حکومت مراعات دے یا عوام نئی گاڑی کا خواب دیکھنا چھوڑدیں: پاک سوزوکی

pak suzuki celerio alto

پاکستان میں سب سے زیادہ گاڑیاں فروخت کرنے والے ادارے پاک سوزوکی موٹر کمپنی (PSMC) نے مستقبل قریب میں نئی گاڑیوں کی پیشکش کے امکانات کو رد کردیا ہے۔ پاک سوزوکی کا موقف ہے کہ نئی پنج سالہ آٹو پالیسی میں موجودہ کار ساز اداروں کو بھی وہی مراعات فراہم کی جائیں جو نئے اداروں کو دی گئی ہیں۔ کار ساز ادارے نے اپنی تمام تر سرمایہ کاری کو بھی آٹو پالیسی 2016-21 میں مطلوبہ ترامیم سے مشرط کردیا ہے۔

انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے پاک سوزوکی کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے کسی بھی گاڑی کی پیشکش یا مقامی سطح پر تیاری شروع کرنے سے متعلق اعلان نہیں کیا۔ پاکستان میں سوزوکی سیلیریو کی آمد سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ سال مارچ 2017 تک سوزوکی سلیریو کی پیشکش (تقریباً) ناممکن ہے۔ انہوں نے پاک سوزوکی کا موقف دہراتے ہوئے باور کروایا کہ وہ اب بھی آٹو پالیسی میں ترامیم کے مطالبے پر قائم ہیں اور اس ضمن میں چند ماہ قبل حکومت کو اپنی تجایوز بھی ارسال کرچکے ہیں تاہم حکومت نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں: نئی آٹو پالیسی پر بگ تھری ناراض؛ سوزوکی اور ٹویوٹا کے حصص بھی متاثر

یاد رہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے گزشتہ جمعرات پاک سوزوکی کے کار ساز کارخانے کا دورہ کیا تھا اور وہاں ادارے کے عہدیداران سے ملاقات بھی کی تھی۔ ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات میں پاک سوزوکی نے مستقبل کا لائحہ عمل پیش کیا جس میں آئندہ سال 2017 میں سوزوکی کلٹس کی جگہ سوزوی سلیریو اور سال 2018 میں سوزوکی مہران کی جگہ نئی سوزوکی آلٹو 660cc پیش کیے جانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاک سوزوکی نے بیرون ملک سے درآمد شدہ نئی سوزوکی گرینڈ ویتارا SUV اور 1300cc سوزوکی سیاز بھی پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں سال پیش کی جانے پنچ سالہ آٹو پالیسی برائے 2016-2021 میں نئے سرمایہ کاروں کے لیے مختلف مراعات رکھی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پیش کیے جانے کے بعد پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے ادارے پاک سوزوکی، ٹویوٹا انڈس موٹرز اور ہونڈا ایٹلس متعدد مرتبہ غم و غصے کا اظہار کرچکے ہیں۔ اس ضمن میں پاک سوزوکی کا رویہ انتہائی شدید نوعیت کا ہے۔ اس سے قبل پاک سوزوکی نے حکومت کو آٹو پالیسی پر نظر ثانی کا مشورہ دیتے ہوئے دھمکایا تھا کہ اگر موجودہ کار ساز اداروں کو مراعات سے محروم رکھا گیا تو وہ سرمایہ کاری کے منصوبے پاکستان سے باہر منتقل کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک سوزوکی نئی آٹو پالیسی سے ناخوش؛ سلیریو کی آمد مشکوک ہوگئی

Top