اوپن لیٹر پر گاڑیاں چلانے والوں کو پنجاب ایکسائز ڈپارٹمنٹ کا انتباہ


پنجاب ایکسائز ڈپارٹمنٹ (PED) نے ان افراد کو خبردار کیا ہے جو اوپن لیٹر پر گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اتھارٹی نے ایسے افراد کو دو ماہ کا وقت دیا ہے کہ وہ پی ای ڈی دفتر آ کر ایسی گاڑیاں باضابطہ طور پر اپنے نام کروائیں۔ مزید برآں، یکم مئی 2018ء سے خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ایکسائز آفس آئیں اور گاڑی کو نئے مالک کے نام منتقل کروائیں۔

کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹرائزڈ ٹرانسفر ڈیڈز جاری کی جائیں گی، جس پر ٹرانسفر کرنے والے، کروانے والے اور گاڑی کی مکمل تفصیلات درج ہوں گی۔ خریدار اور فروخت کنندہ کو صرف دستخط کرنے اور اپنے انگوٹھے کے نشانات دینے اور اتھارٹی کے پاس جمع کروانے کی ضرورت ہوگی۔ مزید برآں، بایومیٹرک تصدیق ایکسائز ڈپارٹمنٹ کرے گا اور تصویر بھی لی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ٹرانسفر ڈیڈ صرف گاڑی کے رجسٹریشن نمبر پر مشتمل ہوتی تھی، جبکہ تمام معلومات ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، اس لیے یہ بہت بڑی سہولت ہے۔

عہدیدار نے زور دیا کہ پالیسی پورے صوبے کے لیے لاگو کی جا رہی ہے۔

اپنے گاڑیوں کی منتقلی کے کام کے طویل جھنجھٹ سے چھٹکارا پانے کے لیے لوگ اوپن لیٹر سے ہی کام چلا لیتے تھے جسے اب حکومت نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ اوپن لیٹر فارمولا کسٹمز حکام کے مطابق کسٹمز کی آمدنی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اس حوالے سے تبصرے میں اپنی رائے ضرور دیجیے۔


Top