ای-چالان سسٹم اور خلاف ورزیوں کرنے والوں کے لیے مجوزہ جرمانے


طویل بحث و تمحیص اور تجربات کے بعد پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) نے بالآخر ای-چالان سسٹم کو لاہور میں باضابطہ طور پر لاگو کردیا جو آج سے نافذ العمل ہے۔ صوبائی دارالحکومت اس سسٹم کا ہدف ہے تاکہ شہر میں ٹریفک قوانین کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر قابو پایا جائے۔ PSCA کی جانب سے انتباہی بورڈز پہلے ہی شہر بھر میں آویزاں کیے جا چکے ہیں جن پر “لاہور میں ای-چالان کا آغاز ہو چکا” درج ہے تاکہ شہریوں مطلع ہو جائیں کہ اب احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کرنی ہے۔ ای-چالان سسٹم کے آپریشن PSCA کے الیکٹرانک ٹکٹنگ سینٹر کی زیر نگرانی چلایا جائے گا جس کے لیے انہیں ٹریفک قوانین کے سیکشن 116-A کے موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت اختیارات حاصل ہیں۔ PSCA کی نظریں پنجاب کے تمام شہروں میں ایسا ہی نظام نافذ کرنے پر مرکوز ہیں۔ مزید برآں، ہر خلاف ورزی پر اس کے مرتکب فرد سے جرمانے کی مخصوص رقم بیان کی گئی ہے۔

ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی:

اتھارٹیز کے پاس ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد کے ڈرائیونگ لائسنس کو منسوخ کرنے کا اختیار ہوگا۔ ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی تین ماہ سے زیادہ سے زیادہ 2 سال کے عرصے تک کی جا سکتی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے ان افراد کی نشاندہی PSCA کے شہر بھر میں نصب کردہ جدید CCTV کیمروں کی مدد سے کی جائے گی۔ یہ کیمرے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا فوری ڈیٹا مہیا کریں گے جو گاڑی کو پہچاننے میں مدد دے گا۔

چالان کہاں جمع ہوگا؟

ابتدائی طور پر PSCA ذرائع کے مطابق چالان کی رقم بینک آف پنجاب کی شاخوں میں جمع کروائی جا سکتی ہے۔ چالان جمع کروانے کے لیے عوام کو مختلف بینکوں کی سہولت دینے کی خاطر ایسے ہی مذاکرات نیشنل بینک آف پاکستان سے بھی ہو رہے ہیں۔

جرمانہ جمع کروانے کا دورانیہ:

خلاف ورزی کا چالان جمع کروانے کا دورانیہ 10 دن ہے۔ اس متعین عرصے میں چالان جمع نہ کروانے کی صورت میں یہ دوگنا ہو سکتا ہے۔ جو ٹریفک قوانین کی بارہا خلاف ورزی کرتے پائے گئے پولیس ان کی گاڑی ضبط کر سکتی ہے۔ بارہا چالان جمع کروانے میں ناکامی بھی ایسی ہی ضبطی کا سبب بن سکتی ہے۔

سرخ بتی کی خلاف ورزی:

PSCA کے ترجمان کے مطابق ای-چالان سسٹم سرخ بتی کی خلاف ورزی کے لیے ابھی جاری ہے۔ یہ سسٹم سرخ بتی کی خلاف ورزی پر کامیابی سے جرمانے جمع ہونے کے بعد دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں تک پھیلایا جائے گا۔

ای-چالان جمع کروانا:

CCTV کیمروں کی مدد سے بننے والا ای-چالان خلاف ورزی کرنے والی گاڑی کی تصاویر کے ساتھ گاڑی کے مالک کو اس کے ڈاک پتے پر بذریعہ پاکستان پوسٹ ارسال کیا جائے گا۔ پاکستان پوسٹ کی جانب سے خلاف ورزی کرنے والے کے کھاتے سے 50 روپے بھی چارج کیے جائیں گے۔

ہیلمٹ جرمانہ:

لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد سٹی ٹریفک پولیس موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ نہ پہننے پر بھاری جرمانے لگانا شروع ہو جائے گی۔ ابتدائی طور پر یہ سسٹم لاہور کے مشہور مال روڈ پر پولیس کی جانب سے 20 پوائنٹس تک کے ٹکٹ جاری کرے گا۔

IGP پنجاب کی جانب سے جرمانے بڑھانے کی تجویز:

