کیا برقی گاڑیاں ہی آٹوموٹیو شعبے کا مستقبل ہیں؟

electric_cars_electric_vehicles

دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتوں کے پھیلتے ہوئے جال کے باعث تیل کی طلب میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گو کہ گزشتہ سال عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ریکارڈ ترین سطح تک گری تاہم رسد و طلب کے فرق سے ایک بار پھر خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے۔ تیل کی قیمت میں اس اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر گاڑیاں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کئی کار ساز ادارے متبادل توانائی مثلاً بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیل کی قیمت میں حالیہ کمی کے بعد برقی گاڑیوں کو آٹوموٹیو شعبے بالخصوص اسپورٹس کار کے زمرے کا مستقبل سمجھنا درست ہے؟

Mercedes SLS AMG

On the left is a 6.2L V8 Mercedes SLS AMG and on the right is a battery powered Mercedes SLS.

گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے ہر ایک گیئر میں زیادہ رفتار حاصل کرنے کےعلاوہ زیادہ سے زیادہ ٹارک کا حصول بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ٹیسلا ماڈل S کی ہی مثال لے لیجیے کہ جو 0 آر پی ایم میں 687 فٹ پاؤنڈ ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گویا آپ کو ٹربو اسٹارٹ کرنے کے لیے کسی انتظار کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ ٹارک بس آپ کے ایک اشارے کا منتظر ہے۔ اگر برقی گاڑی اس سے زیادہ یا کم از کم اتنی ہی قوت فراہم کرسکے تو پھر ڈرائیور کو اس سے غرض نہیں کہ گاڑی پیٹرول سے چل رہی ہے یا پھر بیٹری پر۔ چند ماہ قبل ووکس ویگن کے ڈیزل گیٹ اسکینڈل سے متعلق سبھی جانتے ہوں۔ برقی گاڑیوں میں اس طرح کے اسکینڈلز رونما ہونے کا خدشہ ہی نہیں رہے گا کیوں گہ وہ دھویں سے پاک گاڑیاں ہوں گی۔

یہ بھی دیکھیں: فراری لافراری، میکلرن P1 اور پورشے 918 اسپائڈر کا دلچسپ مقابلہ

البتہ برقی گاڑی کی چند چیزیں ایسی بھی ہیں جو شاید گاڑیوں کے شوقین افراد کو پسند نہ آئیں۔ مثال کے طور پر پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کے برعکس برقی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں میں کسی قسم کی کوئی آواز نہیں ہوتی۔ خاص طو رپر جب آپ 300 ہارس پاور کی رفتار سے برقی گاڑی دوڑا رہے ہوں گے تو اس میں روایتی گاڑیوں کے انجن سے آنے والی دلفریب آواز آپ کی سماعتوں سے نہیں ٹکرائے گی۔ اس کے علاوہ برقی گاڑیوں کی چارجنگ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا مستقل حل تلاش کرنے کا کام اب تک مکمل نہیں ہوسکا۔ اب آپ خود سوچیئے کہ اگر مرسڈیز SLS کی بیٹری چارج کرنے کے لیے 20 گھنٹے درکار ہوں تو لوگ موجودہ SLS AMG کیوں نہ رکھیں کہ جس میں پیٹرول صرف 5 منٹ میں بھرا جاسکتا ہے۔

اب برقی گاڑیوں سے متعلق ان لوگوں کی رائے جانتے ہیں کہ جو ایک طویل عرصے سے گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ فیراری (Ferrari) کے سربراہ جناب سرجیو مرچونے کہتے ہیں کہ برقی گاڑیاں دراصل “بکواس” ہیں تبھی فراری نے اب تک ایک بھی برقی گاڑی نہیں بنائی۔ ایک اور اطالوی ادارے میزاراتی کے سربراہ نے بھی کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بجلی سے چلنے والی گاڑی نہیں بنانا چاہتے تاہم انہیں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اس حوالے سے پیش رفت کرنا پڑسکتی ہے۔ فیراری اور میزاراتی کے سربراہان برقی گاڑیوں سے متعلق ایک جیسی رائے رکھتے ہیں تاہم میزاراتی کے سربراہ نے برقی گاڑی تیار کرنے کا عندیہ تو دیا لیکن فیراری کی جانب سے ایسی کوئی بات اب نہیں کی گئی۔

فیراری اور میزاراتی کے بالکل برعکس پورشے (Porsche) کے چیئرمین اولیور بلیو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پورشے مشن-ای رواں عشرے کے آخر میں پیش کردی جائے گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ پورشے کے سربراہ نے امریکی کار ساز ادارے کا نام لے کر کہا کہ برقی گاڑیوں کو ایک نئی جہت فراہم کرنے پر ہمیں ٹیسلا کا شکرگزار ہونا چاہیے۔

Porsche-Mission-E-front-end

A concept version of Porsche Mission E, due to launch in 2020.

گو کہ مجھے یہ کہنا بالکل اچھا نہیں لگتا لیکن حقیقت یہی ہے کہ برقی گاڑیاں ہی آٹوموٹیو شعبے کا مستقبل ہیں۔ مذکورہ اداروں کی رائے پڑھنے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب تک برقی گاڑیوں کی تیاری پر مختلف رائے پائی جاتی ہے لیکن یہ سچ ہے کہ آج نہیں تو کل ان اداروں کو بھی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری شروع کرنا ہوگی۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر دنیا میں ان کا نام ڈوب جائے گا اور ان کی جگہ نئی ٹیکنالوجی کی حامل گاڑیاں تیار کرنے والے ادارے لے لیں گے۔ البتہ گاڑیوں کے شعبے میں برقی گاڑیوں کا انقلاب اب تک رونما نہیں ہوا لیکن جب ایسا ہوگا تو یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہوگا کہ خود کار گاڑیوں اور ڈرونز کی آمد کن حالات کو جنم دیتے ہیں۔

Sadiq Khurshid

I am a recent graduate from a business school. I have a great passion for cars particularly the German sedans and Japanese sports cars.

Top