ایف بی آر امپورٹِڈ گاڑیوں پرکسی بھی نئی ریگولیٹری ڈیوٹی کا اطلاق نہیں کر رہا۔

used cars import
آج کل پاکستان بھر میں یہ خبر پھیلی ہوئی ہے کہ ایف بی آر امپورٹِڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی لگا رہا ہے۔جانے مانے اخبارات و جرائد اور میڈیا ہاؤسز نے یہ خبر جاری کی ہے کہ ایف بی آر امپورٹِڈ گاڑیوں پر ساٹھ فیصد سے زائد ریگولیٹری ٹیکس کا اطلاق کر رہاہے۔ریگولیٹری ڈیوٹی کی اس خبر نے امپورٹِڈ گاڑیوں کے ڈیلروں اور خریداروں میں افرتفری مچا دی ہے،کیونکہ کوئی بھی گاڑیوں کی امپورٹ پر نئی ڈیوٹی کی توقع نہیں کر رہا تھا۔پاک وہیلزکی ٹیم نے بھی اس خبر پر تحقیقات شروع کیں اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ نئی ریگولیٹری ڈیوٹی کی خبر کاسچائی سے کوئی تعلق نہیں۔
ایف بی آر نے صرف اپنا سالانہ گِزٹ اپ ڈیٹ کیا ہے جو وہ ہر سال ہی کرتا ہے۔اس معاملے پر مزید چھان بین سے یہ بات سامنے آئی کہ امپورٹِڈ گاڑیوں پر کوئی نئی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں کی گئی۔ایف بی آر نے صرف پچیس سو سی سی یا اس سے زائد کیٹگری کی گاڑیوں کی ریبیٹ پالیسی تبدیل کی ہے۔اس پالیسی کے تحت وہ امپورٹِڈ گاڑیاں جو کہ پچیس سو سی سی یا اس سے زائد ہیں ان کو یکم جولائی 2017سے کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔اس کے علاوہ پالیسی میں کوئی تبدبلی نہیں کی گئی اور وہ بالکل ویسی ہی ہے جیسا کہ پچھلے برس تھی۔در حقیقت امپورٹِڈ گاڑیوں پر کو ئی ڈیوٹی عائد نا کر نا حکومت کی جانب سے ایک اچھا اقدام ہے۔
اس قدم سے نا صرف پاکستانی صارفین کویہ سہولت ملے گی کہ وہ موزوں قیمت میں گاڑی امپورٹ کریں بلکہ اس سے لوکل مارکیٹ میں بھی بہتری اور مقابلے کی سی کیفیت پیدا ہو گی۔امپورٹِڈ گاڑیوں کی موجودگی سے لوکل مینو فیکچرز کوان سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنا میعار بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ گاڑی میں مزید بین الاقوامی خصوصیات بھی شامل کرنا ہوں گی۔پاک وہیلز کی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو شائع یا نشر کرنے سے پہلے اس کی صحیح سے تصدیق کر لیا کریں،کیونکہ ایسی غیر تصدیق شدہ خبریں بعض اوقات لوگوں میں افراتفری کا بائث بنتی ہیں اور یہ زیادہ تعداد میں امپورٹِڈ گاڑیاں خریدنے والے حضرات یا ڈیلرز پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

Top