی طرح تمام تر مراحل سے گزرنے کا تیار ہوں تاہم یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ صوبوں کے درمیان اس قسم کی تفریق بھلا کیوں کر ہے؟ پاکستان بھر کے شہریوں کی تمام تفصیلات نادرا کے پاس ہوسکتی ہیں تو مجھے پورا یقین ہے کہ تمام صوبوں میں ڈرائیونگ لائسنس کے ڈیٹابیس کو بھی مرکزی شکل دی جاسکتی ہے۔ اس طرح عام شہری پاکستان بھر میں کسی بھی جگہ سے لائسنس حاصل کرنے اور اس کی تجدید باآسانی کرواسکتا ہے۔

Samiullah Sharief

Samiullah Sharief is a car enthusiat. He is passionate about writing blogs and reviews about cars. His hobbies are driving,watching TV Shows like Top Gear, Mega Factories and he follows Popular car magazines. You can reach out to him by tweeting @sami649

Top