پہاڑوں پر ڈرائیونگ، کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟

driving-on-hills-dos-and-donts

جی تو آپ نے ایک نئی سافٹ روڈر خریدی ہے اور آپ اپنی اگلی تفریح کے لئے مری یا نتھیا گلی کا ارادہ رکھتے ہیں، یہاں آپ کو کسی بھی پہاڑی سفر سے پہلے کچھ چیزیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔میں دارالحکومت ہی میں رہتا ہوں جو کہ ان خوبصورت پہاڑی وادیوں کے دامن میں واقع ہے جہاں کا رخ بہت سے لوگ تفریح کے لئے کرتے ہیں۔پنجاب بھر بلکہ یہاں تک کہ دوردراز سندھ سے بھی بہت لوگ پاکستان کی ان خوبصورت جگہوں کو دیکھنے آتے ہیں۔لمبے روڈ ٹرپس نصف صدی سے ایک عام سی بات ہو گئے ہیں جن کی ایک اہم وجہ بھروسہ مند گاڑیاں بھی ہیں۔سڑکوں میں بہتری، سیکیورٹی کی بہتر صورتحال، اورلوگوں کی مختلف مقامات دیکھنے کی جستجو جس میں بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی نے ایک اہم رول ادا کیا ہے جیسا کہ موبائل فونز جنہوں نے ہر چیز سکرین پر لوگوں کے سامنے لا دی ہے،  ایپس جیسا کہ گوگل میپس اور دوسری فری نیو یگیشن ایپس جنہوں نے لوگوں کے لئے یہ نہائت ہی آسان بنا دیا ہے کہ وہ بنا راستہ بھولے نئے مقامات کا دورہ کر سکتے ہے۔

یہاں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو صرف تجربہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ آپ پہاڑی ایریاز میں گاڑی چلانا صرف اسی صورت سیکھ سکتے ہیں کہ آپ بار باردہرایں۔اور اگر آپ اور اوپر کا جانب دوسرے ناردرن ایریاز جائیں جہاں سڑکیں خستہ حال اور نہ ہونے کے برابر ہیں اور لینڈسلائیڈنگ میں پھسی ہیں تو آپ کو گاڑی چلانے کے لئے زیادہ سڑکوں کی جانچ اور مہارت والے ڈرائیو رکی ضرورت ہوگی۔لیکن ابھی اِسکا ذکر نہیں کرتے بلکہ ان پہاڑی علاقوں کی بات کرتے ہیں جہاں کی سڑکیں بہتر اور رسائی آسان ہے، جہاں آپ باآسانی اسی ویکینڈبنا خاص تیاری کئیے اپنے دوستوں یا پھر فیملی کے سا تھ گھوم سکتے ہیں۔جیسا کو اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ چیزیں صرف تجربہ سے ہی حاصل ہوتی ہیں لیکن اگر آپ یہ پانچ چیزیں ذہن نشین کر لیں تو آپ خیرخیریت سے اپنے اگلے پہاڑی مقام پر پہنچ سکتے ہیں اور وہ بھی بنا اپنی کار کو نقصان پہنچائے۔

ماسٹرنگ ہِل سٹارٹس۔

یہ ایک نہائیت اہم چیز ہے جو کہ ناصرف آپ کو بلکہ آپ کی گاڑی کو بھی نقصان سے بچا سکتی ہے۔اگر آپ کے پاس آٹومیٹک گاڑی ہے پھر تو آپ کافی آسانی میں ہیں۔لیکن وہ لوگ جو کہ مینویل گاڑیاں رکھتے ہیں انہیں ہِل سٹارٹس کی جانکاری ہونا بہت ضروری ہے۔جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ ڈھلوان پر رکی ہوئی گاڑی کوچلانے سے متعلق ہے۔ وہ لوگ جو کہ پہاڑی چڑہاؤ سے واقف نہیں ہیں اور اس کو اپنے گیراج کی دھلوان ہی کے مترادف جانتے ہیں ان کے لئے ایک صحیح ہِل سٹارٹ دشوار گزارثابت ہو سکتا ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر آیا ہے کہ آٹو کارز کے لئے یہ نسبتاًآسان ہے۔ اس بات کی تسلی کر لیں کہ جب آپ کسی چڑھاؤ پر رکے ہوں تو آپ نے ہینڈبریک لگائی ہو۔اس دوران اپنے پاؤں بریک پیڈل پر بھی رکھیں۔جب آپ آگے جانے کا ارادہ کریں۔سمجھ لیجئے کہ آپ کی گاڑی (ڈی)ڈرائیو موڈ میں ہے، بریک کو چھوڑدیں اور ریس کے ساتھ ساتھ ہینڈبریک بھی چھوڑتے جائیں     یہاں تک کہ گاڑی چلنا شروع ہو جائے۔

