ڈرائیونگ کے دوران کی جانے والی 5 سنگین غلطیاں

car driving mistakes

کہتے ہیں غلطی انسان ہی سے ہوتی ہے۔ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ ہر شخص خود کو انسان ثابت کرنے کے جان بوجھ کر غلطیاں کرے۔ بالخصوص ایسی غلطیوں سے بچنا چاہیے کہ جن سے نہ صرف غلطی کرنے والے بلکہ دیگر لوگوں کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑے۔ انہی میں سے ڈرائیونگ کی جانے والی غلطیاں بھی ہیں جن سے ہر صورت اجتناب کی کوشش کرنی چاہیے۔ گاڑی کا اسٹیئرنگ تھامنے یا موٹر سائیکل کا ہینڈل سنبھالنے والا شخص جب جب کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا خمیازہ سب سے پہلے خود اسے ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ اور اگر غلطی کی نوعیت سنگین ہو تو پھر اس کا نتیجہ نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔

سب سے زیادہ قابل افسوس امر یہ ہے کہ اکثر سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ ہر ڈرائیور کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ذمہ دار قرار دے چاہے غلطی اپنی ہی کیوں نہ ہو۔ عام طور پر گاڑی چلاتے ہوئے ڈرائیور حضرات سے سرزد ہونے والی غلطیاں یہ ہیں:

عدم توجہی سے گاڑی چلانا

گاڑی چلانا صرف ضرورت یا شوق کا نام نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری بھی ہے۔ سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے کسی دوسرے کام میں مشغول ہو کر نہ صرف آپ اپنی جان بلکہ دیگر افراد کو بھی خطرات کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ اس لیے حد درجے کوشش کریں کہ دوران ڈرائیونگ موبائل فون سے کال یا ایس ایم ایس کرنے، بار بار ریڈیو چینل تبدیل کرنے، بچوں یا پالتو جانوروں کو سنبھالنے یا خود کو سنوارنے (میک اپ کرنے) جیسے کاموں سے پرہیز کیا جاسکے۔ یہ اور ان جیسے دیگر بہت سے کام آپ گاڑی پر سفر کرنے سے قبل یا پھر اپنی منزل پر پہنچ کر بھی کرسکتے ہیں۔ اور اگر دوران سفر کوئی بہت ضروری فون کال سننی بھی ہو تو پہلے گاڑی کو ایک کنارے پر پارک کریں اور فارغ ہونے کے بعد مکمل اطمینان اور توجہ کے ساتھ دوبارہ سفر شروع کریں۔

یہ بھی پڑھیں: دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال – ایک جان لیوا عمل

using-mobile-driving

بغیر اشارے کے موڑ کاٹنا اور بار بار لین تبدیل کرنا

سفر کے دوران گاڑی کی رفتار کے مطابق لین پر چلیں۔ اگر دائیں یا بائیں مڑنا مقصود ہو تو ہمیشہ انڈیکیٹر کے ذریعے دیگر ڈرائیوروں کو اپنے ارادے سے آگاہ کریں۔ گاڑی موڑنے کے لیے سڑک ختم ہونے یا موڑ آنے کا انتظار نہ کریں بلکہ جس جانب مڑنا ہو اسی لین پر جلد از جلد گاڑی لے جائیں۔ یاد رہے کہ لین تبدیل کرتے ہوئے بھی انڈکیٹر کا استعمال کرنا چاہیے خاص طور پر ایسی شاہراہوں پر کہ جہاں بیک وقت کئی لینز پر ٹریفک کی آمد و رفت تیزی سے جاری ہو۔

مخالف سمت میں سفر کرنا

قابل افسوس امر ہے کہ مخالف سمت میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کو قعطاً برا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے بہترین “شارٹ کٹ” خیال کیا جاتا ہے۔ ان شاہراہوں پر کہ جہاں یو-ٹرن طویل فاصلے پر موجود ہے اکثر و بیشتر ڈرائیور ایندھن اور وقت بچانے کے لیے مخالف سمت میں سفر کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ یہ نہ صرف خود ان کے لیے بلکہ اس روڈ پر آنے والی ہر گاڑی اور موٹر سائیکل کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا معمولی ترین نقصان ٹریفک کی بدنظمی کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے بڑے نقصانات کی بات کریں تو یہ عمل کسی کی قیمتی جان بھی لے سکتا ہے۔

wrong-way-driving

اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ نہ رکھنا

غیر ضروری رفتار یا جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کو اگلی سواری سے بالکل ملا کر چلانا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بڑی شاہراہوں پر کسی بھی ایک گاڑی کے اچانک خراب ہوجانے، ٹائر پھٹ جانے یا کسی بھی دوسری وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر دو گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ نہ ہو تو محض ایک ڈرائیور کی چھوٹی سی غلطی بڑے پیمانے پر گاڑیوں کے تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ لہٰذا طویل شاہراہوں پر کہ جہاں ٹریفک کی روانی بہت تیز ہو اگلی گاڑی سے کم از کم تین سیکنڈ کا فاصلہ رکھنا بہت ضروری ہے۔ برسات کے موسم میں یہ فاصلہ حسب ضرورت بڑھا لینا چاہیے۔

مزید پڑھیں: دورانِ سفر “تین سیکنڈ کا قاعدہ” بڑے حادثات سے محفوظ رکھ سکتا ہے

سیٹ بیلٹ باندھے بغیر سفر کرنا

ڈرائیونگ کے دوران معمولی سا حادثہ سب سے پہلے ڈرائیور ہی کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ڈرائیور سمیت تمام ہی مسافر ہر ممکن حفاظتی تدابیر کے ساتھ گاڑی میں سفر کریں۔ اس میں سب سے اہم اور بنیادی چیز سیٹ بیلٹ کا استعمال ہے جو حادثے کی صورت میں ڈرائیور کے جسم کو ناقابل تلافی نقصان سے بچانے میں مددگار ہے۔ ان کے استعمال سے ڈرائیور اور دیگر مسافر کسی دوسری چیز سے ٹکرا کر زخمی ہوجانے یا پھر گاڑی سے باہر جاگرنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ گو کہ اب بہت سی گاڑیوں میں ایئر بیگز بھی شامل ہیں تاہم اس سے سیٹ بیلٹس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ ماہرین کے خیال میں سیٹ بیلٹس کی مدد سے ایئر بیگز کی افادیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں سیٹ بیلٹ کے قانون پر سختی سے عمل کروایا جاتا ہے۔

seat-belts

Asad Aslam

A PakWheeler with a degree in mass communication. He tweets as @masadaslam

Top