مزدا Rx8 کے روٹری انجن کی دیکھ بھال سے متعلق تجاویز

Mazda Rx8

اگر دنیا میں دستیاب سب سے زیادہ قابل اعتبار گاڑیوں کے انجن کی فہرست بنائی جائے تو اس میں روٹری انجن بھی شامل ہوگا۔ البتہ کارکردگی تسلی بخش رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مناسب دیکھ بھال بھی کی جاتی رہے۔ عام پسٹن انجن کے برعکس روٹری انجن چلنے کے دوران اس میں بہت کم پرزے حرکت کرتے ہیں۔ مزدا Rx8 کا شمار سب سے زیادہ درآمد کی جانے والی اسپورٹس کارز میں کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مزدا Rx8 میں شامل چھوٹا انجن ہے جس پر ٹیکس بھی کم عائد ہوتا ہے۔ تو اگر آپ بھی روٹری انجن والی گاڑی کے مالک ہیں تو ذیل میں چند تجاویز ملاحظہ فرمائیں جن پر عمل کر کے آپ اپنی گاڑی کو بیچ روڈ پر خراب ہوجانے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ویلز کار شیور: استعمال شدہ گاڑی جانچنے کا آسان طریقہ

انجن آئل بروقت تبدیل کریں

تمام ہی گاڑیوں کے انجن آئل بروقت تبدیل کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی آپ کو بڑی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ انجن میں نیا آئل ڈالنے سے پہلے پرانے آئل کو اچھی طرح صاف کرنا اور معیاری آئل کا انتخاب کرنا چاہیے۔ روٹری انجن اور ایک عام انجن میں آئل مختلف طریقے سے استعمال ہوتا ہے۔ جاپانی ادارہ مزدا (Mazda) گاڑیوں کے لیے اپنا تیاری کردہ مزدا 5W30 ڈیکسیلیا الٹرا انجن آئل تجویز کرتا ہے۔ دیگر ممالک میں روٹری انجن کے ماہرین کسی بھی معیاری کمپنی کا 10W40 آئل بھی تجویز کرتے ہیں۔ البتہ پاکستان میں عام طور پر 20W50 منرل آئل تجویز کیا جاتا ہے۔ روٹری انجن کی حامل مزدا گاڑیوں میں ہر 3 ہزار کلومیٹر کے بعد آئل تبدیل کروالینا چاہیے۔ چونکہ ہمارے یہاں دستیاب پیٹرول اور ڈیزل اتنا معیاری نہیں ہوتا اس لیے بہتر یہی ہے کہ آئل کی تبدیل کا خاص خیال رکھا جائے۔ اس کے علاوہ بھی وقت ملنے پر انجن آئل پر نظر رکھنی چاہیے کیوں کہ ہر بار گاڑی چلانے پر انجن آئل خرچ ہوتا رہتا ہے۔

پاک ویلز کے ذریعے: اپنی گاڑی کے لیے بہترین انجن خریدیں

کولنگ و دیگر عوامل

چونکہ روٹری انجن عام گاڑیوں میں موجود پسٹن انجن سے مختلف ہوتا ہے اس لیے زیادہ توجہ اور دیکھ بھال بھی چاہتا ہے۔ خراب اور غیر مناسب کولنگ روٹری انجن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ روٹری انجن کی حامل گاڑیوں میں ہمیشہ بہترین کولنٹ استعمال کرنا چاہیے اور اس کی کارکردگی پر بھی نظر رکھنی چاہیے تاکہ کسی بھی صورتحال میں روٹری انجن کا درجہ حرارت بہت زیادہ نہ بڑھ جائے۔ عام پسٹن انجن پھر بھی درجہ حرارت میں اضافے کوکسی حد تک برداشت کرلیتا ہے لیکن روٹری انجن کے لیے اضافی درجہ حرات میں کام کرنا ممکن نہیں رہتا۔

wankel-engine

اس کے علاوہ روٹری انجن والی گاڑیوں میں ہر 10 ہزار کلومیٹر بعد اسپارک پلگز بھی جانچ لینا چاہیے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ پسٹن انجن کے مقابلے میں روٹری انجن زیادہ کاربن جمع کرتا ہے جس کی وجہ سے ایپکس سیلز خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ صفائی کے دوران انجن کو چلا کر بھی دیکھیں اور تصدیق کرلیں کہ کاربن انجن کے کونے کھدروں میں جمع نہ رہ جائے۔

Spark plugs for a rotary engine.

روٹری انجن کے اسپارک پلگز

ہر بار انجن آئل تبدیل کرنے کے بعد ایئر فلٹر بھی ضروری دیکھیں۔ اس کے علاوہ انجن کے آس پاس کسی بھی قسم کی گریس ، تیل یا کسی بھی پانی جیسی چیز نظر آئے یا گیراج میں گاڑی کے نیچے سے تیل ٹپکنے کی شکایت محسوس کریں تو اس معاملے کو نظر انداز نہ کریں بلکہ فوراً کسی اچھے مکینک سے رجوع کریں۔

روٹری انجن کا کمپریشن ٹیسٹ

Mazda Rx8پسٹن انجن میں دباؤ پیدا کرنے کے لیے پسٹن اسپارک پلگ کی جانب اوپر حرکت کرتا ہے جبکہ روٹری انجن میں یہ کام ایپکس سیلز کرتی ہیں۔ یہ ایپکس سیلز چھوٹے بلیڈ ہوتے ہیں جو روٹر کے تین کونوں سے جڑ کر ایک مثلث بناتے ہیں۔ یہ سیلز اندر موجود سلنڈر سے ربط قائم رکھتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کے جڑاؤ میں فرق آجاتا ہے جس کی وجہ سے کمپریشن کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ اپنے انجن کا کمپریشن ٹیسٹ ضرور کروائیں۔ ایک مناسب روری انجن کے PSI درج ذیل ہیں:
عام کمپریشن : 110-150 PSI
کم از کم قابل قبول کمپریشن: 75 PSI

روٹری انجن بھی پسٹن انجن کی طرح قابل اعتبار ہے۔ چونکہ اس کی تیاری اور کام کرنے کا طریقہ قدرے مختلف ہے اس لیے اس کی ضروریات اور دیکھ بھال کی شرائط بھی مختلف ہیں۔

An automotive engineer by profession and writer by passion. She is development engineer at NISSAN by day and a blogger, activist and speaker by night.

Top