ہائی-اینڈ گاڑیوں کی گھٹتی ہوئی طلب آٹو انڈسٹری کے قدم روکتی ہوئی


کار مینوفیکچررز ہائی-اینڈ اور لگژری گاڑیوں کی طلب میں کمی کی وجہ سے صدمے میں ہیں۔ وہ توقع کر رہے تھے کہ ہائی-اینڈ گاڑیوں کے صارفین کاروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دھچکا برداشت کر لیں گے اور ٹیکس سے فرار  اختیار کرنے والوں کے لیے بچھائے گئے جال کو نظر انداز کر دیں گے۔ 

حال ہی میں حکومت نے  امپورٹ کی جانے والی تمام گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) لگائی ہے۔ یہ ڈیوٹی 1000cc سے کم کی گاڑیوں پر 5.0 فیصد  جبکہ 1800cc سے زیادہ کی لگژری گاڑیوں پر 20 فیصد ہے۔ پالیسی سازوں نے FED کے حوالے سے آٹو انڈسٹری مشورہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ زیادہ قیمتیں فروخت پر بہت زیادہ اثر نہیں ڈالیں گی۔ 

روپے کی قدر میں کمی کے بعد مارکیٹ فروخت میں کسی بڑی کمی کے بغیر جاری رہی۔ آٹو انڈسٹری کو توقع تھی کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کے بعد  صارفین کے پاس مقامی سطح پر بنائی جانے والی گاڑیاں خریدنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہوگا۔ 

صنعتی ماہرین کا   ماننا ہے کہ نئے آرڈرز میں کمی کا الزام صرف زیادہ قیمتوں پر نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہائی-اینڈ خریدار نئی مہنگی گاڑیاں خریدنے میں ہچکچا رہے ہیں کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے ذریعے اُن کا پتہ چلا سکتا ہے۔ ان خریداروں کو  خدشہ ہے کہ FBR اُن سے ذریعہ آمدنی پوچھ سکتا ہے۔ 

یہ بات ٹویوٹا اور ہونڈا کی تیار کردہ ہائی-اینڈ کاروں کی طلب میں اچانک کمی کو واضح کرتی ہے۔ وینڈرز کا دعویٰ ہے کہ ان ہائی-اینڈ کاروں کے مقامی پرزوں کے اگلے چھ ماہ کے لیے آرڈرز میں 25 سے 30 فیصد کمی آئی ہے۔ 

آٹو مارکیٹ میں آنے والے نئے ادارے زيادہ پریشان ہیں۔ ان کے ماڈلز زیادہ مہنگے ہیں اور انہیں اپنی امپورٹ کی گئی گاڑیوں کو فروخت کرنے میں کہیں زیادہ دشواری کا سامنا ہے۔ 

گو کہ FED نچلے درجے کی گاڑیوں، یعنی 1000cc سے کم کی کاروں، پر بھی لگائی گئی ہے لیکن اُن کی فروخت تو بڑھ رہی ہے۔ شاید بہت سے ٹیکس ادا کرنے والے اِس لیے باقی کاروں کے مقابلے میں کم قیمت کی گاڑیوں کا انتخاب کر رہے ہیں کیونکہ ان کی قیمت 12 سے ساڑھے 16 لاکھ کے درمیان ہیں۔ 

اس وقت صرف ایک مینوفیکچرر ہے جو یہ گاڑیاں پاکستان میں بنا رہا ہے۔ کمپنی کو استعمال شدہ امپورٹڈ گاڑیوں کے لیے مارکیٹ  حاصل کرنا ہوگا، کہ اس کی قیمتیں ٹیکس کے بعد بھی استعمال شدہ امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتوں سے کم ہوتی ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے اپنے وینڈرز کو آئندہ چھ مہینے کے لیے 660cc  ورژن کے لیے 6000 گاڑیوں کی پیداوار کی اجازت دے رکھی ہے۔ 

اقتصادی زوال کی وجہ سے آٹو انڈسٹری میں فروخت میں 20 فیصد کی کمی کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ البتہ استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر پابندی کے بعد توقع ہے کہ 70 ہزار استعمال شدہ گاڑیوں سے  کا یہ خلا اتنا زیادہ ہوگا کہ پاکستان میں ابتر معاشی صورت حال کی وجہ سے گاڑیوں کی طلب میں آنے والی 20 فیصد کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ 

اس وقت کئی رائے موجود ہیں جیسا کہ طلب میں فوری اضافہ ہو سکتا ہے اگر حکومت پاکستانی گاڑیاں خریدنے پر کوئی سوال نہ پوچھے جانے کی پالیسی کا اعلان کرے۔ 

حکومت تقریباً تمام ہی گاڑیوں کی ریٹیل قیمت پر 37 سے 40 فیصد ریونیو حاصل کرنے کے قابل ہے۔ 

حکومت ہائی-اینڈ گاڑیوں پر 1.5 ملین روپے ریونیو نہیں پائے گی اور لو-اینڈ کی گاڑیوں سے صرف 4,50,000 روپے ملیں گے کہ جو ہائی-اینڈ گاڑیوں کی جگہ لیں گی۔ 

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں دیجیے۔


Google App Store App Store

Top