گندھارا نسان نے نئی گاڑیاں متعارف کروانے کی منصوبہ بندی شروع کردی

nissan-pakistan

گندھارا نسان لمیٹڈ نے آئندہ سال 2017 میں نئی گاڑیوں کی تیاری سے متعلق منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے۔ اس ضمن میں نسان جاپان، گندھارا نسان پاکستان، رینالٹ (رینو) اور الفطیم گروپ UAE کے ایک وفد نے وفاقی وزیر مفتا اسماعیل سے اہم ملاقات کی۔ گزشتہ روز (بدھ) کو ہونے والی اس ملاقات کے دوران گندھارا نسان نے پاکستان میں ڈاٹسن (Datsun) برانڈ کے تحت نئی گاڑیوں کی تیاری و فروخت کے حوالے اظہار دلچسپی کرتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی پیش کی۔

گندھارا نسان لمیٹڈ کا کارخانہ گزشتہ چند سالوں کے دوران سِگما موٹرز کے زیر استعمال رہا ہے۔ سِگما موٹرز کی جانب سے گزشتہ سال تک اس کارخانے میں لینڈ روور ڈیفینڈر تیار کی جاتی رہی۔ اس سے قبل 1999 میں گاڑیوں کی تیاری بند کرنے کے بعد یہ کارخانہ انتہائی مختصر عرصے کے لیے (2007 تا 2009) نسان کے بھی زیر استعمال کرچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آوڈی پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری پر غور کرے گا

یاد رہے کہ نئی آٹو پالیسی برائے 2016 تا 2021 کی منظوری سے پہلے بھی نسان اور رینالٹ کے نمائندگان حکومتی عہدیداروں سے ملاقات میں نئی گاڑیاں پیش کرنے سے متعلق دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں۔ نئی آٹو پالیسی میں ایسے اداروں کے لیے بھی مراعات شامل کی گئی ہیں جن کے کارخانے طویل عرصے سے گاڑیوں کی تیاری میں مصروف نہیں۔ گندھارا نسان (Nissan) کا شمار بھی انہی اداروں میں کیا جاتا ہے جنہیں کیٹگری B میں رکھا گیا ہے۔ اس زمرے میں شامل اداروں کو اپنے کارخانے دوبارہ کھولنے کے لیے ڈیوٹی میں کٹوتی اور دیگر رعایتیں دی گئیں ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا شمار متوسط طبقے کی سب سے بڑی آبادی والے پانچ ممالک میں کیا جاتا ہے اور سال 2025 تک 10 کروڑ افراد اس طبقے کا حصہ بن جائیں گے۔ یہ نئے کار اداروں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ آئیں اور پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے میں کامیاب کاروبار کا آغاز کریں۔

نئی آٹو پالیسی کے تحت کیٹگری B میں شامل ادارے آئندہ تین سال تک غیر-مقامی پرزوں کی درآمد پر 10 فیصد جبکہ مقامی پرزوں کی درآمد پر صرف 25 فیصد ڈیوٹی ادا کریں گے۔ بلاشبہ یہ بہترین موقع ہے کہ جس سے نہ صرف نسان بلکہ ہیونڈائی اور کِیا موٹرز بھی بھرپور استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔

Top