ٹویوٹا کرولا کو “نیا روپ” دینے کی کوشش؛ خفیہ تصاویر منظر عام پر آگئیں!

2017-toyota-corolla-spy-shots-(6)

ٹویوٹا کرولا کی گیارہویں جنریشن نے پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں دھوم مچا رکھی ہے۔ صرف امریکہ میں سال 2015 کے دوران 3،63،332 فروخت ہوئیں۔ پاکستان میں بھی کچھ یہی صورتحال رہی۔ گزشتہ سال کے آخری مہینے کے اعداد و شمار ابھی آنا باقی ہیں مگر 2015 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران مجموعی طور 54,053 کی تعداد میں فروخت ہونے والی کرولا سب سے زیادہ فروخت ہونی والی گاڑی بن چکی ہے۔ مارکیٹ میں اس کی طلب کو دیکھتے ہوئے ہمیں پوری امید ہے کہ کرولا کی فروخت 60 ہزار کا سنگ میل بھی عبور کرجائے گی۔

لیکن اب چونکہ نئی ہونڈا سِوک 2016 متعارف ہوچکی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹویوٹا نے بھی سِوک کے لیے عوام کی گرم جوشی کو محسوس کرلیا ہے۔ نئی سِوک امریکہ اور کینیڈا میں فروخت کے لیے پیش کی جاچکی ہے اور توقع ہے کہ رواں سال پاکستان میں بھی متعارف کروا دی جائے گی۔ امریکہ میں سِوک کی آمد کے بعد کرولا کی فروخت میں کمی کو محسوس کرتے ہوئے، ٹویوٹا نے اپنی مشہور ترین برانڈ کو ایک نیا روپ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹویوٹا کی کوشش ہوگی کہ وہ کرولا کے نئے انداز سے دسویں جنریشن سِوک کا مقابلہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا سِوک اوریئل پروسمیٹک بمقابلہ ٹویوٹا کرولا آلٹس گرانڈے

سِوک سے ممکنہ مقابلے کی تیاری کرتے ہوئے ٹویوٹا کرولا 2017 پر کافی تندہی سے کام جاری ہے۔ ٹویوٹا نے کرولا 2017 کے اگلے حصے کو بہتر بنانے کے لیے اپنی ہائیڈروجن ایندھن سے چلنی والی گاڑی میرائی سے استفادہ حاصل کیا ہے۔ کرولا کے نئے روپ کو امریکہ میں دیکھا گیا اور حسب توقع اسے پردے سے ڈھانپا گیا تھا جس میں پچھلی لائٹس بھی شامل تھیں۔ اگر آپ تصاویر کا بغور جائزہ لیں تو صرف بریک لائٹس ہی دیکھ پائیں گے جنہیں ٹریفک قوانین کی رو سے ڈھانپنے کی اجازت نہیں۔

پردے کے باوجود آپ میرائی کی طرز پر کی گئی بنیادی تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں جن میں اگلے بمپرز میں ابھرے ہوئے نقوش بھی شامل ہیں۔ اگلی لائٹس کو بھی نئی شکل دی گئی ہے اور اب وہ بہت ہموار و بہتر معلوم ہورہی ہیں۔ اندرونی حصے میں بھی تھوڑی بہت تبدیلیاں متوقع ہیں تاہم اس کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں۔

یہ ویڈیو دیکھیں: ٹویوٹا کرولا GLi اور ٹویوٹا کرولا Xli کا تفصیلی جائزہ

چونکہ یہ خبریں اور تصاویر امریکہ سے موصول ہورہی ہیں اور پاکستان میں زیادہ تر مشرق وسطی سے ڈیزائن اخذ کیا جاتا ہے، اس لیے ہم صرف دعا ہی کرسکتے ہیں کہ پاکستان میں بھی کرولا کو نئے انداز کے ساتھ پیش کیا جائے۔

Top