ایک محتاط اندازے کے مطابق لاہور میں روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک قوانین کی لگ بھگ 6000 خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی حوصلہ شکنی کے لیے انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) پنجاب نے لاہور میں چالان کی فیس میں 2000 فیصد جرمانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کی منظوری کی کی صورت میں 1000 روپے والا چالان 20 ہزار روپے کی انتہائی بلندیوں تک جا سکتا ہے۔ تجویز کے مطابق موٹر گاڑی مالکان کو 2000 فیصد زیادہ جرمانے دینا ہوں گے جبکہ موٹر سائیکل مالکان کو 1000 فیصد زیادہ۔

ٹریفک خلاف ورزیوں کے لیے مجوزہ جرمانے کی فہرست:

ہر ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر جرمانوں کی مجوزہ فہرست کچھ یوں ہے:

شمار خلاف ورزی کی قسم چالان کی رقم
نان-رجسٹرڈ گاڑی چلانا 3000
گاڑی کے لائسنس کی درست تاریخ کو ظاہر کرنے والا اسٹیکر عیاں نہ کرنا یا درخواست پر ظاہر کرنے سے انکار 1000
اپنے لائسنس کی تجدید کے بغیر سڑک پر گاڑی چلانا 15000
بغیر نمبر پلیٹوں کے گاڑی چلانا 30000
نمبر پلیٹ کے رنگ اور صورت کی بلااجازت تبدیلی یا اس پر موجود تفصیلات کو تبدیل کرنا یا اسے کسی کو دینا یا تبدیل کرنا 15000
گاڑی استعمال نہ ہونے یا طے شدہ تاریخ کے اندر گاڑی کے لائسنس کی عدم تجدید کی صورت میں یا گاڑی کے استعمال کے لیے ناموزوں قرار دیے جانے پر یا اپنی رجسٹریشن کی منسوخی کی درخواست دیتے ہوئے یا اسے بالآخر ملک سے باہر برآمد کرتے ہوئے نمبر پلیٹیں لائسنسنگ اتھارٹی کو واپس نہ کرنا 1500
ایک یا دونوں نمبر پلیٹوں کے کھونے یا انہیں نقصان پہنچنے کی صورت میں لائسنسنگ اتھارٹی کو فوری طور پر مطلع نہ کرنا 1500
بلا اجازت کمرشل نمبر پلیٹوں کا استعمال 1500
بلااجازت مقاصد کے لیے عارضی نمبر پلیٹوں کا استعمال (“For test” نمبر پلیٹیں) 1500
10۔ کمرشل نمبر پلیٹوں کے ساتھ یا گاڑیوں کے ٹیسٹ کے لیے دی گئی نمبر پلیٹوں کو قوانین کے مطابق آویزاں نہ کرکے گاڑی چلانا یا کسی غیر مجاز فرد کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا 5000
11۔ کمرشل یا ٹیسٹ گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں یا عارضی نمبر پلیٹیں منسوخ ہونے یا تجدید نہ ہونے کی صورت میں لائسنسنگ اتھارٹی کو واپس نہ کرنا 1500
12۔ قانون کے برخلاف گاڑی کے کسی بھی حصے یا باڈی پر رنگ کروانا یا کوئی بھی تفصیل پیش کرنا یا لائسنسنگ اتھارٹی کی تحریری اجازت کے بغیر گاڑی کو تشہیر مقاصد کے لیے استعمال کرنا 5000
13۔ لائسنسنگ اتھارٹی کی اجازۃ کے بغیر گاڑی کے استعمال میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کرنا یا کسی بھی بڑے پرزے کو بدلنا جو گاڑی کی رجسٹریشن تفصیلات کے برخلاف ہو 30000
14۔ گاڑی کی ملکیت تبدیل ہونے کے تین دن کے اندر مالک کی جانب سے لائسنسنگ اتھارٹی کو تحریری طور پر نئے مالک اور اس کے پتے کی تفصیلات کے ساتھ ملکیت کی تبدیلی سے آگاہ نہ کرنا 5000
15۔ اگر گاڑی کا نیا مالک تین دن کے اندر تحریری طور پر لائسنسنگ اتھارٹی کو گاڑی کی ملکیت کی تبدیلی کے بارے میں آگاہ نہ کرے 5000
16۔ گاڑی کا مالک مالک کے نام یا قومیت یا آئی ڈی نمبر، اس کے پتے یا رہائش میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں 10 دن کے اندر آکاہ نہ کرے 5000