لیکن مینویل گاڑیوں کے لئے یہ سب کرنا اور ایک بہترین چڑھاؤ چڑھنا تھوڑا ٹیکنیکل ثابت ہو سکتا ہے۔اس بات کی تسلی کر لیں کہ آپ نے ہینڈبریک لگائی ہوئی ہے، جب آپ چلنے کا ارادہ کریں اپنا دائیاں پاؤں بریک پر رکھیں،کلچ دبائیں اور گاڑی کو پہلے گئیر میں لائیں، اب اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ مرحلہ ہے کہ جب آپ کو بریک سے پاؤں ہٹا کر ہلکی سی ریس دینی ہے، ہینڈبریک کو آہستہ آہستہ نیچے اورکلچ کو آہستہ آہستہ چھوڑنا ہے یہاں تک کہ گاڑی ہلکے سے چلنا شروع ہو جائے۔اگر آپ نے اس میں مہارت حاصل کر لی تو آپ کے باقی سفر میں کافی بہتری نظر آئے گی۔کچھ لوگوں میں یہ قدرتی ہوتا ہے اور انہیں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی لیکن کافی نئے ڈرائیور یا وہ جو چڑھاؤ سے واقف نہیں ان کے لئے کا فی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

کلچ کا استعمال۔

یہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو مینویل گاڑی استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ کلچ کے سا تھ کام کرتی ہے۔کلچ کازیادہ استعمال مطلب کہ ڈرائیور کا کلچ کو پوری طرح چھوڑ دینا یا دباکر رکھنااور اس کی مدد سے گاڑی کو روانی سے چلتے رہنے دینا۔یہ صرف کلچ کو گرم اور کلچ یا پریشرپلیٹ کی عمر کم کرتا ہے۔آپ کلچ کو صرف اسی صورت میں مکمل دبا یا چھوڑ سکتے ہیں جب اس بات کی تصلی ہو کہ گاڑی کے کلچ پر بوجھ نہیں ڈل رہا یا وہ پہلے سے کام میں نہیں ہے۔

کچھ لوگوں کو عادت ہو تی ہے کہ وہ کلچ کو دبا کر رکھتے ہیں جب ٹریفک میں پھسے ہوں یا کسی اونچی سڑک پر چڑھ رہے ہوں۔بنیادی طور پر کلچ دبانے کے پیچھے سوچ یہ ہوتی ہے کہ آپ کو چڑھائی پر بار بار گاڑی رکنے پر ہینڈ بریک کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ گاڑی کو پیچھے سرکنے سے روکنے کے لئے کلچ اور ریس سے ہی کام چلا لیتے ہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے کہ یہ صرف آپ کی کلچ پلیٹس کو اوور ہےِٹ اور ٹرانسمیشن پارٹس کی عمر کو کم کرتا ہے۔مگر اس عمل کا فوری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ آپ کے کلچ پیڈل کو جلادیتا ہے اگر وہ پہلے سے کمزورہیں۔آپ سڑک پر ایک جلے کلچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کہیں جا بھی نہیں سکتے۔

چھوٹی گاڑیاں جیسا کہ سوزوکی مہران اور کلٹس انہیں ایسی صورتحال میں کچھ زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔جیسا کہ اکثر دیکھنے ہیں آیا ہے کہ لوگ اکثر کلچ دبا کرگاڑی کو گھسیٹتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ گاڑی پر کو ئی دباؤ نہیں پڑ رہا۔پس کلچ کا معقول اور وقت پر استعمای نہ صرف آپ کو نقصان اور لمبے چوڑے بِل سے بچاتا ہے بلکہ بے آسراء کھڑے رہنے سے بھی۔

       روانی برقرار رکھنا۔

اپنی گاڑی کی روانی برقرار رکھنا چھوٹی اور بڑی دونوں گاڑیوں کے لئے بہت ضروری ہے۔آپ کوموڑ سے بالکل پہلے بلاوجہ بریک یا گاڑی کو آہستہ نہیں کرنا چاہیے جب تک کہ آپ کو کسی مشکل کا سامنا نہ ہو یا یوں نہ لگے کہ آپ گاڑی پر سے اختیار کھو رہے ہیں۔اس بات کی تسلی کریں کہ آپ کی گاڑی بنا اپنی رفتارتوڑے ایک ہی روانی سے مڑ رہی ہے۔

