پاکستان میں غیر معیاری اور جعلی آئل کی فروخت؛ ذمہ دار کون؟

fake-engine-oil

انجن کو رواں دواں رکھنے کے لیے معیاری انجن آئل کا استعمال بہت ضروری ہے۔ انجن میں آئل کی اہمیت اتنی ہی ہے کہ جتنی انسانی جسم میں خون کو حاصل ہے۔ انجن آئل نہ صرف پرزوں کو بغیر شواری کام کرنے میں آسانی فراہم کرتا ہے بلکہ ان میں پیدا ہونے والی حرارت بھی قابو میں رکھتا ہے۔ لیکن ان اہم کاموں کے ضروری ہے کہ آپ کے انجن میں معیاری آئل موجود ہو بالخصوص ایسے انجن جو کہ بہت زیادہ گرم ہوجاتے ہیں مثلاً موٹرسائیکل انجن۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گاڑی یا موٹرسائیکل رکھنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی سواری میں ایسا انجن آئل ہی استعمال کروں جو معیاری ہونے کے ساتھ اصلی بھی ہو۔

بدقسمتی سے پاکستان میں بے شمار جگہوں پر نہ صرف غیر معیاری انجن آئل دستیاب ہے بلکہ مختلف ناموں سے جعلی انجن آئل کی فروخت بھی جاری ہے۔ آج کے دور میں استعمال شدہ انجن آئل حاصل کر کے اسے صاف کر کے دوبارہ ڈبے میں بند کردینا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ یہ جعل سازی اتنی مہارت سے انجام دی جاتی ہے کہ عام صارف اصلی اور نقلی انجن آئل کی بوتل میں فرق جان ہی نہیں سکتا ہے۔ اسی حوالے سے ذیل میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام کی ریکارڈنگ دیکھ کر بھی اس معاملے کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح جعل ساز افراد استعمال شدہ انجن کو دوبارہ فروخت کے قابل بنا کر سادہ لوح عوام کا پیسہ لوٹ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئل بروقت تبدیل کروائیں اور گاڑی کو بڑے نقصان سے بچائیں!

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے غیر معیاری ہائی-اسپیڈ ڈیزل رکھنے پر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) پر 50 لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ پی ایس او کے منیجنگ ڈائریکٹر کو بھیجے جانے والے نوٹس کے مطابق ادارے کو 30 یوم کے اندر جرمانے کی رقم ادا کرنا ہوگی۔ اوگرا کا کہنا ہے کہ فقیرآباد کے علاقے میں موجود پی ایس او گودام میں ہائی–اسپیڈ ڈیزل کے نسخے کو غیر معیاری پایا گیا جس پر انہیں ہرجانہ کیا گیا ہے۔

Top