اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل (SUV) کے 5 اہم ترین پہلوؤں کا جائزہ


گزشتہ چند سالوں کے دوران دنیا بھر میں اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل (SUV) طرز کی گاڑیاں شہرت کی نئی بلندیوں کو چھونے لگی ہیں۔ اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل میں صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کار ساز اداروں نے بھی ان کی تیاری پر خاصی توجہ سے کام کیا ہے۔ مختلف ممالک میں کئی طرح کی SUVs پیش کی جارہی ہیں جن میں عام روایتی گاڑیوں جتنی چھوٹی SUVs سے لے کر بھاری بھرکم ٹرک جیسی SUVs تک شامل ہیں۔ البتہ اوسط سائز کی SUVs کو اضافی گنجائش، طاقتور انجن، جدید سہولیات اور ایندھن بچانے کی صلاحیت کی وجہ سے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ البتہ چھوٹی SUVs چونکہ قیمت کے اعتبار سے اکثریت کے لیے قابل خرید ہوتی ہیں اس لیے ان کی بھی شہرت کم نہیں کہی جاسکتی۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے شوقین افراد بھاری بھرکم SUVs کو پسند کرتے ہیں جن میں صرف گنجائش ہی نہیں بلکہ انجن کی طاقت اور رفتار بھی بہت زیادہ ہو۔

ایک عام روایتی گاڑی کے مقابلے میں SUV طرز کی گاڑی کو پرکھا جائے تو یہ کئی اعتبار سے مختلف نظر آئی گی۔ پھر موجودہ دور میں ان کی مانگ میں اضافے نے کار ساز اداروں کو اپنی SUVs کو بہتر سے بہتر بنانے پر بھی مجبور کیا۔ دیگر ممالک کی طرح یہ رجحان پاکستان میں بھی فروغ پا رہا ہے۔ اگر آپ مستقبل قریب میں SUV خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کے لیے چند بنیادی باتیں جان لینا ضروری ہیں۔ اس مضمون میں SUVs سے متعلق اہم ترین باتوں کا احاطہ کیا جارہا ہے جس سے خریداروں کو اپنی ضرورت کے مطابق گاڑی کے انتخاب میں آسانی میسر آئے گی۔

SUVs کے زمرہ جات

گاڑیوں کے شعبے میں مخصوص اداروں کی اجارہ داری، گاڑیوں کی فروخت میں سست رفتار ترقی اور آٹو پالیسی کی تیاری اور نفاذ میں غیر معمولی تاخیر کے باعث بہت کم گاڑیاں پاکستان میں متعارف کروائی جاتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹویوٹا فورچیونر کے علاوہ کوئی بھی SUV فی الوقت پاکستان میں تیار نہیں کی جارہی۔ یہاں دستیاب تمام ہی SUVs بیرون ممالک سے تیار شدہ حالت میں درآمد کر کے فروخت کی جارہی ہیں۔ چونکہ قومی اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر بھاری ٹیکس عائد ہے اس لیے یہاں دستیاب SUVs کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔

بہرحال، ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی مد میں دی جانے والی رعایت سے چھوٹی SUVs کو عوام تک رسائی حاصل کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔ میری معلومات کے مطابق سال 2013 میں CNG گاڑیاں رکھنے والے افراد کو 1800cc سے کم انجن والی ہائبرڈ گاڑیوں بغیر کسی ڈیوٹی درآمد کرنے کی خصوصی رعایت دی جارہی تھی۔ اس کا مقصد CNG گاڑیوں کی جگہ ہائبرڈ گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا تھا۔ سال 2013 میں پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ میں برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد ڈیوٹی یوں تقسیم کی گئی:
– 1200cc اور اس سے کم انجن والی گاڑیوں پر کوئی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس نہیں
– 1201cc سے 1800cc انجن والی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی میں 50 فیصد رعایت
– 1801cc سے 2500cc انجن والی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی میں 25 فیصد رعایت
– 2501cc اور زائد قوت والے انجن پر کوئی رعایت نہیں

خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ان گاڑیوں پر دی جانے والی رعایت میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاہم حکومت نے ایسا کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا۔

بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم SUVs کو تین زمرہ جات میں تقسیم کرسکتے ہیں:
– چھوٹی SUVs: 1800cc سے کم انجن کی حامل
– اوسط SUVs: 1800cc سے 4000cc انجن کی حامل
– بڑی SUVs: 4000cc سے زائد قوت والے انجن کی حامل

SUVs کی قیمتیں

یہ وہ امر ہے کہ جس کی وجہ سے آج چھوٹی SUVs کو سیڈان گاڑیوں کے مدمقابل سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ تقریباً مساوی قیمت میں اضافی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ عام طور پر SUVs میں گاڑی کا فرش زمین سے بہت زیادہ اونچا ہوتا ہے۔ SUVs کو طرز تخلیق کی بنیادی پر دو حصوں – کراس اوور اور کنوینشنل – میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مختصر اس تقسیم کو بیان کی جائے تو کراس اوور دراصل چھوٹے سائز کی SUVs ہوتی ہیں جنہیں چلانا نسبتاً زیادہ آسان ہوتا ہے جبکہ کوینشنل SUVs بھاری بھرکم، طاقتور اور بڑے پلیٹ فارم پر تیار کی جاتی ہیں اور انہیں گنجان آباد شہروںمیں چلانا قدرے مشکل کام ہوتا ہے۔

پاکستانی مارکیٹ میں دستیاب SUVs پر نظر ڈالیں تو سب سے کم قیمت گاڑیوں میں نسان جیوک اور ٹویوٹا رش کا نام نمایاں نظر آئے گا۔ ان دونوں درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمت 18 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ جبکہ مہنگی ترین SUVs کی بات کریں تو اس میں رینج رُووَر وگیو وغیرہ سرفہرست نظر آئیں گی جن کی قیمت 35 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ پاکستان میں مقبول ترین SUVs کی فہرست بنائی جائے تو اس میں ہونڈا کراس روڈ، ٹویوٹا رش، ڈائی ہاٹسو ٹیریوس، نسان جیوک، ہونڈا وزل، آوڈی Q سیریز، ہونڈا CR-V، ٹویوٹا پراڈو، بی ایم ڈبلیو X سیریز، ٹویوٹا فورچیونر، نسان X-ٹریل، پورشے کیان، پورشے ماکان، رنج روور وگیو، رینج روور اسپورٹ، رینگ روور ایویکیو، لینڈ کروزر اور مٹسوبشی کا نام ضرور شامل ہوگا۔

ایندھن کی کھپت

زیادہ تر SUVs انٹرنل کمبسشن انجن یا پھر ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔ روایتی گاڑیوں کے برعکس نہ صرف SUVs کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے بلکہ ان کا انداز میں ایروڈائنامکس اصولوں کو کم ہی خاطر میں لایا جاتا ہے۔ لہٰذا روایتی انجن والی SUV خریدنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ان میں ایندھن کی کھپت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر آپ 3-سلینڈر، 4-سلینڈ، 6-سلینڈ یا 8-سلینڈر والے انجن کی حامل SUV خریدنے جاتے ہیں تو ایندھن پر ہونے والے اضافی اخراجات کے لیے بھی تیار رہیں۔ تاہم جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ اب کئی ایک ٹیکنالوجیز مثلاً ہائبرڈ کی شکل میں کم ایندھن میں زیادہ سفر کی سہولت دستیاب ہوچکی ہے اس لیے اب اس ٹیکنالوجی کی حامل SUVs بھی ایندھن بچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہائبرڈ SUVs روایتی انجن والی گاڑیوں سے کافی مہنگی ہوتی ہیں اور ان کی رفتار بھی بہت زیادہ نہیں ہوتی کیوں کہ ان میں AWD کی جگہ 4WD کی سہولت پیش کی جاتی ہے۔

