حکومت نے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی

petrolium-prices-in-pakistan

حکومت نے ایک بار پھر چونکاتے ہوئے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ اس میں چونکانے والی بات کیا ہے؟ اعدادوشمار کے مطابق حکومت پچھلے چند ماہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ مزید مخصوص ہو کر بات کی جائے تو حکومت نے پچھلے تین ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ نومبر میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 64.2 روپے تھی جسے مارچ میں 73 روپے فی لیٹر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 10 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کی نومبر میں 72.52 روپے فی لیٹر کی قیمت کو بڑھا کر مارچ میں 82 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ لیکن کیا یہ ایک بری چیز ہے؟ جی بالکل ہے، کیونکہ پیڑولیم مصنوعات میں سے پیٹرول ملک بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور اس میں زرا سا اضافہ اس سے منسلک تمام کاروباروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کا باعث بنتا ہے جن میں سے ایک ٹرانسپورٹیشن ہے۔ لیکن میں حتمی دلائل دینے سے پہلے اوگرا کی سمری پر بات کرتے ہوئے کچھ پوائنٹس اٹھانا چاہوں گا۔

پہلی کہانی:

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ حکومتی عمل کے مطابق ہر ماہ دو بار قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے خواہ وہ اس میں اضافہ ہو یا ریلیف دیا جائے مگر فی الحال اس سے کچھ بھی ریلیف نہیں مل رہا۔ اوگرا بہت سے عوامل کو دیکھتے ہوئے قیمتیں بڑھانے کی ایک سمری بناتا ہے اور یہ تجویز منظوری کے لیے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی وسائل اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بھجوا دیتا ہے۔ میرا زاتی ماننا ہے کہ نتائج کا زیادہ تر انحصار مندرجہ زیل چیزوں پر ہوتا ہے۔

  • پاکستان کا غیر مستحکم سیاسی منظرنامہ
  • عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں  

آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ سیاسی منظرنامہ کا اس سے کیا تعلق ہے؟ تو مختصر یہ کہ یہ کسی بھی حکومت کےلیے ایک حیران کن چال ہوتی ہے۔ اگر پریشر بہت زیادہ بڑھ رہا ہو تو یہ پتہ استعمال کرنے اور سبسڈی کی شکل میں عارضی ریلیف دینے سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ دوسری وجہ جو قابل تعین میٹرکس کے لحاظ سے زیادہ متعلقہ ہے۔ اس بارے میں زرا سوچیں کہ پچھلے چند ماہ میں عالمی مارکیٹ میں اس چیز کی کھپت میں اس کی پیداوار سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں بہتری نظر آتی ہے اور یہ مختلف تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کی باہمی وقفہ وقفہ سے گفتگو کا نتیجہ ہے۔ اور اس سب سے اوپر اوگرا نے عالمی مارکیٹوں میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دیا ہے جسے اس حالیہ ٹیرف پر نظر ثانی کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ جاننا بھی بے حد ضروری ہے کہ اوگرا نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2.96 روپے کا اضافہ تجویز کیا ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی نے فی لیٹر قیمت 2.18 روپے تک بڑھانے کی تجویز دی ہے۔ وحشیانہ طریقے سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے کیروسین آئل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بالترتیب 17.55 روپے اور 10.94 روپے کے اضافہ کی تجویز دی ہے۔ پچھلی نظرثانی میں جس کا اطلاق 16 فروری سے ہوا اس میں حکومت نے صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 1 روپیہ فی لیٹر کے حساب سے اضافہ کیا جبکہ کیروسین آئل اور لائٹ سپیڈ ڈیزل آئل کی قیمتوں کو بغیر تبدیلی کے ویسا ہی رہنے دیا۔ اگر آپ خبریں پڑھتے ہیں تو آپ کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وہ بات یاد ہو گی جس میں انہوں نے پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ وزارت خزانہ 3 بلین روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرے گی تاکہ عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں کے اضافہ کو پوری طرح پاکستانی صارفین پر نہ ڈالا جائے۔ اس بیان کے تناظر میں ہم یہ اخز کر سکتے ہیں کہ حکومت اس قابل ہے کہ اگر چاہے تو ان تجویز کردہ قیمتوں کے اثر کو ٹیکس ریٹ میں ایڈجسٹمنٹ اور سبسڈی فراہم کر کے زائل کر سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال کا خلاصہ:

شروع میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں اب پیسہ کا کوئی کردارنہیں ہو گا۔ اس لیے کیروسین آئل کی نظر ثانی شدہ قیمت 44 روپے فی لیٹر ہو گی جو کہ پہلے 43.25 روپے تھی۔ اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 44 روپے فی لیٹر مختص کی گئی ہے جو کہ پہلے 43.44 روپے فی لیٹر تھی۔ اور روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس ماہ حکومت نے اوگرا کے مہنگائی کرنے کی تجویز سے جزوی طور پر اتفاق کیا ہے، جس نے پیٹرول کی قیمت میں 2.96 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.18 روپے فی لیٹر اضافہ کی تجویز دی تھی۔ پوری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت نے 4 بلین روپے کے اخراجات برداشت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

نئی قیمتیں:

پیٹرول (موٹر آئل\ RON-87) = 73 روپے فی لیٹر

ہائی سپیڈ ڈیزل = 82 روپے فی لیٹر

لائٹ سپیڈ ڈیزل = 44 روپے فی لیٹر

کیروسین آئل = 44 روپے فی لیٹر

Top