17۔ اگر گاڑی کا مالک رجسٹریشن کارڈ (آر سی/وہیکل لائسنس) کی گمشدگی یا ضائع ہو جانے کے بارے میں لائسنسنگ اتھارٹی کو آگاہ نہیں کرتا یا گمشدہ کارڈ کی جگہ نئے کارڈ کے لیے درخواست نہیں دیتا یا جسے کھویا ہوا آر سی ملتا ہے وہ اسے لائسنسنگ اتھارٹی کو واپس نہیں کرتا 5000
18۔ ڈرائیونگ انسٹرکٹر ڈرائیونگ کلاسوں کے حوالے سے قواعد و ضوابط کو بجا نہ لائے یا سیکھنے والا ڈرائیونگ کلاسز کے دوران لرنرز کا اجازت نہ رکھے یا پولیس کی جانب سے طلب کیے جانے پر ظاہر نہ کرے 1000
19۔ ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کے بغیر گاڑی چلانا 10000
20۔ ڈرائیور ڈرائیونگ کے دوران ڈرائیونگ لائسنس نہ رکھتا ہو یا پولیس کی جانب سے طلب کیے جانے پر پیش نہ کرے 5000
21۔ ایک ہی قسم کے ایک سے زیادہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا یا انہیں استعمال کرنا یا کسی کو خلاف قانون استعمال کرنے کی اجازت دینا یا ناجائز فائدے کے لیے لائسنس استعمال کرنا یا کسی دوسرے کا لائسنس استعمال کرنا یا قانون کی دی گئی اجازت کے علاوہ اسے قبول کرنا 5000
22۔ ڈرائیونگ لائسنس کا مالک اپنے ڈرائیونگ لائسنس کی گمشدگی یا خراب ہو جانے کی قریبی ٹریفک ڈپارٹمنٹ یا ٹریفک آفس میں فوری اطلاع نہ کرے یا جہاں بھی ملے تو اسے لائسنسنگ اتھارٹی کو واپس نہ کرنا 1000
23۔ کار رینٹل دفاتر اور ادارے یا گاڑیوں کی خرید و فروخت کرنے والے شومروز یا کار ڈیکوریشن کی دکانیں کا کار آٹوموبائل ورکشاپس لائسنسنگ اتھارٹی سے ٹریڈ لائسنس حاصل کرنے سے پہلے ہی کاروبار شروع کردیں 30000
24۔ لائسنسنگ اتھارٹی سے اجازت حاصل کیے بغیر ڈرائیونگ اسکول بنانا یا چلانا یا ڈرائیونگ کلاسیں لینا 30000
25۔ اگر موٹر چلانے والا قانون میں وضع کردہ حالات میں سڑک کے بائیں جانب نہیں رہتا 5000
26۔ ٹرانسپورٹ گاڑیوں (تمام اقسام کی بسوں) اور ٹرکوں، سامان اٹھانے والی گاڑیوں، ٹرالرز یا چھوٹے ٹرالرز کے ڈرائیور سڑک میں بائیں جانب نہ رہیں یا دیگر گاڑیوں کو اوور ٹیک کریں 30000
27۔ ڈرائیونگ کے دوران سڑک کے مرکزی حصے میں لینز کی پابندی نہ کرنا 3000
28۔ سنگل ڈائریکشن روڈ پر مخالف (غلط) سمت میں گاڑی چلانا 60000
29۔ ہنگامی صورتحال کے علاوہ مین روڈ پر یا انٹرسیکشنز پر گاڑی کو ریورس کرنا 10000
30۔ اگر کسی گاڑی کا ڈرائیور قانون میں طے شدہ احتیاط کا مظاہرہ کیے بغیر ذیلی سڑک تک پہنچنے کے لیے لین سے ایگزٹ کرتا ہے یا سڑک کے قریب کسی مقام سے داخل یا خارج ہوتا ہے یا مڑتا یا ریورس کرتا ہے 2000
31۔ اگر کسی گاڑی کا ڈرائیور ایکسپریس وے پر غیر مخصوص علاقے میں گاڑی پارک کرتا ہے یا ریورس کرتا ہے یا دائیں جانب مڑتا ہے یا یو ٹرن لیتا ہے یا ٹریفک آئی لینڈ پر گاڑی چلاتا ہے 15000
32۔ اگر کوئی موٹر سائیکل سوار اپنے لیے مخصوص لینز میں موٹر سائیکل نہیں چلاتا 1000
33۔ اگر کوئی موٹر سائیکل سوار سائیڈکار یا بیک سیٹ کے بغیر اپنی موٹر سائیکل پر مسافر لے جاتا ہے یا اگر ایک سائیکل سوار اپنی اس سائیکل پر مسافر بٹھاتا ہے کہ جو مسافر اٹھانے کے لیے تیار نہیں کی گئی 1000
34۔ اگر پچھلی نشست پر بیٹھے موٹر سائیکلسٹ، بائسیکلسٹ اور رائیڈرز نے ہیلمٹ نہ پہنا ہو 2000