یہ وہ چیزیں ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح آپ کی گاڑی مختلف صورتوں کا سامنا کرتی ہے۔آپ کا یہ جاننا ضروری ہے کہ کس طرح آپ کی گاڑی اونچی سڑکوں پر چڑھ رہی ہے اور گہرے دائیں بائیں موڑ کاٹ رہی ہے، اور زیادہ لوڈ کے نتیجہ میں اس کا رویہ کیسا ہے۔موڑ کاٹتے وقت پریشان نہ ہوں اور ایک مستند رفتار برقرار رکھیں۔موڑ کاٹنے سے پہلے بریک لگانے کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ آپ بہت رفتار میں ہوتے ہیں۔آپ بریک لگانے کے لئے ریس دے کر صرف فضول پیٹرول جلا رہے ہیں۔اگر آپ نے چڑھاؤ اور سپیڈ کا غلط اندازہ لگایا ہے اور آپ موڑ سے عین پہلے گئیربدلنے کے لئے بریک لگا رہے ہیں، تو آپ صرف گاڑی کے اہم پرزوں جیسا کہ انجن اور ٹرانسمیشن پر بوجھ ڈالنے جا رہے ہیں۔

روانی میں خلل مینویل اور آٹومیٹک دونوں گاڑیوں کو نقصان پہنچاتا ہے لیکن یہ مینویل گاڑی کو زیادہ متاثر کرتا ہے کیونکہ اس میں آپ ازخود گئیر تبدیل کرتے ہے۔آٹو میٹک گاڑیوں میں ہوسکتا ہے کہ یوں آپ آٹومیٹک ٹرانسمیشن فلوڈ کو گرم کر رہے ہیں جو کہ آپ کی گاڑی کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

تو آپ اس بات کی تسلی کر لیں کہ موڑکاٹتے وقت آپ اپنی گاڑی کی سپیڈ برقرار رکھ رہے ہیں۔ایک احساس کے طور پر بھی کیونکہ اس طرح آپ ان گاڑیوں کے لئے بھی مشکل پیدا نہیں کر رہے جو چڑھائی پر چڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کیونکہ یہ دوسرے ڈرائیور حضرات کے لئے بھی نہایت کٹھن ثابت ہو گا۔

برف پر ڈرائیونگ۔

برف یا سنو ء فال میں سیدھی سڑکوں یا پہاڑوں پر گاڑی چلانا بہت ہی خطرناک یا ٹرِکی ثابت ہو سکتا ہے۔سب سے پہلے تو اگر آپ نئے ڈرائیور ہیں پھر بہتر یہی ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی تجربہ کار ڈرائیور ہو۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ڈرائیور کے طور پر آپ کی صلاحیتیں محدود ہیں تو آپ کو رِسک لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی اورکو جو زیادہ مہارت رکھتا ہو میرِسفر چن لیں۔

میں نے ایسے بہت سے حادثات دیکھے ہیں جہاں لوگ قدرت کی طاقت کو سرسری لیتے ہیں اور کیسے ایک ہلکی سی سنوء فال موت کا سبب بن جاتی ہے۔تازہ تازہ برف باری اتنی خطرناک نہیں ہوتی اور آپ محتاط ڈرائیونگ کر کے اپنی گاڑی پر قابو رکھ سکتے ہیں۔لیکن جیسے ہی یہ سنوء فال سخت برف میں تبدیل ہوئی، اورآپ اس کے لئے پوری طرح تیار نہیں تو یہ آپ کو کڑی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

آپ سردیوں والے پہیوں کا استعمال بھی کر سکتے ہیں اور اگر ان کی حالت خستہ ہے تو ضروری ہے کہ آپ (اگلے یا پچھلے ٹائروں میں جیسا آپ کی گاڑی کے لئے موزوں ہیں)چین لِنک کا استعمال کریں تا کہ آپ کی گاڑی سلپ ہو کر کسی دوسری گاڑی میں نہ جا لگے۔سخت برف آپ کی سوچ سے بڑھ کر پھسلن رکھتی ہے۔اور عام سردیوں والے یا ہر موسمی ٹائر اتنی پھسلن پر کام کرنے کی مکمل مہارت نہیں رکھتے۔ اوپر سے ڈھلوان بھی جو کہ سونے پہ سہاگہ ہو گی۔

