2015 ٹویوٹا لینڈ کروزر ZX کا پہلا تجربہ

FR

مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی شخص سوا 2 کروڑ روپے کی گاڑی آپ کے ہاتھوں کبھی نہیں تھمائے گا۔ خاص کر جب آپ کا مقصد صرف اسے چلا کر دیکھنا ہو اور آپ اسے اکیلے چلانا چاہتے ہوں۔ لیکن ہم اس معاملے میں خوش قسمت رہے کیوں کہ ہمیں رینج روور، جی – کلاس، کین اور مستقبل قریب میں متوقع بینٹلی، میسرٹی اور لمبورگینی کا مقابلے کرنے کے لیے پیش کی جانے والی ٹویوٹا کی مہنگی ترین گاڑیوں میں سے ایک چلانے کا موقع ملا۔ گو کہ یہ گاڑی کہیں سے بھی لینڈ کروزر سے میل نہیں کھاتی لیکن چھوڑیے جناب، آخر لینڈ کروزر بھی کب تک پرانے وقتوں میں زندہ رہے گی کہ جب پوری دنیا فیس بک پر کھیتی باڑی کے نئے کھیلوں کی طرف راغب ہورہی ہے۔

ٹویوٹا لینڈ کروزر ZX چلانے کا موقع ہمیں آٹو مال کے ذریعے حاصل ہوا۔ ان کے نمائندے نے ہم سے رابطہ کیا اور شارع فیصل پر اس پرتعیش گاڑی کو چلانے کی پیش کش کی. اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق ہم نے فوراً حامی بھرلی۔ لیکن اس گاڑی سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کے لیے میں نے لینڈ کروزر ZX سے متعلق مواد اکھٹا کیا اور اسے دوبارہ پڑھا۔ گو کہ میں اس کے بارے میں پہلے ہی سے بہت کچھ جانتا تھا لیکن مزید مطالعے سے یہ خیال مزید پختہ ہوگیا کہ ٹویوٹا لینڈر کروزر دیگر کار ساز اداروں کی پرتعیش گاڑیوں سے مسابقت میں پیش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ لیکسز LX570 بھی بنائی گئی ہے جو بہت جلد پاکستان میں بھی دستیاب ہوگی۔ البتہ اس گاڑی میں بہت سی چیزیں مجھے نہ مل سکیں جو لینڈ کروزر کے شان ہوا کرتی تھیں۔ لیکن کچھ ایسا ویسا سوچنے سے قبل دو باتیں ضرور جان لینی چاہیئں:

1: لینڈ کروزر آخری بار 1993 میں بنائی گئی تھی
2: اس گاڑی کو 25 سال کے طویل عرصے کے لیے بنایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر اس کا اگلا شیشہ (windshield) عام ٹویوٹا گاڑیوں کے مقابلے میں 2 ملی میٹر زیادہ موٹا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا BR-V: وِزل اور CR-Z کے بعد ہونڈا یہ موقع بھی ضائع کرے گا؟

لینڈ کروزر کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے لیکن لوگ عموماً وہی گاڑی خریدتے ہیں جو دور حاضر میں زیادہ مشہور ہورہی ہو۔ ایسے میں ٹویوٹا سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ اتنی زیادہ پیسہ خرچ کرنا ہی ہے تو کوئی لینڈر کروزر کیوں لے؟ اور پورشے کیئن، رینج روور یا لیکسز LX570 کو منتخب کیوں نہ کرے؟ نئی لینڈ کروزر کی صرف ایک ہی بات ہے جو دیگر ہم عصر مسابقین سے اسے ممتاز کرتی ہے اور وہ ہے ‘بیج (bedge)’ اور ہاں ایک عدد مخملی قالین۔ جب میں نے لینڈ کروزر کا دروازہ کھولا تو مجھے ہلکے رنگ کا مخملی قالین دیکھ کر دل خوش ہوگیا اور جی چاہا کہ اس پر سوجاؤں۔ لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔ بہرحال گاڑی میں بیٹھنے کے بعد باہر قدم رکھتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوا کہ کہیں میرے جوتے گندے ہو کر قالین کو بھی میلا نہ کردیں۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ قالین کو دھونا کس قدر مشکل کام ہے۔ بہرحال، ٹویوٹا کو فیصلہ کرلینا چاہیے تھا کہ وہ ایک ایسی گاڑی بنا رہا ہے جو کچے پکے راستوں پر چلائی جائے گی اور اس کے مسافروں کے جوتے گندے ہوکر قالین کو بھی خراب کریں گے یا پھر یہ ایک ایسی لینڈ کروزر ہے جو ماضی کے برعکس صرف شہر ہی میں چلائے جانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

