پاکستان میں سرمایہ کاری: غیر ملکی ادارے ہچکچاہٹ کا شکار کیوں؟

Foreign Auto-Manufacturers reluctant to enter in Pakistan

گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت نے کئی ریکارڈ توڑ ڈالے۔ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے مطابق صرف سال 2015 میں مقامی کار ساز اداروں نے مجموعی طور پر 1,79,944 گاڑیاں تیار اور فروخت کیں۔ یاد رہے کہ دیگر ممالک سے منگوائی جانے والے گاڑیوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ رہی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی طلب کس قدر زیادہ ہے۔

طلب اور رسد کے فرق کو مزید واضح کرنے کے لیے یہاں ٹویوٹا انڈس موٹرز کی مثال بھی سامنے رکھتے ہیں کہ جو سال 2014 سے اپنی مکمل استعداد کے ساتھ گاڑیوں کی تیاریوں میں مصروف ہے لیکن اس کے باوجود سینکڑوں صارفین کو اپنی ٹویوٹا گاڑی حاصل کرنے کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر ادارے ملکی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کودیکھتے ہوئے بھی یہاں کاروبار شروع کرنے پر ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ اس کا ایک سادہ سا جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں قائم جاپانی اداروں سوزوکی، ٹویوٹا اور ہونڈا کی طویل اجارہ داری کی وجہ سے کوئی بھی نیا ادارہ یہاں قدم رکھتے ہوئے ناکامی کا خوف محسوس کر رہا ہے۔ لیکن صرف ایک یہی معاملہ نہیں بلکہ بہت سے دیگر امور بھی درپردہ غیر ملکی اداروں کی پاکستان آمد کی راہ میں حائل ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں نئی BMW X1 متعارف؛ قیمت صرف 40 لاکھ روپے

mehran corolla civic car sales

حال ہی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے فرانس کا دورہ کیا اور وہاں موجود کاروباری اداروں بشمول گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو نئی آٹو پالیسی میں دی جانے والی رعایت سے استفادہ حاصل کرنے کی طرف راغب کیا جائے۔ یاد رہے کہ پنچ سالہ آٹو پالیسی میں نئے اداروں کو ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر کئی مراعات دی گئی ہیں۔ میں نے اس بارے میں مزید جاننے کے لیے گاڑیوں کے شعبے پر گہری نظر رکھنے والے ایک ماہر سے رابطہ کیا اور ان سے دریافت کیا کہ غیر ملکی اداروں کی پاکستان آمد کے کتنے امکانات ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں برانڈ کی شہرت کو اہمیت دی جاتی ہے اور نئے اداروں کو یہاں قدم رکھنے کے لیے بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرنا ہوگا تبھی وہ عوام الناس میں اپنی جگہ بنانے اور مستقبل میں اپنا کاروباری جاری رکھ سکیں گے۔

موجودہ صورتحال میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیرون ملک سے بنی بنائی گاڑیاں منگوا کر فروخت کی جائیں تو CBUs پر عائد بھاری بھرکم ڈیوٹی کی وجہ سے ان کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف کارخانہ لگانے کی بات کی جائے تو دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ادارے کو اس کے لیے بہت سا وقت اور سرمایہ درکار ہوگا۔ علاوہ ازیں نئے سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کی سیاسی صورتحال بھی ناقابل بھروسہ ہے۔ ایسے میں شعبے کے ماہرین کا یہی خیال ہے کہ اگر حکومت نئے اداروں پالیسیوں میں تسلسل کی ضمانت دے اور بین الاقوامی کار ساز اداروں کو ٹیکس کی چھوٹ یقینی بنائے تو بہت سے ادارے پاکستان آمد کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: رینالٹ اور پیجیو کو سرمایہ کاری کی دعوت؛ فرانسیسی اداروں کا مثبت جواب

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں گاڑیوں کے انتہائی محدود ماڈلز دستیاب ہیں اور یہاں موجود صارفین اور شوقین افراد نت نئی گاڑیوں کی راہ تک رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فرانسیسی، جرمن یا امریکی ادارے مثلاً پیجی، رینالٹ، ووکس ویگن اور فیات کے لیے یہاں کاروبار کرنے کی کتنی گنجائش موجود ہے۔

We all make mistakes in life but I believe in learning from them and that is why I have opted to become an auto-journalist. I have a tech background but I prefer to write and express my views on cars because I am petrol head.

Top