لاہور میں ای-چالان سسٹم نافذ


پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (PSCA) نے پنجاب پولیس کے تعاون سے ای-چالان سسٹم متعارف کروا دیا ہے۔ یہ سسٹم کتنا کرگر ہے یہ پہلے ہی لاہور میں آزمائش کے دوران جانچ لیا گیا ہے۔ سسٹم 24 ستمبر سے پورے شہر میں باضابطہ طور پر کام کرنا شروع کرے گا۔

اتھارٹیز کسی بھی خلاف ورزی کی بشمول تیز رفتاری، غلط یو-ٹرن، سگنلز توڑنا یا ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی کرنے کی شہر بھر میں نصب CCTV کیمروں کی مدد سے نگرانی کریں گی۔ کسی قانون کی خلاف ورزی پکڑے جانے پر ایک ای-ٹکٹ فائن سسٹم کی جانب سے بنایا جائے گا جو بعد ازاں بذریعہ ڈاک خلاف ورزی کرنے والے کو بھیجا جائے گا۔ اس امر کی تصدیق کیا ہوگی کہ ای-ٹکٹ درست فرد کو حقیقی خلاف ورزی پر بھیجا گیا ہے؟ ای-ٹکٹ بھیجنے کے عمل کے دوران کسی بھی غلطی کا امکان ختم کرنے کے لیے خلاف ورزی کرنے والی گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصویر بھی چالان کے ساتھ منسلک کی جائے گی۔ مزید برآں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے اس واقعے کی تصویر بھی ای-ٹکٹ چالان کے ساتھ بھیجی جائے گی۔ یہ جرمانے کا شکار بننے والے فراد کے لیے واقعے کی صحت اور خلاف ورزی کی تصدیق میں مددگار ہوگا۔

2018-09-22_001-1-768x994

ای-چالان سٹم اس طرح بنایا گيا ہے کہ یہ خلاف ورزیوں کے پچھلے تمام ریکارڈز تاریخ اور مقام کے ساتھ محفوظ کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کی گاڑی جو بار بار قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے پنجاب پولیس کی جانب سے ضبط کرلی جائے گی۔ گاڑی گزشتہ تمام جاری کردہ ای-چالانز کی ادائیگی کی صورت میں ہی چھوڑی جائے گی۔ “صوبائی موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ء” ڈرائیونگ کے دوران غیر ذمہ دارانہ رویہ پر گاڑی کو ضبط کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ البتہ ادائیگی کی جانے کے بعد خلاف ورزي کرنے والا فرد فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی آپ کی گاڑی چلا رہا ہو اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرے تو؟ اس خلاف ورزی کا جرمانہ کسے لگے گی؟ اس سوال کا جواب ہے گاڑی میں بیٹھے کسی بھی فرد کی خلاف ورزی کا جرمانہ اس کے مالک سے لیا جائے گا۔ ای-چالان گاڑی کے مالک کے پتے پر بھیجا جائے گا، جسے واقعے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ یوں گاڑیوں کے تمام مالکان اب اس امر کو اچھی طرح جان لیں۔ پولیس ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 سسٹم کے حوالے سے کسی بھی قسم کے سوال کے لیے دستیاب ہوگی۔

یہ شہر میں ٹریفک قوانین اور ان کے اطلاق کے حوالے سے حکومت کا بہت مثبت قدم ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جو پہلے پولیس وارڈنز کی گرفت سے نکل جاتے تھے اب الیکٹرانک چالان سسٹم کے بعد قانون کی دسترس میں لائے جائیں گے۔ کوئی بھی شخص جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی کوشش کرے گا، کسی حرکت سے قبل دو مرتبہ سوچے گا۔ اس سے لاہور کے عوام میں ٹریفک قوانین کے حوالے سے زیادہ احساس بھی پیدا ہوگا کہ جہاں گزشتہ چند سالوں میں ٹریفک بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ سٹم روزانہ کے ٹریفک حادثات کو کم کرنے کا بھی عہد کرتا ہے جو قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ سسٹم سڑک پر موجود ہر شخص کی حفاظت کے حوالے سے بہت مثبت قدم ہے۔ امید کرتے ہیں کہ یہ سسٹم مثبت نتائج کے ساتھ کام کرے گا اور اسی طرح جلد ہی پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی پہنچے گا۔ لاہور کے مکینوں کو اب 24 ستمبر سے دھیان سے ڈرائیونگ کرنے کی ضرورت ہے۔

ای-چالان سسٹم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ نیچے تبصروں میں ہمیں بتائیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who loves to write content related to the automotive industry and a photographer by passion!

Top