Landcruiser & LX 570

اگر ہم دنیا بھر کی مارکیٹ کی بات کریں تو ایک بات واضح ہے کہ یہ گاڑی عرب ممالک یا پاکستانی مارکیٹ میں نہیں چل سکے گی کیوں کہ شمالی امریکا اور چین دو بڑی مارکیٹیں ہیں جہاں یہ گاڑی مشہور ہوسکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ٹویوٹا نے دیگر مارکیٹ کے لیے لیکسز LX570 پیش کی ہے جو شہری اور بیرون شہر سفر کے لیے بہترین گاڑی کہی جاتی ہے۔

front1

ڈیلر نے ہمیں بتایا کہ اس لینڈ کروزر میں ہر وہ چیز شامل ہے جو رینج روور کا حصہ ہے اور اب ان دونوں گاڑیوں میں کوئی فرق نہیں رہا۔ گو کہ وہ ایسے کئی ایک فیچرز دکھانے میں ناکام ہی رہے مثلاً کرال کنٹرول جس سے ہم 360 ڈگری سے گاڑی کے اوپر کا منظر دیکھ سکیں۔ شاید یہ بات صرف ایک سسپنشن کی وجہ سے کہی گئی جسے AHC یعنی ایکٹو ہائیٹ کنٹرول کا نام دیا گیا ہے۔

جو لوگ لینڈ کروزر کی قابلیت پر شک کر رہے ہیں وہ ذیل میں موجود ویڈیو ملاحظہ کریں:

سفر کا تجربہ:
گو کہ ہمیں لینڈ کروزر ZX چلانے کے لیے کم ہی وقت مل سکا تاہم پورے سفر میں مجھے دوسروں کی رشک بھری نگاہیں اپنی جانب اٹھتی ہوئی نظر آتی رہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میں کھانے کے دسترخوان پر سب کے ساتھ بیٹھا ہوں لیکن میں نے دیگر افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ جگہ گھیری ہوئی ہوئی ہے۔ ٹریفک میں مجھے احساس ہوا کہ اس گاڑی میں بیٹھ ہر شخص انتہائی شریف شہری کی طرح ایک ہی لین پر چلے گا اگرچہ اس کے پیچھے محافظوں سے بھری ویگو نہ آجائے مگر 360 ڈگری کے ذریعے آس پاس دیکھتے ہوئے آپ لین تبدیل کرسکتے ہیں لیکن میں نے نہیں کی کیوں کہ لینڈ کروزر میں براجمان تھا۔
8

اطمینان و سکون:
میرے قدموں کے نیچے مخملی قالین بچھا ہوا تھا۔ پچھلی جانب ہر مسافر کے لیے علیحدہ ٹیلی ویژن موجود ہے جس سے مجھے ایک انتہائی پرتعیش گاڑی میں بیٹھنے کا احساس ہوا۔ موڑ کاٹتے ہوئے ہمیں ذرا بھی احساس نہ ہوا کہ گاڑی ایک طرف جھکی ہو اور ہم پورے اطمینان سے گاڑی کی سیٹ سے چپکے رہے۔

انجن:
میں کئی ایک برق رفتار گاڑیوں کا تجربہ کرچکا ہوں لیکن اس بات کا قطعی اندازہ نہیں تھا کہ لینڈ کروزر میں بھی کہیں زیادہ رفتار میسر آئے گی باوجودیکہ اس کا انجن 4600 سی سی V8 ہے جو 304 ہارس پاور فراہم کرتا ہے۔

یہ تحریر آٹو مال کے تعاون سے لینڈ کروزر ZX کے پہلے تجربے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے اس لیے اسے تجزیہ قرار دینا مناسب نہیں۔ کیوں کہ اس میں ہم نے اپنے احساس قلم بند کیے ہیں ناکہ بہت زیادہ پیچیدہ اور گہری باتیں۔ اگر آپ اس گاڑی خریدنے سے پہلے یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو ہم معذرت خواہ ہیں کہ مزید رہنمائی اپنی مدد آپ کے تحت ہی حاصل کرنا ہوگی۔ لیکن ایک بات جو میں یہاں ضرور لکھنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ جو لطف آپ لینڈ کروزر سے حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ پورشے کیئن یا پھر رینج روور سے بھی ممکن ہے۔ لینڈ کروزر اب سب کی نظروں میں آچکی ہے اور عام طور پر سڑکوں پر چلتے پھرتے بھی نظر آجاتی ہے۔ اگر پھر بھی آپ لینڈ کروزر ہی منتخب کرتے ہیں تو اس کا نیا ‘بیج’ مبارک ہو۔

Top