پاکستان میں 50cc موٹر سائیکل دوبارہ کیوں پیش کی جانی چاہیے؟ جانیئے 5 اہم وجوہات!

BlackWhiteAJS

ہونڈا سُپر کب بلاشبہ دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور مشہور ترین موٹر سائیکلوں میں سے ایک ہے۔ گو کہ اسے مختلف انجن کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے تاہم 50cc سُپر کب کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ یہ ایک ایسی موٹر سائیکل تھی کہ جسے نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھنا زیادہ آسان نہ تھا۔ قیمت میں سستی اور دیکھ بھال میں آسانی کی وجہ سے یہ موٹر سائیکل اکثر لوگوں کی پہلی ترجیح ہوا کرتی تھی۔

ماضی میں 50cc موٹر سائیکلوں کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اگر یہ پوچھا جائے کہ دور حاضر میں بھی ان کی ضرورت ہے یا نہیں؟ تو جواب مثبت ہوگا۔ ہمارے یہاں شہر میں دستیاب عوامی ٹرانسپورٹ مثلاً بسیں، رکشا وغیرہ کا معیار انتہائی خراب ہے۔ کراچی جیسے شہر میں کہ جہاں کی آبادی 2 کروڑ سے بھی تجاوز کرچکی ہے، لوگوں کو ایک سستی اور بھروسہ مند سواری درکار ہے جس پر وہ اپنے روز مرہ امور انجام دے سکیں۔ بسوں، کوچوں اور رکشا میں دھکے کھانے کے بجائے لوت لوگ ذاتی سواری پسند کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں دستیاب سستی ترین 70cc موٹر سائیکلوں کی فروخت کافی زیادہ ہے۔

عوام کی بڑھتی ہوئی طلب ہی کو دیکھتے ہوئے مختلف ادارے چین میں تیار کی گئی 70cc بائیکس بھی پیش کر رہے ہیں جو قیمت میں کافی کم ہیں۔ یہ معاملہ اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ ان موٹر سائیکلوں کا معیار کیسا ہے اور یہ کتنا عرصہ چلائی جاسکتی ہیں۔ لیکن اگر موٹر سائیکلوں کی فروخت میں مجموعی اضافے کو دیکھا جائے تو اس کی بنیادی وجہ قیمت ہی نظر آتی ہے۔ اور جب بات ہو قیمت ہی کی تو پھر ایک ایسی 50cc موٹر سائیکل کیوں کر مقبولیت نہیں حاصل کرسکتی جس پر ایک جگہ سے دوسری جگہ باآسانی سفر کیا جاسکتا ہو۔ اس کے علاوہ 50cc موٹر سائیکلوں کے اور بھی بہت سے فوائد گنوائے جاسکتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی سے چلنے والی ہونڈا سُپر کب موٹر سائیکل 2018 میں پیش کی جائے گی

Honda_SuperCub_C50

ایندھن کے اخراجات میں کمی

چھوٹے انجن والی موٹر سائیکل کی سب سے اچھی خوبی ایندھن کی بچت ہے۔ اگر 70cc موٹر سائیکل ایک لیٹر پیٹرول پر 50 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے تو 50cc موٹر سائیکل ایک لیٹر میں 60 کلومیٹر سے بھی زیادہ سفر کرسکتی ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اتار چڑھاؤ دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ 50cc موٹر سائیکل ایندھن کے اخراجات میں خاصی کمی کرواسکتی ہے۔

دیکھ بھال میں آسان

کم طاقت ور انجن اور پرانی موٹر سائیکلوں کی دیکھ بھال بھی خاصی آسان ہوتی ہے۔ ان کے پرزے بھی باآسانی اور بہت کم قیمت میں مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ انجن کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات رکھتے ہیں تو اس کی ٹیوننگ اور صفائی ستھرائی بھی خود کرسکتے ہیں۔ اور پھر یہ حجم میں چھوٹی ہونے کی وجہ سے کہیں بھی زیادہ جگہ نہیں گھیرتی۔

خواتین کے لیے موزوں

گو کہ یہاں بہت کم خواتین موٹر سائیکل چلاتی ہیں لیکن اگر 50cc موٹر سائیکل متعارف کروائی جائے تو اس سے خواتین میں موٹر سائیکل چلانے کے رجحان کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر 50cc موٹر سائیکلوں کے انجن آٹومیٹک یا پھر جزوی آٹومیٹک ہوتی ہیں جس سے گیئر باکس اور مینوئل کلچ کی جھنجٹ سے جان چھوٹ جاتی ہے۔ اور اسی وجہ سے اسے چلانا آسان بھی ہوجاتا ہے۔ نئی 50cc موٹر سائیکلیں کافی اچھے انداز اور رنگوں میں دستیاب ہیں اس لیے انہیں ناپسند کیے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بینیلی اور کیوے موٹرسائیکلیں متعارف کروا دی گئیں

Honda Vision 50cc

وزن میں بہت ہلکی

عام طور پر 50cc موٹر سائیکلوں کا وزن 70cc بائیک کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں شہر میں ٹریفک کے دوران چلانا بہت آسان ہے۔ وزن میں ہلکی ہونے کی وجہ سے انہیں سنبھالنا، موڑ کاٹنا، روکنا غرض کہ کسی بھی صورتحال میں موٹر سائیکل پر اچھی گرفت رکھتے ہوئے سفر کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔ یوں آپ ایسی سڑک کے کناروں سے باآسانی گزر سکتے ہیں کہ جہاں بڑی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوں۔

ٹیکس اور رجسٹریشن

چونکہ 50cc موٹر سائیکلوں کا شمار چھوٹی انجن والی سواریوں میں کیا جاتا ہے اس لیے ان پر عائد ٹیکس اور رجسٹریشن دونوں ہی کی فیس بھی بہت کم ہوتی ہے۔ درحقیقت حکومت کو 50cc موٹر سائیکلوں کے مالکان کو مزید چھوٹ دینی چاہیے تاکہ اس طرز کی سواریاں زیادہ مقبول ہوسکیں۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں طویل عرصے تک 50cc موٹر سائیکلیں زیر استعمال رہی ہین جن میں سے ہونڈا سُپر کب کا نام سب سے نمایاں ہے۔ چاہے یہ ہونڈا (Honda) ہو یا ویسپا اگر پاکستان میں 50cc موٹر سائیکلوں کو دوبارہ متعارف کروایا جائے تو مجھے یقین ہے کہ یہ ضروری کامیاب ہوں گی۔

Top