افراتفری کی بدترین مثال: عام شہری اور پولیس اہلکار گتھم گتھا ہوگئے

Citizen and traffic wardens come to blows in Karachi's PIDC area (12)

شہر قائد کی ہنگامی خیزی میں ایک نیا ہنگامہ آج اس وقت رونما ہوا جب ایک عام شہری اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہاتھا پائی کی صورت اختیار کر گئی۔ انگریزی خبری ادارے ڈان نیوز کے مطابق یہ واقعہ پی آئی ڈی سی ٹریفک چیک پوائنٹ کے قریب وقت پیش آیا جب ایک شخص نے وہاں موٹر سائیکل کھڑی کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں: وی آئی پی کلچر کے خلاف مہم میں ‘ڈیش کیم’ کو اپنا ہتھیار بنائیں!

ٹریفک پولیس اہلکار نے موٹر سائیکل سوار، جس کا نام شفیق بتایا گیا ہے، کو بائک ہٹانے کا حکم دیا تو اس شخص نے وہاں موجود دیگر موٹر سائیکلوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ یہاں کھڑی ہوسکتی ہیں تو پھر میں کیوں نہیں کھڑی کرسکتا؟ اس پر دونوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی جو بعد ازاں تلخ کلامی اور پھر ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ موقع پر موجود ٹریفک پولیس اہلکاروں نے بھی اپنے پیٹی بھائی کا ساتھ دیتے ہوئے شہری پر تشدد کیا۔

اس مقام پر موجود عام شہریوں نے یہ تمام مناظر بذریعہ کیمرہ ریکارڈ کیے جن میں سے ایک آپ ذیل میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ویڈیو میں ظاہر ہے کہ موٹر سائیکل کا مالک پولیس اہلکار کو زمین پر دھکا دے رہا ہے جبکہ دیگر پولیس اہلکار مسلسل اپنے ہیلمٹ سے اس پر وار کر رہا ہے۔

بعد ازاں سندھ رینجرز کی مداخلت پر یہ افراتفری اختتام کو پہنچی۔ موٹر سائیکل سوار کو گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا اور سِول لائنز تھانے میں پولیس اہلکار پر حملے کا مقدمہ درج کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ بعد ازاں علاقہ مکینوں نے شفیق کی گرفتاری کے خلاف متعلقہ تھانے کے باہر احتجاج کیا۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ موٹر سائیکل سوار زیر علاج ذہنی مریض ہے۔ اب تک یہ بات واضح نہیں کہ موٹر سائیکل سوار کو ضروری قانونی کاروائی کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے یا وہ اب تک سلاخوں کے پیچھے بند ہے۔

ابھی اس واقعے کی دھول بیٹھی نہ تھی کہ آرٹلری میدان پولیس اسٹیشن میں ایک اور افسوس ناک واقعہ رونما ہوا۔ خبروں کے مطابق اپنی موٹر سائیکل وصول کرنے کے لیے آنے والے شخص اور ٹریفک پولیس اہلکار کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس کے بعد متعدد افراد نے تھانے پر دھاوا بول دیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے اہلکاروں کی عزت و احترام تمام شہریوں پر لازم ہے۔ کسی بھی صورتحال میں ان پر حملہ کرنا درست اور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو بھی چاہیے کہ وہ عوامی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھائے رکھیں۔ بالخصوص کسی بھی افسوس ناک صورتحال سے بچنے کے لیے خود پر قابو رکھیں اور اپنی طاقت کے ناجائز استعمال سے ہر ممکن پرہیز کریں۔

Top