Fuel Consumption

2WD، 4WD اور AWD میں فرق

انہیں آپ اپنی سہولت کے لیے “آسان”، “مشکل” اور “بہت مشکل” قرار دے سکتے ہیں۔ اگر آپ عام طور پر شہر کے اندر ہی سفر کرتے ہیں تو 2WD آپ کے لیے مناسب رہے گا۔ AWD کل وقتی نظام ہے جو زیادہ تر کراس اوورز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اسے استعمال کرتے ہوئے آپ بہت زیادہ برق رفتار سے گاڑی بھگا نہیں سکتے۔ آخر میں آتا ہے 4WD جو دور دراز علاقوں میں سفر کرنے کے لیے تیار کی جانے والی گاڑیوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑی کی دیکھ بھال اور مرمت وغیرہ پر آنے والے اخراجات کی بات کریں تو 4WD سب سے زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔ اگر آپ کو لمبے اور کٹھن راستوں پر سفر کرنے کا شوق ے تو 4WD اس کے لیے بہت ضروری ہے۔ بصورت دیگر 2WD آپ کے لیے کافی ہے جس سے پیٹرول اور ایندھن کا خرچہ بھی کم رہے گا۔ اکثر لوگ AWD اور 4WD کو ایک ہی نظام سمجھتے ہیں۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ذیل میں AWD اور 4WD کو تفصیل سے بیان کر رہا ہوں:

4WD vs AWD

4WD – یہ ایک جزوقتی نظام ہے جسے استعمال کرنے پر گاڑی اگلے اور پچھلے پہیوں کی یکساں قوت سے چلتی ہے۔ یوں تمام پہیے گاڑی کو چلانے میں 25، 25 فیصد قوت فراہم کرتے ہیں بشرطیکہ وہ زمین سے جڑے ہوئے ہوں۔ طویل شاہراہوں اور ہائی ویز پر 4WD استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیوں کہ اس سے گاڑی کے اہم پرزوں مثلاً ایکسل، گیئر باکس وغیرہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے۔

AWD – ایک کل وقتی نظام ہے جسے عام شاہراہوں پر سفر کے دوران بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام کو تیار کرنے کا مقصد پتھریلے اور زیر آب رستوں پر گاڑی کو بہتر انداز میں سفر کرنے کے قابل بنانا ہے۔اولذکر کی طرح اس نظام میں بھی گاڑی کا ہر پہیہ 25، 25 فیصد قوت فراہم کرتا ہے۔ 25 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زائد رفتار پر یہ نظام بہترین کام کرتا ہے۔تاہم اس سے کم رفتار اور اونچی نیچی سڑکوں ریتیلے علاقوں اور کیچڑ وغیرہ میں اس نظام کی کارکردگی زیادہ قابل ذکر نہیں رہتی۔ آٹو میٹک ٹریکشن اور بریک اسسٹ کی شمولیت سے گاڑی کی کارکردگی مزید متاثر ہوتی ہے۔ شاید بہت سے قارئین نے AWD گاڑیوں میں عجیب و غریب آواز سے متعلق شکایات سن رکھی ہوگی۔ یہ آواز اس وقت سنائی دیتی ہے کہ جب AWD گاڑی مٹی میں چلائی جائے اور اس کا آٹومیٹک ٹریکشن کنٹرول ازخود فعال اور غیر فعال ہونے لگے۔ اس کی وجہ سے اکثر اوقات AWD گاڑیاں مٹی میں پھنس جاتی ہیں اس لیے انہیں کیچڑ اور ریگستانی علاقوں میں استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

حفاظتی سہولیات

چونکہ SUVs روایتی گاڑیوں سے زیادہ اونچائی کی حامل ہوتی ہیں اس لیے ثقل کا مرکز بھی زیادہ اونچا ہوتا ہے جس سے گاڑی کے الٹ جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وزن میں زیادہ ہونے کی وجہ سے بریک لگانے پر گاڑی فوراً نہیں رکتی بلکہ کچھ فاصلے پر جا کر رک پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر SUVs میں بنیادی حفاظتی سہولیات جیسا کہ ایئر بیگز، اینٹی لاک بریکس (ABS)، عقب میں کیمرہ، لین کی خلاف ورزی پر انتباہ کے علاوہ حادثے کی صورت میں مسافروں کو محفوظ رکھنے کے لیے کرمپل زون بھی شامل کیا جاتا ہے۔

Crash Test

اپنی منفرد خصوصیات کے باعث تیزی سے شہرت پانے والی SUVs کو اب پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگر کار ساز اداروں کی کوششیں برآور ثابت ہوئی تو اس سے نہ صرف ملک اور عوام کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ SUV طرز کی گاڑیوں کی قیمتوں اور مرمت وغیرہ پر آنے والے اخراجات میں بھی واضح کمی آئی گے۔


Top