یہ لوگوں کے لئے ایک عام سی بات ہے کہ جوں ہی سنوء فال ہوئی پہاڑی علاقوں جیسا کہ مری جا پہنچے۔صحیح معنوں میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں مری کی پہلے سے تنگ شدہ گلیوں میں داخل ہوتی ہیں، اور جیسے ہی یہ سنوء فال برف میں تبدیل ہوتی ہے، لوگ جو اس صورتحال کے لئے قتعاًتیار نہیں ہوتے اور بنا ضروری سامان کے ہوتے ہیں،نتیجتاًوہ پھسلن کا شکار ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی گاڑیوں میں جا گھستے ہیں۔

بریکس دبا کر مت رکھیں۔

بالکل کلچ کی طرح، لگاتار بریکس کا استعمال بھی ٹھیک نہیں خاصکر جب آ پ ڈھلوان والی سڑک پر سے آرہے ہوں۔ہلکی ہوتی گاڑی کا لوڈ انجن اور بریکوں کے درمیان تقسیم کریں۔اپنی گاڑی کو نچلے گئیر میں رکھیں، جیسا کہ پہلا یا دوسرا، تا کہ انجن آپ کی مدد کے طور پر گاڑی کی سپیڈ پر قابو رکھے۔پہاڑیوں پر گاڑی روکنے کے لئے صرف بریکس پر انحصار کرنا بھی خطرناک ہے۔یہ عمل بھی کئی لوگوں میں عام ہے کہ جب وہ ڈھلوان سے آ رہے ہوتے ہیں تو وہ پیٹرول کی بچت کے لئے گاڑی کا انجن بند کر دیتے ہیں اور گاڑی کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے بریکس پر ہی انحصار کرتے ہیں۔یہ ایک احمقانہ حرکت ہے اور ایسا کبھی مت کریں۔

چاہے نئی گاڑیوں میں جدید بریک سسٹمز نصب ہوتے ہیں،مگر پھر بھی یہ ضروری ہے کہ انجن چلے اور اپنا لوڈ خود لے۔صرف بریکس کا استعمال آپ کی گاڑی کی بریکس (پیڈز اور ڈرمز)کو حد درجہ گرم کر دیتا ہے۔بریکس کے گرم ہونے کا مطلب ہے کہ بریکس اپنی قوت کھو رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنی پکڑ نہیں کر تیں اور یوں گا ڑی کو آہستہ نہیں کر پا تیں جیسا کہ وہ عام روٹین میں کرتی ہیں۔اس کے نتیجہ میں بریکس فعل اور ناکارہ ہو سکتی ہیں۔

 وہ گاڑیاں جو آٹومیٹک ٹرانسمیشن رکھتی ہیں ان کے لئیے بھی یہ بہت ضروری ہے۔اگر آپ ایک ایسی گاڑی چلا ہے ہیں جو کہ روائیتی آٹومیٹک گئیر باکس رکھتی ہے، تو گاڑی کو نچلے گئیر(ڈی۔ون، یا ڈی۔ٹواپنی گاڑی کے مطابق) میں رکھیں تاکہ انجن گاڑی کو آہستہ کرے۔اور اگر آپ کی گاڑی ایک ”سی۔وی۔ٹی“گئیر باکس کے ساتھ آتی ہے تواپنی گاڑی کو ”بی۔موڈ“ میں رکھیں تاکہ جب گاڑی سڑک پر نیچے کی جانب جا رہی ہوتو انجن بریکنگ عمل میں آئے۔

اور یہاں تک کہ جب گاڑی نیچے کی جانب جا رہی ہو،تو گاڑی کی رفتار بھی برقرار رکھیں۔اس کی سپیڈ میں اضافہ مت کریں جبکہ آپ جانتے ہوں کہ آپکو موڑتے وقت بریک لگانی ہی ہے۔اچانک بریک لگانا خطرناک اور بریک فیل ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یہ کچھ مشورے ہیں جو کہ ملک کے بلند اور خوشنماء حصوں کی طرف آپ کے سفر کو پر آسائش اور آرام دہ بنا سکتے ہیں، سو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ آپ کی گاڑی کسی خرابی یا مسئلہ کا بائث بنے گی بلکہ آپ اپنے اس سفر سے مزید لطف اندوز ہوں گے اور وہ بھی بغیر کسی ناخوشگوار واقع سے دوچار ہوئے۔

Writing about cars and stuff.

Top