35۔ اگر کوئی موٹر سائیکل یا سائیکل سوار دونوں ہاتھوں سے ہینڈل بار کو نہ تھامے الّا یہ کہ اسے ہاتھ سے اشارہ دینا ہو یا اگر وہ ڈرائیونگ کے دوران کسی دوسری گاڑی کو تھامے ہوئے ہو یا اگر دو پہیوں والی گاڑی ایک پہیے پر چلائی جا رہی ہو یا چیزوں کو اس طرح کھینچنے، ڈھونے، دھکیلنے یا گھسیٹنے کی کوشش کرے کہ اس سے ٹریفک میں رکاوٹ کا خدشہ ہو یا خود کو یا سڑک پر دوسروں کو خطرہ لاحق ہو 15000
36۔ کسی ممنوعہ سڑک پر گاڑی چلانا یا کسی کو لائسنسنگ اتھارٹی کی تحریری اجازت کے بغیر کسی کو اس کی اجازت دینا 5000
37۔ سڑک پر طے شدہ رفتار کی حد کو عبور کرنا۔ اور ہر 10 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کے لیے 1000 روپے کا اضافہ جس میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10،000 روپے ہو سکتا ہے 5000
38۔ اگر موٹر سوار پیدل گزر گاہ پر یا رش کے مقامات پر یا موڑوں پر یا دوراہوں یا چوراہوں یا چورنگیوں یا پلوں یا انڈر پاسز پر یا اسکول اور ہسپتال کے علاقوں میں داخل ہونے پر آہستہ نہیں ہوتا جو سڑک پر حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے 3000
39۔ اگر موٹر سوار سڑک کی حالت اور کیفیت، گاڑی کی حالت اور اس کے وزن کے حساب سے رفتار کو کنٹرول اور ہم آہنگ نہیں کرتا چاہے آیا جہاں بھی ضرورت پڑے گاڑی روک کر یا رفتار کم کرکے مدد لی جائے 2000
40۔ گاڑی کو بغیر کسی اچھی وجہ کے غیر معمولی حد تک کم رفتار کے ساتھ چلانا کہ جو ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کر 2000
41۔ سڑک پر موجود ٹریفک کی حفاظت کے لیے ضروری ایمرجنسی کے بغیر اچانک بریک لگا دینا 3000
42۔ پیشگی طور پر واضح (مڑنے کا اشارہ) اور گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے کافی وقت پہلے اشارہ نہ دینا 3000
43۔ اگر ڈرائیور اور آگے کی نشست پر بیٹھا ہوا مسافر سڑک پر ڈرائیونگ کے دوران سیٹ بیلٹ نہ پہنیں 2000
44۔ ڈرائیور ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون یا کوئی بھی ڈیوائس استعمال کر رہا ہو یا اپنے ہاتھ میں لیے ہو یا گاڑی میں نصب ٹیلی وژن میں کسی چیز کو دیکھنے میں مصروف ہو یا 10 سال سے کم عمر کے بچوں کو ڈرائیونگ کے دوران اگلی نشست پر بٹھائے ہوئے ہو 5000
45۔ گاڑی کے لائسنس یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ میں طے شدہ مقاصد کے علاوہ گاڑی کو کسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا یا کسی کو استعمال کرنے کی اجازت دینا 30000
46۔ ایسے وہیکل لائسنس کی حامل گاڑی کو ڈرائیو کرنا (جس کا وہیکل لائسنس ٹریفک کی سنگین خلاف ورزی یا سنگین غیر قانونی سرگرمیوں جیسا کہ منشیات کی فروخت وغیرہ کی وجہ سے معطل ہو چکا ہو) جسے قانونی و انتظامی فیصلے کی بنیاد پر معطل کیا جا چکا ہو 15000
47۔ ایسے ڈرائیونگ لائسنس کی حامل گاڑی چلانا جبکہ وہ قانونی و انتظامی فیصلے کی بنیاد پر معطل ہو چکا ہو 15000
48۔ ایسی گاڑی چلانا جو بہت شور مچاتی ہو یا کثیف دھواں یا خراب دھواں چھوڑتی ہو یا آتش گیر مادّے ٹپکتے ہوں یا صحت عامہ یا ماحول کو خراب کرتی ہو یا سڑک کو خراب کرتی ہو یا مناسب سائلنسر کے بغیر گاڑی کو چلانا 30000
49۔ ایسی سڑکوں پر ٹپرز یا ارتھ موورز یا بل ڈوزرز وغیرہ چلانا کہ جو ایسی گاڑیوں کے لیے نہ بنائی گئی ہوں 30000

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who writes automotive content at Pakwheels and a photographer.

Top